بھارت: ’’ککروچ جنتا پارٹی‘‘ کے شدید احتجاج کے بعد وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی

نئی دہلی: بھارت کے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے امتحانی پرچہ لیک اور تعلیمی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف ہفتوں جاری رہنے والی طلبہ تحریک کے دباؤ پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا جب پولیس نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ مظاہرین رہنماؤں کی وفاقی وزراء کے ساتھ ایک اور دور کی بات چیت متوقع تھی۔

یہ تحریک ایک ماہ قبل ملک کے چند بڑے مسابقتی داخلہ امتحانات میں مبینہ پرچہ لیک کے الزامات کے بعد شروع ہوئی تھی۔ خاص طور پر 3 مئی کو منعقدہ نیٹ-یو جی (NEET-UG) امتحان میں بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد حکومت کو امتحان منسوخ کر کے معاملہ سی بی آئی کے سپرد کرنا پڑا تھا۔ بعدازاں امتحان دوبارہ منعقد کروایا گیا اور حکومت نے اعلان کیا کہ آئندہ 2027ء سے نیٹ-یو جی کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (سی بی ٹی) کے طریقے سے لیا جائے گا۔ تاہم غصہ کم ہونے کے بجائے یہ تحریک وسیع تر مسائل، بے روزگاری اور حکومتی احتساب کے مطالبے کے گرد گھومنے لگی۔

اس ملک گیر احتجاجی تحریک کی قیادت ’’ککروچ جنتا پارٹی‘‘ (سی جے پی) نامی طلبہ تنظیم نے کی، جس کے بانی ابھیجیت ڈپکے ہیں۔ تنظیم نے نئی دہلی سمیت متعدد شہروں میں دھرنے، ریلیاں اور بھوک ہڑتالیں منظم کیں۔ ہفتوں تک جاری رہنے والے احتجاج میں ہزاروں طلبہ، پیشہ ور افراد اور خاندان شریک ہوئے، اور مطالبہ کیا گیا کہ نیٹ خودکشی کے واقعات کے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے اور امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں۔

احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، آنسو گیس استعمال کی گئی اور بعض علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ پولیس کے سخت رویے نے نوجوانوں میں غصے کو مزید ہوا دی اور تحریک کو وسیع تر عوامی حمایت حاصل ہوئی۔

دھرمیندر پردھان نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کے نام لکھے گئے استعفیٰ نامے کا متن شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کسی ایک طالب علم کا مستقبل بھی قانونی پیچیدگیوں میں الجھنا نہیں چاہیے اور ملک دشمن عناصر کو صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو تعلیم اور کیریئر پر توجہ دینے کا موقع ملنا چاہیے، اسی مقصد کے پیشِ نظر انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے وزیراعظم کے اعتماد اور تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔ خیال رہے کہ وزیراعظم مودی کی جانب سے تاحال باضابطہ طور پر استعفیٰ منظور نہیں کیا گیا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نبین، جو وزیراعظم مودی کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، نے کہا کہ پردھان کا فیصلہ عوامی زندگی میں دیانتداری اور بے لوث خدمت کی اعلیٰ مثال ہے، اور پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ دوسری جانب سی جے پی نے استعفے کو ایک بڑی فتح قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ملک گیر احتجاج فوری طور پر ختم کر رہی ہے، کیونکہ حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔ تنظیم کے مطابق حکومت نے سی جے پی کے پانچ نکاتی امتحانی اصلاحاتی پلان پر نظرثانی کرنے اور اس حوالے سے مذاکرات جاری رکھنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ استعفیٰ تیسری مرتبہ اقتدار میں آنے والی مودی حکومت کے لیے ایک نایاب اور اہم سیاسی شکست تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ پہلا موقع ہے جب طلبہ تحریک کے دباؤ پر حکومت کو اس نوعیت کا قدم اٹھانا پڑا۔ اس سے قبل حکومت نے کشیدگی کم کرنے کے لیے پرچہ لیک کے مقدمات کی فاسٹ ٹریک عدالتوں میں سماعت اور امتحانی نظام میں دھوکہ دہی روکنے کے لیے نئی قانون سازی کا اعلان بھی کیا تھا، جبکہ وزیراعظم مودی نے خود ایک ذاتی ویڈیو پیغام میں اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔