آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حالیہ انتخابات کے نتائج نے پاکستان کی قومی سیاست میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان سوشل میڈیا پر تلخ بیانات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے انتخابی بے ضابطگیوں پر الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے مختصر مگر طنز بھرے پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے لکھا کہ یہ وہی جماعت ہے جو خود دھاندلی کی باریک کاریگری میں ماہر سمجھی جاتی ہے، اور اب دھاندلی کی شکایت لے کر بیٹھی ہے۔ اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا: "قیامت کتنے بجے ہے؟” — ایک ایسا جملہ جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا صارفین میں زیرِ بحث آ گیا اور مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اس پر ردعمل بھی سامنے آنے لگا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ مریم نواز نے پیپلز پارٹی کو نشانہ بنایا ہو۔ اس سے قبل اپنے ایک تفصیلی بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کے پاس دکھانے کے لیے کوئی کارکردگی، اچھی طرزِ حکمرانی یا عوامی فلاح کا کوئی حقیقی ایجنڈا ہوتا، تو وہ اپنا وقت دوسری جماعتوں پر الزامات لگانے میں ضائع نہ کرتی۔ انہوں نے خاص طور پر سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی 17 برس سے سندھ میں برسرِ اقتدار ہے، مگر اس کے باوجود عوام کو دکھانے کے لیے کوئی قابلِ ذکر منصوبہ یا کامیابی موجود نہیں۔
مریم نواز نے اپنے بیان میں ایک دلچسپ موازنہ بھی پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب گزشتہ برس گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی تھی، تو مسلم لیگ (ن) نے کھلے دل سے وہ نتائج تسلیم کیے تھے۔ تاہم اب جب آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کی ہے، تو پیپلز پارٹی دھاندلی کے الزامات لگانے پر اتر آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ (ن) کی حکومتی کارکردگی — جیسے گرین بس منصوبہ، اپنی چھت اپنا گھر پروگرام، اپنا کھیت اپنا روزگار، کسان کارڈ، سڑکوں کی تعمیر اور بہتر امن و امان — کو دیکھتے ہوئے ووٹ دیا ہے۔ ان کے مطابق اب پارٹی کو دھاندلی کا رونا رونے کے بجائے اپنی کارکردگی کا خود جائزہ لینا چاہیے۔
اپنے ایک اور بیان میں مریم نواز نے پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو براہِ راست مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں آزاد کشمیر میں اپنی جماعت کی شکست تسلیم کرنی چاہیے اور اس کے بجائے سندھ کے عوام کی دیرینہ محرومیوں کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے 12 چڑھوئی میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے فوری اور غیر جانبدارانہ کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو جبراً باہر نکالا گیا۔ ان کے مطابق مسلح افراد کی جانب سے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے اور جعلی ووٹنگ کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں، جنہیں انہوں نے انتہائی سنگین نوعیت کا معاملہ قرار دیا۔
واضح رہے کہ حلقہ ایل اے 6 سماہنی میں بھی ووٹ جلائے جانے کا ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس کے باعث وہاں کا حتمی نتیجہ تاخیر کا شکار ہوا، تاہم اس حلقے میں بھی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو واضح برتری حاصل رہی۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس معاملے پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا مسلم لیگ (ن) کا مفاد اہم ہے یا پورے پاکستان کا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میرپور کے عوام نے پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت دلوائی ہے، اور اب پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے ووٹ کے تقدس کا تحفظ کرے۔
بلاول بھٹو نے میرپور سے پونچھ تک ہونے والے مبینہ انتخابی طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا اسے حقیقی معنوں میں جمہوریت کہا جا سکتا ہے؟ انہوں نے اپنے کارکنوں اور ووٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے پیپلز پارٹی کو اکثریت دلوائی ہے۔
اس سیاسی کشمکش میں پاکستان تحریک انصاف بھی کود پڑی ہے۔ جماعت نے آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ الیکشن کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ عوام نے دراصل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں بڑی جماعتوں کو مسترد کر دیا ہے، اور موجودہ نتائج زمینی حقائق کی صحیح عکاسی نہیں کرتے۔
میرپور ڈویژن کے تحت آنے والے 13 حلقوں میں پہلے مرحلے کی پولنگ ہوئی، جس کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 4 نشستوں تک محدود رہی۔ حلقہ ایل اے 12 چڑھوئی میں پیپلز پارٹی کے مستقل کامیاب رہنما چوہدری محمد یاسین کو مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجہ محمد ریاست خان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا — یہی حلقہ اب دھاندلی کے الزامات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر نے پہلے مرحلے کے انتخابی عمل کو شفاف قرار دیا ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پر پارٹی کو مبارکباد پیش کی۔