اہور: پنجاب کے دو بڑے شہروں گوجرانوالہ اور فیصل آباد کے شہریوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ یلو لائن ماس ٹرانزٹ منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے مارچ 2027 کی حتمی تاریخ مقرر کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ اس ٹائم لائن میں کسی قسم کی نرمی یا تاخیر قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ ایک خصوصی جائزہ اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت خود مریم نواز شریف نے کی۔ اجلاس میں گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں جاری دونوں ماس ٹرانزٹ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور ڈرون فوٹیج کے ذریعے زمینی پیش رفت کا براہِ راست جائزہ بھی لیا گیا۔
گوجرانوالہ یلو لائن ماس ٹرانزٹ کوریڈور شہر کے ٹریفک نظام میں انقلابی تبدیلی لانے کا منصوبہ ہے۔ اس کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
-
- کل طوالت: 31.5 کلومیٹر
- کل اسٹیشنز: 25 (جن میں 2 انڈر گراؤنڈ اسٹیشن شامل ہیں)
- انڈر پاسز: 12
- سروس روڈ: 35 کلومیٹر
- سگنل فری یو ٹرنز کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے
بریفنگ کے مطابق منصوبے پر تقریباً ایک تہائی تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ راستے میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے اب تک 1233 بجلی کے کھمبے اور 552 ٹرانسفارمرز منتقل کیے جا چکے ہیں، جو کسی بھی شہری ترقیاتی منصوبے میں یوٹیلیٹی شفٹنگ کے پیمانے پر ایک بڑا کام ہے۔
منصوبے کے تحت زیرِ زمین انفراسٹرکچر کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، جس میں 15 ہزار فٹ سیوریج لائن، 12 ہزار فٹ واٹر سپلائی لائن اور 11 ہزار فٹ گیس پائپ لائن بچھانے کا کام شامل ہے۔ اس کے علاوہ 62 کلومیٹر طویل ڈرین کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے جس میں سے 40 فیصد حصہ مکمل ہو چکا ہے۔
فیصل آباد ماس ٹرانزٹ سسٹم: شہر کے سفری نقشے میں تبدیلی
"ٹرانسپورٹ ویژن 2030” کے تحت فیصل آباد کے شہریوں کے لیے بھی ایک جدید ٹرانزٹ نیٹ ورک تیار کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کی بنیادی تفصیلات یہ ہیں:
- کل طوالت: 20.3 کلومیٹر
- اوور ہیڈ برج: 11.1 کلومیٹر
- بس اسٹاپس: 12
- سوئی گیس لائن کی 15 کلومیٹر تک منتقلی بھی زیرِ عمل ہے
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ فیصل آباد منصوبے کے تحت اب تک 1835 درخت دوبارہ لگائے (ری پلانٹ) جا چکے ہیں، جبکہ دونوں شہروں کے منصوبوں میں مجموعی طور پر تقریباً 5 ہزار درختوں کی منتقلی اور دوبارہ شجرکاری کا ریکارڈ اجلاس میں پیش کیا گیا۔ یہ اقدام اس بات کا عکاس ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو پاکستان میں بڑے تعمیراتی منصوبوں میں اکثر نظر انداز ہونے والا پہلو رہا ہے۔
وزیراعلیٰ کی ہدایات: تین شفٹوں میں کام، شہریوں کی مشکلات میں کمی
اجلاس میں مریم نواز شریف نے واضح الفاظ میں کہا کہ عوام کو تعمیراتی کاموں کی وجہ سے جن مشکلات کا سامنا ہے اس کا حکومت کو مکمل ادراک ہے، اس لیے منصوبوں کی جلد اور بروقت تکمیل ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ:
- تعمیراتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے تین شفٹوں میں کام کروایا جائے
- منصوبوں کی مقررہ ٹائم لائن کو کسی صورت آگے نہ بڑھایا جائے
- تعمیراتی عمل کے دوران ہر درخت کی حفاظت یقینی بنائی جائے
- شہریوں کو غیر ضروری تکلیف سے بچانے کے لیے متبادل راستوں اور ٹریفک انتظامات کو بہتر کیا جائے
یہ منصوبے کیوں اہم ہیں؟
پاکستان کے صنعتی مرکز سمجھے جانے والے فیصل آباد اور گوجرانوالہ جیسے گنجان آباد شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا فقدان طویل عرصے سے شہریوں کے لیے مسئلہ رہا ہے۔ موازنے کے طور پر دیکھا جائے تو لاہور کی اورنج لائن میٹرو ٹرین، جو 27.1 کلومیٹر طویل ہے اور روزانہ ڈھائی لاکھ مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرتی ہے، پنجاب میں ماس ٹرانزٹ منصوبوں کی کامیابی کی ایک مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ گوجرانوالہ اور فیصل آباد کے منصوبے بھی اسی طرز پر ڈیزائن کیے گئے ہیں تاکہ روزانہ لاکھوں مسافروں کو سستی، تیز اور محفوظ سفری سہولت میسر آ سکے۔
اس کے علاوہ صوبائی حکومت پنجاب بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے بیک وقت کئی محاذوں پر کام کر رہی ہے، جن میں الیکٹرک بسوں کا اجراء، لاہور میں ٹرام سروس کی بحالی، اور مری تک گلاس ٹرین جیسے سیاحتی و ٹرانزٹ منصوبے شامل ہیں۔ اس مجموعی حکمتِ عملی کا مقصد صوبے کے بڑے شہروں کو جدید، ماحول دوست اور بلا تعطل ٹرانسپورٹ نظام سے منسلک کرنا ہے۔
گوجرانوالہ یلو لائن اور فیصل آباد ماس ٹرانزٹ سسٹم دونوں پنجاب حکومت کے شہری بنیادی ڈھانچے کے سب سے بڑے منصوبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مارچ 2027 کی سخت ڈیڈ لائن مقرر کر کے وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح پیغام دیا ہے کہ ان منصوبوں پر عملدرآمد میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر یہ منصوبے مقررہ وقت میں مکمل ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف لاکھوں شہریوں کے یومیہ سفر کو آسان بنائیں گے بلکہ دونوں شہروں کی معاشی سرگرمیوں اور ٹریفک کی روانی پر بھی مثبت اثر ڈالیں گے۔