پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا یومیہ نظام منظور: اب اوگرا روزانہ نرخ جاری کرے گا

وفاقی کابینہ کی جانب سے پندرہ روزہ نظام کے خاتمے کی منظوری، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اب گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کی بنیاد پر روزانہ طے ہوں گی، وزیرِاعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی اجازت کی ضرورت ختم

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے تعین کے لیے نیا یومیہ نظام باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے، جس کے تحت اب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) روزانہ کی بنیاد پر ایکس ڈپو قیمتیں جاری کرے گی۔ یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم شعبے کی بتدریج ڈی ریگولیشن یعنی حکومتی کنٹرول میں کمی کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے۔

نیا نظام کیسے کام کرے گا؟

وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اس فیصلے کی تفصیلات بیان کیں۔ ان کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں طے کرے گی۔ نئے طریقہ کار کے تحت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دنوں کی اوسط بین الاقوامی قیمت، یعنی "پلاٹس ریفرنس پرائس” کی بنیاد پر متعین کی جائیں گی، جو دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں کے تعین کے لیے استعمال ہونے والا معروف بینچ مارک ہے۔

اس سے قبل حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر پندرہ دن بعد، یعنی مہینے کی 15 اور 30/31 تاریخ کو کیا کرتی تھی۔ نیا نظام اس پرانے طریقہ کار کی جگہ لے رہا ہے تاکہ مقامی قیمتیں عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ فوری طور پر ہم آہنگ کی جا سکیں۔ اہم بات یہ ہے کہ نئے نظام کے تحت قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیرِاعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ اوگرا خود مختار طور پر عالمی مارکیٹ کے رجحانات کی بنیاد پر روزانہ نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔

ہفتہ اور اتوار کو کیا ہوگا؟

اوگرا کے مطابق ہفتہ اور اتوار کے روز، جب بین الاقوامی مارکیٹیں بند رہتی ہیں، گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں ہی برقرار رہیں گی۔ ریگولیٹری ادارے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یکم جولائی 2026 سے وہ روزانہ پلاٹس ریفرنس قیمتیں بھی اپنی سرکاری ویب سائٹ پر شائع کرے گا۔ وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق اوگرا نہ صرف عالمی پلاٹس بینچ مارک ریٹس شائع کرے گا بلکہ صارفین کو یہ بھی بتائے گا کہ پٹرول پمپ پر ادا کی جانے والی حتمی قیمت کن کن اجزا پر مشتمل ہوتی ہے، تاکہ عوام کو یہ سمجھنے میں مدد ملے کہ قیمتوں میں اضافہ ناگزیر کیوں ہے۔

نئے نظام کی وجوہات: خطے کی کشیدگی اور عالمی قیمتوں میں اضافہ

وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق خطے میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے دنیا بھر میں توانائی کی لاگت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت کشیدگی کے باعث 110 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ تیل کی بڑھتی قیمتوں کا تعلق علاقائی کشیدگی سے ہے۔ وزیرِ پیٹرولیم نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کی قیادت کی جانب سے خطے میں مصالحت اور پائیدار جنگ بندی کے لیے بھرپور کوششوں کے باوجود کشیدگی دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔

وزیر موصوف کے مطابق حکومت پہلے ہی 130 ارب روپے کے مالی وسائل استعمال کر چکی ہے تاکہ عالمی سطح پر بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے مقامی صارفین کو محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیا یومیہ نظام عوام پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں ڈالے گا، بلکہ اس کا مقصد قیمتوں کے تعین کے عمل کو شفاف اور عالمی رجحانات سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ پیٹرولیم لیوی اور کاربن سپورٹ لیوی خطے میں کشیدگی سے پہلے کی سطح سے بھی کم ہے، اور پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے علاوہ کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔

پیٹرولیم شعبے کی مکمل ڈی ریگولیشن کی جانب پیش قدمی

حکام کے مطابق یومیہ قیمتوں کا نظام دراصل پیٹرولیم شعبے کی مکمل ڈی ریگولیشن کی جانب پہلا بڑا قدم ہے، جس کے تحت حکومت براہِ راست قیمتوں کے تعین سے دستبردار ہو کر ایک قاعدے پر مبنی نظام اپنا رہی ہے جس کی نگرانی اوگرا کرے گی۔ وزیرِ پیٹرولیم کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی جا رہی ہے جو ڈی ریگولیشن کے پورے عمل کی نگرانی کرے گی۔ ماہرین کے مطابق مکمل ڈی ریگولیشن سے تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے درمیان مسابقت بڑھے گی، اور بالآخر صارفین مختلف کمپنیوں کی جانب سے مختلف نرخوں پر ایندھن کی خریداری کا انتخاب کر سکیں گے، جیسا کہ کئی بین الاقوامی مارکیٹوں میں پہلے سے رائج ہے۔ تاہم ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت بدستور پیٹرولیم لیویز اور تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع کی حدود کو کنٹرول کرتی رہے گی۔

پیٹرول ڈیلرز کے تحفظات اور ممکنہ مزاحمت

نئے نظام کے اعلان کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ڈیلرز نے سوال اٹھایا ہے کہ عملی طور پر یومیہ قیمتوں کا نفاذ کیسے ممکن ہوگا، کیونکہ کراچی سے ملک کے دیگر حصوں تک ایندھن کی ترسیل میں کم از کم تین دن لگ جاتے ہیں، ایسے میں روزانہ بدلتی قیمتوں کے ساتھ ذخیرہ شدہ تیل کی قیمتوں میں ہم آہنگی برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق پیٹرول پمپ مالکان کی تنظیموں نے اس ڈی ریگولیشن پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر پالیسی واپس نہ لی گئی تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔

منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت

وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایف آئی اے، انٹیلیجنس بیورو اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ تیل کے شعبے میں منافع خوری میں ملوث کسی بھی فرد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ حکام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ نیا یومیہ نظام شفاف رہے اور اس کا فائدہ چند مخصوص عناصر کے بجائے عام صارفین تک پہنچے۔

توانائی کے شعبے میں دیگر اہم پیش رفت

وزیرِ پیٹرولیم نے پریس کانفرنس میں یہ بھی انکشاف کیا کہ ترک پیٹرولیم کمپنی رواں سال اکتوبر میں اپنا آف شور ایکسپلوریشن ویسل پاکستان لے کر آئے گی، جو کہ گزشتہ دو دہائیوں میں کمپنی کی پاکستان میں پہلی سمندری تیل و گیس تلاش کی سرگرمی ہوگی۔ اس کے علاوہ سعودی آرامکو، کویت پیٹرولیم، قطر انرجی اور امریکی و چینی کمپنیوں کے ساتھ بھی تعاون بڑھایا جا رہا ہے۔ وزیر کے مطابق ریفائنری اپ گریڈیشن کے منصوبے بھی جاری ہیں تاکہ مقامی سطح پر خام تیل کی پروسیسنگ ممکن بنائی جا سکے اور عالمی سطح پر مسابقتی قیمتوں پر پیٹرولیم مصنوعات فراہم کی جا سکیں۔ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ گردشی قرضے کے مسئلے کے حل پر بھی مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔

عام صارف پر اثرات

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ یومیہ قیمتوں کے نظام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ عالمی منڈی میں کمی کی صورت میں اس کا فائدہ صارفین تک زیادہ تیزی سے پہنچے گا، تاہم اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ عالمی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں بھی صارفین کو فوری اور بار بار جھٹکے برداشت کرنا پڑیں گے۔ چونکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، زراعت اور یومیہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑے گا۔

بہرحال، حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قلیل مدتی مشکلات کے باوجود پاکستان کی طویل المدتی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے، اور آنے والے عرصے میں اس نظام کے ثمرات واضح طور پر سامنے آئیں گے۔