حنا جاوید قتل کیس: گھریلو ملازم ذیشان کے تین متضاد بیانات، تفتیش میں نیا موڑ

راولپنڈی: تھانہ سول لائن کی حدود میں واقع لال کرتی کے عسکری اپارٹمنٹس میں پیش آنے والے حنا جاوید قتل کیس کی تفتیش نے ایک اہم موڑ لے لیا ہے۔ پولیس تفتیش کے دوران گھریلو ملازم ذیشان کے بیانات میں پائے جانے والے تضادات نے پورے واقعے کی نوعیت کو واضح کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ 45 سالہ حنا جاوید کی لاش گزشتہ ہفتے ان کے اپارٹمنٹ کے باتھ روم سے اس حالت میں برآمد ہوئی تھی کہ ان کے ہاتھ پیچھے کی جانب بندھے ہوئے تھے، منہ پر کپڑا باندھا گیا تھا اور گلے میں لپٹی تار شاور کے ساتھ باندھی گئی تھی۔ ابتدائی طور پر گھر کے مکینوں کی جانب سے پولیس کو اطلاع دی گئی کہ گھر میں نامعلوم افراد گھس آئے تھے، تاہم موقع پر پہنچنے والی پولیس ٹیم کو اس دعوے کی تائید میں کوئی شواہد نہیں ملے۔

مقتولہ کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر امام، سسر اصغر علی فیاض اور گھریلو ملازم ذیشان کو نامزد کیا گیا۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 (قتلِ عمد) اور دفعہ 34 (مشترکہ ارادے سے کیا گیا جرم) کے تحت درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے شوہر اور ملازم کو فوری طور پر تحویل میں لے لیا، جبکہ سسر تاحال مفرور بتائے جاتے ہیں۔

45 سالہ حنا جاوید کی لاش گزشتہ ہفتے ان کے اپارٹمنٹ کے باتھ روم سے اس حالت میں برآمد ہوئی تھی کہ ان کے ہاتھ پیچھے کی جانب بندھے ہوئے تھے، منہ پر کپڑا باندھا گیا تھا اور گلے میں لپٹی تار شاور کے ساتھ باندھی گئی تھی۔ ابتدائی طور پر گھر کے مکینوں کی جانب سے پولیس کو اطلاع دی گئی کہ گھر میں نامعلوم افراد گھس آئے تھے، تاہم موقع پر پہنچنے والی پولیس ٹیم کو اس دعوے کی تائید میں کوئی شواہد نہیں ملے۔

مقتولہ کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر امام، سسر اصغر علی فیاض اور گھریلو ملازم ذیشان کو نامزد کیا گیا۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 (قتلِ عمد) اور دفعہ 34 (مشترکہ ارادے سے کیا گیا جرم) کے تحت درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے شوہر اور ملازم کو فوری طور پر تحویل میں لے لیا، جبکہ سسر تاحال مفرور بتائے جاتے ہیں۔

تفتیشی ٹیم اس امکان کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا واقعے کا محرک گھریلو تشدد کے علاوہ کوئی اور بھی تھا۔ سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ملازم ذیشان مقتولہ کے گھر ہی کے ایک حصے میں رہائش پذیر تھا اور مبینہ طور پر وقتاً فوقتاً گھر سے رقم اور دیگر اشیاء چوری کرنے میں ملوث رہا تھا۔ پولیس اس پہلو کی بھی چھان بین کر رہی ہے کہ کہیں چوری پکڑے جانے کا خدشہ بھی قتل کا ایک محرک نہ بنا ہو، البتہ تفتیشی حکام کا ابتدائی جائزہ ہے کہ ایک شخص اکیلے لاش کو اس انداز میں باتھ روم منتقل کر کے لٹکا نہیں سکتا، اس لیے مشترکہ ملوثیت کا پہلو زیادہ مضبوط سمجھا جا رہا ہے۔

مقتولہ کا شوہر فیصل اصغر امام واقعے کے بعد سے مسلسل خاموش ہے اور تفتیشی ٹیم کے سوالات کا واضح جواب دینے سے گریزاں بتایا جاتا ہے۔ دونوں گرفتار ملزمان — شوہر اور ملازم — فی الحال تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں، جبکہ سسر کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا کی ہدایت پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن سیف اللہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی جا چکی ہے، جو تمام شواہد اور بیانات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم اور فارنزک رپورٹس بھی تفتیش کا حصہ ہیں اور توقع ہے کہ ان رپورٹس کے سامنے آنے کے بعد کیس کی نوعیت مزید واضح ہو جائے گی۔ حنا جاوید کا کیس محض ایک انفرادی جرم کی خبر نہیں رہا بلکہ اس نے ملک میں گھریلو تشدد اور خواتین کے خلاف تشدد کے مسئلے پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سماجی حلقوں اور صحافیوں کی جانب سے نشاندہی کی جا رہی ہے کہ یہ راولپنڈی میں حالیہ ہفتوں میں گھریلو تشدد سے جڑا واحد واقعہ نہیں، بلکہ اس سے قبل بھی اسی شہر میں ایک اور خاتون کو مبینہ طور پر جبری شادی سے انکار اور خلع کے مطالبے پر قتل کیا جا چکا ہے۔ اس تناظر میں قانونی و سماجی ماہرین گھریلو تشدد کے خلاف مؤثر تحفظاتی قوانین اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق تفتیش کا دائرہ اب فرانزک اور میڈیکو لیگل شواہد کی روشنی میں مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ یہ حتمی طور پر طے کیا جا سکے کہ واقعے میں شریک افراد کی اصل تعداد، کردار اور ترتیب کیا تھی۔ سسر اصغر علی فیاض کی گرفتاری کیس کی تکمیل کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہے، جبکہ عدالت میں چالان پیش کیے جانے تک تینوں ملزمان کے خلاف تفتیش جاری رہے گی۔