صرف 12 روز میں پیٹرول 25 روپے اور ڈیزل 65 روپے مہنگا، عالمی منڈی میں کمی کے باوجود عوام ریلیف سے محروم

پاکستان میں مہنگائی سے متاثرہ شہریوں پر ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ گزشتہ 12 روز کے دوران پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران واضح کمی دیکھی گئی، تاہم اس کا فائدہ تاحال پاکستانی صارفین کو منتقل نہیں کیا گیا۔
وفاقی حکومت نے 17 جولائی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کا نیا نظام متعارف کرایا تھا۔ اس نظام کے نفاذ کے بعد قیمتوں میں مسلسل ردوبدل دیکھنے میں آیا، تاہم مجموعی طور پر اضافہ ہی غالب رہا۔

17 جولائی کو ملک بھر میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 310 روپے 71 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 323 روپے 03 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔

29 جولائی تک پیٹرول کی قیمت بڑھ کر 335 روپے 81 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 388 روپے 38 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

اس طرح صرف 12 دنوں کے دوران:

پیٹرول کی قیمت میں 25 روپے 10 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل 65 روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔

یہ اضافہ حالیہ مہینوں میں ہونے والے نمایاں ترین اضافوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

معمولی کمی بھی عوام کو ریلیف نہ دے سکی
اس عرصے میں اگرچہ دو مرتبہ پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی کی گئی، تاہم اس کا مجموعی اثر نہ ہونے کے برابر رہا۔

21 جولائی کو پیٹرول 35 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا۔
27 جولائی کو مزید 1 روپے فی لیٹر کمی کی گئی۔

دوسری جانب 17 جولائی کے بعد سے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک مرتبہ بھی کمی نہیں کی گئی، بلکہ مسلسل اضافہ دیکھنے میں
ین الاقوامی مارکیٹ میں 25 جولائی سے 28 جولائی کے درمیان خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق صرف تین روز کے دوران عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 12 فیصد تک کم ہوئیں، جس کی بنیادی وجوہات عالمی طلب میں کمی، سپلائی کی بہتر صورتحال اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کو قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا یہی رجحان برقرار رہا تو پاکستان میں بھی آئندہ قیمتوں کے تعین کے دوران کمی کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی سطح پر فوری ریلیف نہ ملنے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں:

پہلے سے درآمد شدہ مہنگے تیل کے ذخائر
روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ
درآمدی لاگت اور فریٹ چارجز
پیٹرولیم لیوی اور دیگر حکومتی ٹیکس
قیمتوں کے تعین کا سرکاری طریقہ کار

ماہرین کے مطابق اگر عالمی قیمتوں میں کمی مستقل رہی تو آئندہ نظرثانی میں اس کے اثرات سامنے آسکتے ہیں۔
ڈیزل کی قیمت میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، کیونکہ مال بردار گاڑیوں، بسوں، ٹرکوں اور زرعی مشینری کا انحصار بڑی حد تک ڈیزل پر ہے۔

اس اضافے کے نتیجے میں:

اشیائے خورونوش کی ترسیل مزید مہنگی ہوسکتی ہے۔
سبزی، پھل، آٹا اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے۔
زرعی شعبے کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عوام پر مہنگائی کا مجموعی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
شہریوں اور کاروباری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی کمی کا فائدہ جلد از جلد مقامی صارفین تک پہنچایا جائے تاکہ مہنگائی کے بوجھ میں کچھ کمی آسکے۔ معاشی ماہرین بھی شفاف اور بروقت قیمتوں کے تعین کو عوامی اعتماد کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
گزشتہ 12 روز میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ مہنگائی سے متاثرہ عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن گیا ہے۔ اگرچہ عالمی مارکیٹ میں حالیہ دنوں کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، لیکن اس کا اثر ابھی تک پاکستان میں نظر نہیں آیا۔ اب تمام نظریں حکومت کے آئندہ قیمتوں کے اعلان پر مرکوز ہیں کہ آیا عالمی رجحان کے مطابق عوام کو ریلیف ملتا ہے یا نہیں۔