اسلام آباد: ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی پیر کی شب اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایرانی وزیر کو گلدستہ پیش کیا۔ اس موقع پر ایران کے سفیر رضا امیری مقدم بھی موجود تھے۔
ایرانی وفد میں صوبہ سیستان و بلوچستان کے گورنر جنرل، نائب وزیرِ داخلہ، شہری ترقی و ٹرانسپورٹ کے نائب وزیر، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ اور ایران کے وزیرِ زراعت کے خصوصی نمائندے سمیت متعدد اعلیٰ حکام شامل ہیں، جو دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کریں گے
محسن نقوی نے ایرانی وزیر داخلہ کو "بھائی” کہہ کر خوش آمدید کہا اور امید ظاہر کی کہ یہ دورہ اسکندر مومنی اچھی خبر لے کر آیا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دورے سے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ ملے گا اور علاقائی صورتحال میں بھی پیش رفت کی امید ہے۔ جواب میں اسکندر مومنی نے پاکستان ایران تعلقات کو مثالی قرار دیتے ہوئے پاکستانی حکومت اور عوام کی مہمان نوازی کو سراہا اور کہا کہ وہ ہمیشہ پاکستان کی مہمان نوازی کے معترف رہے ہیں۔
دورے کے دوران ایرانی وزیر داخلہ کی وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی طے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بات چیت میں سرحدی سلامتی میں تعاون، اقتصادی، تجارتی اور زرعی تعلقات کو وسعت دینے جیسے موضوعات ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔ امریکی افواج کی جانب سے ایرانی دفاعی اور بحری تنصیبات پر لگاتار نویں رات حملے کیے گئے، جس کے جواب میں تہران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ خیال رہے کہ پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والا عارضی معاہدہ، جس نے امریکی بحری ناکہ بندی میں کچھ نرمی اور ایران کے لیے تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کی گنجائش پیدا کی تھی، حالیہ کشیدگی سے دباؤ میں آ چکا ہے۔ پاکستان اس سے قبل تمام فریقین پر زور دے چکا ہے کہ اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر عمل درآمد جاری رکھا جائے۔
مبصرین کے مطابق اسکندر مومنی کا دورہ محض دوطرفہ سرحدی و اقتصادی امور تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد پاکستان کی سفارتی ثالثی کو دوبارہ فعال کرنا بھی سمجھا جا رہا ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے، اور اس دورے کے نتائج آنے والے دنوں میں امریکہ ایران کشیدگی میں کمی کے حوالے سے اہم اشارہ دے سکتے ہیں