لاہور کا ہائی پروفائل قتل کیس حل: امریکی نژاد خاتون خود ہی اپنے تین بچوں کی قاتل نکلی

لاہور کے علاقے کاہنہ میں واقع نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں امریکی نژاد خاتون اور اس کے تین کمسن بچوں کی پراسرار موت کے ہائی پروفائل کیس نے تقریباً دو ہفتوں کی گہری تفتیش کے بعد اپنے انجام کو پہنچ کر ایک چونکا دینے والا ڈراپ سین دکھا دیا۔ ابتدائی طور پر اسے اجتماعی قتل کا واقعہ سمجھا جا رہا تھا، مگر تفتیشی اداروں کی تحقیقات کے بعد یہ راز کھلا کہ مقتول بچوں کی ماں خود ہی اس سفاکانہ واردات کی مرکزی ملزمہ تھی۔
لاہور پولیس کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے ایک تفصیلی پریس بریفنگ میں میڈیا کو کیس کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ویلنشیا ٹاؤن میں امریکی خاندان کی رہائش گاہ پر پیش آنے والا یہ واقعہ دراصل قتل نہیں بلکہ ایک ذہنی مریضہ ماں کی جانب سے اپنے پورے خاندان کو ختم کرنے کی سوچی سمجھی کوشش تھی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس واردات میں ملوث مزید دو ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں ایک آن لائن کیمیکل فروخت کرنے والی دکان کا مالک اور ایک ڈیلیوری رائیڈر شامل ہے۔
مقتولہ خاتون، جس کی شناخت علینہ کے نام سے ہوئی، اپنے شوہر ناصر اور تین بچوں — 15 سالہ ریحان، 11 سالہ اریشا اور 9 سالہ ارسل — کے ہمراہ امریکا سے لاہور پہنچی تھی اور ویلنشیا ٹاؤن میں کرائے کے ایک مکان میں مقیم تھی۔ خاندان تمام تر امریکی شہریت رکھنے کے باوجود پاکستان میں مستقل طور پر آباد ہونے کے ارادے سے آیا تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق علینہ ذہنی مریضہ تھی اور طویل عرصے سے انٹرنیٹ پر خودکشی کے مختلف طریقے سرچ کرتی رہتی تھی۔ اسی دوران اس کا رابطہ ایک ایسے شخص سے ہوا جو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے کیمیائی مادے فروخت کرتا تھا۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق علینہ نے اس شخص کو ایک لاکھ 38 ہزار 5 سو 40 روپے بذریعہ منی گرام منتقل کیے، جس کے بدلے میں اسے مہلک زہریلا کیمیکل فراہم کیا گیا۔ خاتون نے یہ زہریلا پارسل اپنی ایک دوست کے گھر پر منگوایا، تاکہ اس کی اصل شناخت اور مقصد پوشیدہ رہے۔
16 جولائی کو علینہ نے ایک نجی پیزا شاپ پر اپنی دوست کے ساتھ کھانا کھایا اور اسی موقع پر زہریلے کیمیکل پر مشتمل پارسل وصول کیا۔ اگلے ہی روز، یعنی 17 جولائی کو، اس نے یہ زہریلا مادہ آئس کریم میں ملا کر اپنے تینوں بچوں کو کھلا دیا۔ بچوں کو زہر دینے کے بعد خود علینہ نے بھی وہی زہر ملی آئس کریم کھائی۔ تفتیش کاروں کے مطابق خاتون نے اپنے شوہر ناصر کو بھی یہی زہریلی آئس کریم کھلانے کی کوشش کی تھی، تاہم وہ اس سے بچ گیا۔ واقعے کے اگلے ہی دن خاندان نے سیالکوٹ جانے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔
ابتدائی مرحلے میں شوہر ناصر پر بھی شک کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے باعث اس کا مکمل پولی گرافک ٹیسٹ کرایا گیا اور تفصیلی تفتیش کی گئی۔ تاہم تمام حالات و واقعات، شواہد اور فرانزک رپورٹس کے تجزیے سے یہ حتمی طور پر ثابت ہوا کہ اس سانحے میں شوہر کا کوئی کردار نہیں تھا، بلکہ ملزمہ نے اپنے بچوں کو زہر دے کر خود کشی کی۔
ڈی آئی جی انویس�ت گیشن کے مطابق تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ علینہ نومبر سے ہی خودکشی کے مختلف طریقوں سے متعلق آن لائن معلومات تلاش کر رہی تھی۔ اس کے موبائل فون سے خودکشی سے متعلق متعدد آرٹیکلز بھی برآمد ہوئے۔ حکام کے مطابق علینہ طویل عرصے سے ڈپریشن کا شکار تھی، جس کا باقاعدہ علاج بھی جاری تھا اور وہ ڈپریشن کی ادویات بھی استعمال کر رہی تھی۔ ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ خاتون دراصل زہریلے کیمیکل کی ڈیلیوری امریکا میں ہی کروانا چاہتی تھی، مگر بوجوہ یہ منصوبہ پاکستان میں عملی جامہ پہنایا گیا۔

حکام نے یہ بھی بتایا کہ خاتون کی جس دوست کے گھر پارسل منگوایا گیا تھا، اسے پارسل کے مندرجات کے بارے میں مکمل طور پر لاعلم پایا گیا اور تفتیش میں اس کا کوئی کردار سامنے نہیں آیا۔
پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے کیس میں ملوث دیگر دو ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا۔ ان میں ایک وہ شخص شامل ہے جو آن لائن کیمیکل فروخت کرتا تھا، جبکہ دوسرا وہ رائیڈر ہے جس نے زہریلے پارسل کی ڈیلیوری کا کام سرانجام دیا۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق موبائل ڈیٹا، مالی لین دین کے ریکارڈ اور سی سی ٹی وی شواہد کی بنیاد پر پورے واقعے کی مکمل تفصیلات مرتب کی گئی ہیں۔
چونکہ مقتول خاندان امریکی شہریت رکھتا تھا، اس لیے امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کی ایک ٹیم نے بھی اس کیس میں دلچسپی ظاہر کی۔ ایف بی آئی کے نمائندوں نے علینہ کے خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کی اور تفتیشی عمل کی پیش رفت سے آگاہی حاصل کی۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق چونکہ یہ ایک امریکی شہریت رکھنے والا خاندان تھا، اس لیے امریکی حکام کی جانب سے اس کیس میں تشویش کا اظہار کیا جانا فطری امر تھا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے واضح کیا کہ کیس کی مکمل تفتیش لاہور پولیس نے سرانجام دی ہے اور تمام گرفتار ملزمان کے خلاف پولیس پراسیکیوشن پارٹنر شپ کی مدد سے مضبوط چالان مرتب کیا جائے گا، تاکہ عدالت میں ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اس نوعیت کے قانون شکن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
یہ واقعہ ذہنی صحت کے حوالے سے معاشرے میں پائی جانے والی خاموشی اور آگاہی کے فقدان کی جانب بھی توجہ دلاتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ شدید ڈپریشن اور ذہنی امراض کی بروقت تشخیص اور علاج انتہائی ضروری ہے، اور خاندان کے افراد کو ایسی علامات — جیسے غیر معمولی خاموشی، ناامیدی یا آن لائن سرگرمیوں میں تبدیلی — پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔