حوثیوں کے بحری ناکہ بندی کے اعلان پر سعودی فوجی اتحاد کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کے تحفظ کی یقین دہانی

ریاض/دبئی: یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ سعودی قیادت میں کام کرنے والے فوجی اتحاد نے واضح کر دیا ہے کہ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو ہر قیمت پر تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

حوثی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں سعودی عرب کے خلاف فوری طور پر نافذ العمل بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا۔ ترجمان کے مطابق یہ اقدام "آنکھ کے بدلے آنکھ” کے اصول پر مبنی ہے اور اسے یمن پر مبینہ سعودی محاصرے کا ردعمل قرار دیا گیا۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تقریباً بارہ برسوں سے ان کے زیرِ اثر علاقوں کو زمینی، بحری اور فضائی ناکہ بندی کا سامنا ہے۔ تنظیم نے عوام سے مکمل عسکری تیاری اور محاذوں کی مضبوطی کے لیے متحرک ہونے کی اپیل بھی کی۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے حوثی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مملکت گزشتہ برسوں سے یمنی حکومت کے ساتھ مل کر یمنی عوام کی فلاح کے لیے ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ کی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں شمالی یمن کی بندرگاہوں پر خوراک، ایندھن اور تعمیراتی سامان لے جانے والے تین سو سے زائد جہاز پہنچ چکے ہیں۔ سعودی عرب نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قانون اور بحری حدود سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کنونشن کے مطابق اپنے جہازوں کے دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔

یمن میں سرگرم سعودی قیادت والے فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ آبنائے باب المندب سے گزرنے والے بحری جہازوں کے تحفظ کے اقدامات پہلے ہی شروع کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے کسی بھی بحری جہاز کو دھمکی دینا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور بحری قزاقی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب گزشتہ ہفتے صنعا ایئرپورٹ پر حملے کا الزام سعودی عرب پر لگایا گیا۔ حوثیوں نے جوابی کارروائی میں سعودی شہر ابہا کے ہوائی اڈے کو میزائلوں کا نشانہ بنایا، تاہم اتحادی افواج نے دعویٰ کیا کہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ اس سے قبل چار برس سے قائم نازک جنگ بندی کو حدیدہ میں حوثی اور حکومتی افواج کے درمیان جھڑپوں سے بھی نقصان پہنچا تھا۔

باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے اور سعودی تیل کی برآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے ایشیائی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ ہوئی تو عالمی تیل کی رسد میں سات فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے، جبکہ متبادل راستے کے طور پر جہازوں کو نہر سویز، بحیرہ روم اور براعظم افریقہ کے گرد طویل سفر کرنا پڑے گا۔ صرف اعلان ہی نے بحری بیمہ کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے شپنگ کمپنیوں میں غیریقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

فی الحال کسی جہاز پر براہِ راست حملے کی تصدیق نہیں ہوئی، اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حوثی دھمکی عملی اقدام میں تبدیل ہوتی ہے یا نہیں، یہی اس بحران کا اصل امتحان ہوگا۔ دریں اثنا ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری بتائے جاتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی کچھ امید بھی موجود ہے۔