لنکا پریمیئر لیگ: شاہین آفریدی دورانِ میچ ’’ڈراپ‘‘، اینٹی کرپشن یونٹ سے شکایت

لنکا پریمیئر لیگ (ایل پی ایل) کا 2026ء کا ایڈیشن ایک اور تنازع کی زد میں آ گیا، جب پاکستانی فاسٹ بولر شاہین آفریدی نے دورانِ میچ اچانک ’’ڈراپ‘‘ کیے جانے پر لیگ کی اینٹی کرپشن یونٹ کو باضابطہ شکایت درج کرا دی۔ ناراض پیسر پاکستان واپس جانے کا فیصلہ بھی کر چکے تھے، تاہم فرنچائز اور آرگنائزرز کی معذرت پر انہیں رکنے پر آمادہ کر لیا گیا۔

کینڈی رائلز کی ٹیم مینجمنٹ نے میچ سے قبل شاہین آفریدی کو بتایا تھا کہ وہ اس مقابلے میں بطور ’’امپیکٹ پلیئر‘‘ حصہ لیں گے۔ یہ قانون اصل میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) نے متعارف کرایا تھا، جس کے تحت ہر ٹیم میچ سے قبل ایک کھلاڑی کا نام امپیکٹ پلیئر کے طور پر نامزد کرتی ہے، جو بعد میں پلیئنگ الیون کے کسی رکن کی جگہ بیٹنگ یا زیادہ سے زیادہ چار اوورز بولنگ کر سکتا ہے، تاہم پہلے سے شامل کھلاڑی پھر میچ میں حصہ نہیں لے سکتا۔

مذکورہ مقابلے میں کینڈی رائلز نے پہلے بیٹنگ کی۔ اننگز کے دوران کوچنگ اسٹاف نے شاہین سے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیم کے انالسٹ کی غلطی کے باعث ان کا نام بطور امپیکٹ پلیئر جمع کرائی گئی فہرست میں شامل نہیں ہو سکا۔ اس انکشاف پر پاکستانی پیسر حیران رہ گئے اور فوری طور پر اس معاملے کی اطلاع میچ کے اینٹی کرپشن یونٹ کے آفیشل کو دی۔ معاملہ میچ ریفری کے نوٹس میں بھی لایا گیا۔

شدید ناراضگی میں شاہین آفریدی نے فوری طور پر پاکستان واپس جانے کا ارادہ ظاہر کر دیا تھا۔ تاہم ٹیم مینجمنٹ اور لیگ آرگنائزرز نے فوری مداخلت کرتے ہوئے ان سے معذرت کی اور انہیں ٹورنامنٹ میں رکنے پر قائل کر لیا۔ بعدازاں مقامی میڈیا کو دیے گئے بیان میں شاہین نے وضاحت کی کہ وہ صرف کینڈی رائلز مینجمنٹ کی غلطی پر ناراض تھے اور لیگ چھوڑنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا، اور وہ ٹورنامنٹ میں کھیلنا جاری رکھیں گے۔

لنکا پریمیئر لیگ کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ دراصل میچ ریفری کو غلط ٹیم شیٹ جمع کرانے کے باعث پیش آیا، جسے انہوں نے ایک انتظامی غلطی قرار دیا۔

واضح رہے کہ رواں ایڈیشن آغاز سے ہی تنازعات کا شکار رہا ہے۔ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل ہی جافنا کنگز کے شریک مالک منجوت کالرا کو سری لنکن اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے مبینہ طور پر کھلاڑی کو رشوت دینے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔ اس واقعے کے بعد آرگنائزرز نے جافنا کنگز فرنچائز کے حقوق واپس لے لیے، اور اب سری لنکا کرکٹ خود اس ٹیم کے معاملات چلا رہا ہے۔

ایل پی ایل کے موجودہ ایڈیشن میں شاہین آفریدی کے علاوہ محمد نواز، صاحبزادہ فرحان، محمد وسیم جونیئر اور عاکف جاوید بھی مختلف فرنچائزز کی نمائندگی کر رہے ہیں، جبکہ پاکستانی امپائر آصف یعقوب کی خدمات بھی اس ایونٹ میں حاصل کی گئی ہیں۔ خیال رہے کہ شاہین آفریدی کو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کے تحت لنکا پریمیئر لیگ میں کھیلنے کی اجازت دی گئی تھی، کیونکہ وہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے پاکستان کی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل نہیں تھے۔