پاکستان میں عوام کو ایک بار پھر مہنگائی کی نئی لہر کا سامنا ہے۔ وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹی فکیشن کے مطابق حکومت نے آئندہ تین روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 44 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ایک لیٹر پیٹرول اب 316 روپے 15 پیسے کا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں زیادہ شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی فی لیٹر قیمت 31 روپے 5 پیسے بڑھا دی گئی ہے اور اب یہ 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر پر فروخت ہوگا۔ ذرائع کے مطابق نئی قیمتیں 18 جولائی سے نافذ ہوں گی۔
نئی قیمتیں کب تک لاگو رہیں گی؟
اس سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر پندرہ دن بعد، یعنی ہر ماہ کی 15 اور 30 یا 31 تاریخ کو کیا جاتا تھا، تاہم حالیہ عرصے میں حکومت نے قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات اب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارشات پر روزانہ کی بنیاد پر بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں سے مربوط کر کے مقرر کی جا رہی ہیں، جس میں گزشتہ سات روز کی اوسط عالمی قیمت کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق اس نئے میکانزم کا مقصد قیمتوں کے تعین کے عمل کو مزید شفاف بنانا اور عوام کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کن بنیادوں پر طے کی جاتی ہیں۔ تازہ ترین نوٹی فکیشن کے مطابق موجودہ قیمتیں 18 سے 20 جولائی تک نافذ العمل رہیں گی۔
قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات
حکام کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافے کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہیں:
- عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ: بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں حالیہ ہفتوں میں نمایاں طور پر بڑھی ہیں، جس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر پڑتا ہے۔
- مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی اور خلیجی خطے میں جاری کشیدہ صورتحال نے عالمی تیل منڈی میں غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
- نئی روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام: حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے میکانزم کے تحت مقامی قیمتیں براہِ راست عالمی منڈی کے ساتھ ہم آہنگ کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ہونے والا کوئی بھی اضافہ فوری طور پر مقامی صارفین تک منتقل ہو رہا ہے۔
- برآمدی ڈیوٹی میں تبدیلی: حکومت نے ڈیزل پر برآمدی ڈیوٹی 8.5 روپے سے بڑھا کر 15.5 روپے فی لیٹر کر دی ہے، جبکہ ہوائی ایندھن (ATF) کی برآمدی ڈیوٹی بھی 7.5 روپے سے بڑھا کر 14.5 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جس سے ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا رجحان مزید تقویت پکڑا۔ تاہم پیٹرول پر برآمدی ڈیوٹی 4 روپے سے کم کر کے 2.5 روپے کر دی گئی، جس کی وجہ سے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ڈیزل کے مقابلے میں کم رہا۔
- روپے کی قدر میں کمی: ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی بھی درآمدی تیل کی لاگت بڑھانے کا سبب بنتی ہے، جس کا اثر براہِ راست مقامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
وفاقی حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ عوام پر اضافی بوجھ کم کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں کمی لانے پر بھی غور کر رہی ہے، تاہم حتمی فیصلہ مکمل جائزے کے بعد کیا جائے گا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پیٹرول پمپس پر مقررہ قیمت سے زائد فروخت کرنے والے منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ڈیزل کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ کیوں؟
اس بار ڈیزل کی قیمت میں اضافہ پیٹرول کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہا ہے، جو کہ تقریباً چھ گنا زائد ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیزل چونکہ ٹرانسپورٹ، زراعت اور بھاری صنعتی مشینری کا بنیادی ایندھن ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کی پوری زنجیر کو متاثر کرے گا۔ ٹرک، بسیں، ٹریکٹرز اور مال بردار گاڑیاں براہِ راست ڈیزل پر انحصار کرتی ہیں، لہٰذا اس اضافے سے اشیائے خورونوش کی ترسیل کے اخراجات بڑھیں گے، جس کے نتیجے میں بازار میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھنے کا امکان ہے۔ زرعی شعبہ بھی اس اضافے سے شدید متاثر ہوگا کیونکہ ٹیوب ویل اور ٹریکٹرز چلانے کے لیے استعمال ہونے والا ڈیزل کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بنے گا۔
پاکستان بمقابلہ بھارت: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا موازنہ
خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو دلچسپ صورتحال سامنے آتی ہے۔ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پیٹرول تقریباً 102 روپے بھارتی (انڈین روپے) فی لیٹر جبکہ ڈیزل تقریباً 95 روپے بھارتی فی لیٹر پر فروخت ہو رہا ہے۔ موجودہ زرمبادلہ کی شرح کے مطابق ایک بھارتی روپیہ تقریباً 2 روپے 88 پیسے پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ اس حساب سے بھارتی قیمتوں کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کیا جائے تو:
- دہلی میں پیٹرول: تقریباً 294 پاکستانی روپے فی لیٹر (بمقابلہ پاکستان میں 316 روپے 15 پیسے)
- دہلی میں ڈیزل: تقریباً 274 پاکستانی روپے فی لیٹر (بمقابلہ پاکستان میں 354 روپے 35 پیسے)
یعنی پاکستانی کرنسی میں شمار کیا جائے تو پاکستان میں پیٹرول بھارت کے مقابلے میں تقریباً 22 روپے جبکہ ڈیزل تقریباً 80 روپے فی لیٹر مہنگا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت کے مختلف شہروں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقامی ٹیکسز اور ریاستی محصولات کی بنیاد پر مختلف ہوتی ہیں، مثال کے طور پر ممبئی اور حیدرآباد میں پیٹرول دہلی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگا ہے۔ بھارت میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر نظرثانی سے گزرتی ہیں، تاہم وہاں مرکزی و ریاستی ایکسائز ڈیوٹی اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) قیمتوں کا تعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک خام تیل کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں اور عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر دونوں معیشتوں پر پڑتا ہے، تاہم ٹیکسیشن کے ڈھانچے، پیٹرولیم لیوی، شرحِ تبادلہ اور مقامی مالیاتی پالیسیوں کے فرق کی وجہ سے دونوں ممالک میں صارفین کے لیے حتمی قیمتیں مختلف ہیں۔
عام آدمی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نجی گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور رکشوں کے صارفین کے لیے روزمرہ آمدورفت کے اخراجات بڑھا دے گا، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں بڑا اضافہ ٹرانسپورٹ کرایوں، مال برداری کے نرخوں اور بالآخر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر منفی اثر ڈالے گا۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عموماً معیشت کے متعدد شعبوں میں مہنگائی کی زنجیر کا سبب بنتا ہے، کیونکہ نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے پیداواری لاگت اور بالآخر صارفین کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
چونکہ حکومت اب روزانہ کی بنیاد پر عالمی قیمتوں کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لے رہی ہے، اس لیے آئندہ دنوں میں بھی قیمتوں میں تبدیلی کا امکان موجود رہے گا، خصوصاً اگر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی برقرار رہی یا مزید بڑھی۔ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں ممکنہ کمی کا عندیہ دیا گیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں عوام کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے، تاہم حتمی صورتحال عالمی منڈی کے رجحانات اور حکومتی مالیاتی پالیسیوں پر منحصر ہوگی۔