صنم جنگ ایک ماہ میں 6 ٹریفک ای چالان ملنے پر پریشان: "کئی جرمانے ایسے ہیں جو میں نے کیے ہی نہیں”

معروف اداکارہ و میزبان نے کراچی کے ای چالان نظام پر سوال اٹھا دیے، سیٹ بیلٹ نہ باندھنے جیسے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا، سوشل میڈیا پر ملتے جلتے تجربات کا سلسلہ شروع

پاکستانی اداکارہ اور معروف ٹی وی میزبان صنم جنگ ان دنوں کراچی کے جدید ای چالان نظام کی وجہ سے پریشان ہیں۔ انہوں نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو کے ذریعے مداحوں کو بتایا کہ پاکستان واپسی کے محض ایک ماہ کے دوران انہیں چھ ٹریفک جرمانے موصول ہو چکے ہیں، جن میں سے متعدد ایسے ہیں جن کی خلاف ورزی انہوں نے سرے سے کی ہی نہیں۔

واقعہ کیا ہے؟

صنم جنگ کے مطابق وہ ایک عرصہ بیرونِ ملک مقیم رہنے کے بعد حال ہی میں پاکستان واپس آئی ہیں، لیکن اس مختصر وقت میں انہیں بار بار جرمانے موصول ہونے پر سخت حیرانی ہوئی۔ اداکارہ نے بتایا کہ اتنی بڑی تعداد میں چالان ملنے کی وجہ سے گھر میں بھی ماحول کشیدہ ہو گیا ہے اور ان کے والد اس صورتحال پر خاصے ناراض دکھائی دیے۔ صنم جنگ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ایک طرف انہیں مسلسل ای چالان موصول ہو رہے ہیں تو دوسری طرف گھر والوں کی ڈانٹ بھی سننا پڑ رہی ہے۔

پہلا چالان: خود تسلیم کی گئی غلطی

اداکارہ نے اپنی ویڈیو میں واضح کیا کہ پہلا جرمانہ موبائل فون پر بات کرتے ہوئے گاڑی چلانے کی وجہ سے عائد کیا گیا تھا، جسے وہ مکمل طور پر درست تسلیم کرتی ہیں۔ صنم جنگ کا کہنا تھا کہ اگر وہ واقعی دورانِ ڈرائیونگ فون استعمال کر رہی تھیں تو اس پر جرمانہ بجا طور پر بنتا تھا اور انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

سیٹ بیلٹ کا تنازع

تاہم اداکارہ کے مطابق اس کے بعد موصول ہونے والے کچھ چالان ان کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر بھی جرمانہ کیا گیا، حالانکہ وہ برسوں سے بیرونِ ملک رہنے کے باعث ہر بار گاڑی اسٹارٹ کرنے سے پہلے سیٹ بیلٹ باندھنے کی عادی ہو چکی ہیں۔ ان کے بقول یہ عادت اتنی پختہ ہو چکی ہے کہ وہ سیٹ بیلٹ کے بغیر گاڑی چلانے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں، اسی لیے یہ جرمانہ ان کے لیے ناقابلِ فہم ہے۔ صنم جنگ نے سوال اٹھایا کہ آخر ایسے کاموں پر جرمانے کیوں عائد کیے جا رہے ہیں جو سرے سے کیے ہی نہیں گئے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل: صارفین کے اپنے تجربات

اداکارہ کی اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے اپنے ملتے جلتے تجربات شیئر کرنا شروع کر دیے۔ کئی افراد نے شکایت کی کہ انہیں بھی ایسی خلاف ورزیوں پر جرمانے موصول ہوئے جو انہوں نے کی ہی نہیں تھیں، جبکہ بعض صارفین نے اس نظام میں شفافیت اور جانچ پڑتال کے عمل کو مزید بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس بحث نے ایک بار پھر کراچی کے ای چالان سسٹم کی افادیت اور اس میں پائی جانے والی مبینہ خامیوں کو زیرِ بحث لے آیا ہے۔

کراچی کا ای چالان سسٹم آخر کام کیسے کرتا ہے؟

کراچی میں ٹریفک خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت جدید نگرانی کیمروں کا نیٹ ورک نصب کیا گیا ہے، جو خودکار طریقے سے مختلف نوعیت کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جن میں تیز رفتاری، سرخ بتی کی خلاف ورزی، غلط لین کا استعمال، موبائل فون پر بات کرتے ہوئے ڈرائیونگ، سیٹ بیلٹ یا ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنا اور غیر قانونی پارکنگ شامل ہیں۔ نظام میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے کیمرے گاڑی کی نمبر پلیٹ کو خودکار طریقے سے شناخت کر کے متعلقہ گاڑی کے مالک کے نام درج شدہ کوائف کی بنیاد پر براہِ راست ای چالان جاری کر دیتے ہیں، جسے عرفِ عام میں "فیس لیس چالان” یعنی بغیر افسر کی مداخلت کے جاری ہونے والا چالان کہا جاتا ہے۔

یہ نظام متعارف ہونے کے بعد سے کافی مؤثر ثابت ہوا ہے اور رپورٹس کے مطابق اس کی غیر جانبداری کی وجہ سے سرکاری گاڑیوں اور پولیس موبائلز تک کو چالان جاری کیے جا چکے ہیں، تاہم نظام کی خودکار نوعیت کے باعث بعض اوقات نمبر پلیٹ کی غلط شناخت یا تکنیکی خامیوں کے باعث غلط یا نقلی چالان بھی جاری ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ اسی وجہ سے ماضی میں اس نظام کے نفاذ اور جرمانوں کی بھاری شرح کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں بھی مقدمہ زیرِ سماعت رہا ہے۔

اگر آپ کو غلط ای چالان موصول ہو تو کیا کریں؟

سندھ پولیس کے قوانین کے تحت شہریوں کو غلط یا بلاجواز چالان کے خلاف باضابطہ اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل طریقہ کار اپنایا جا سکتا ہے:

  • سرکاری پورٹل پر جا کر اپنے شناختی کارڈ (CNIC) یا گاڑی کے رجسٹریشن نمبر کے ذریعے چالان کی مکمل تفصیلات، بشمول تاریخ، مقام، خلاف ورزی کی نوعیت اور کیمرے کی تصویر (اگر دستیاب ہو) کا بغور جائزہ لیں۔
  • چالان ریفرنس نمبر نوٹ کریں اور تمام تفصیلات کا اسکرین شاٹ یا دستاویزی ثبوت محفوظ رکھیں۔
  • ٹریفک پولیس ہیڈکوارٹرز (گارڈن) یا آن لائن شکایتی فارم کے ذریعے تحریری اپیل جمع کروائیں، جس میں ثبوت کے طور پر جی پی ایس ڈیٹا یا ویڈیو شواہد شامل کیے جا سکتے ہیں۔
  • سندھ موٹر وہیکل رولز 1969 اور موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے تحت شہری چالان موصول ہونے کے سات کارکردگی دنوں کے اندر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ٹریفک یا اس سے اعلیٰ حکام کو اپیل جمع کروا سکتے ہیں۔
  • اگر معاملہ حل نہ ہو تو شکایت کو سندھ محتسب کے دفتر تک بھی لے جایا جا سکتا ہے۔
  • شہری ٹریفک پولیس ہیلپ لائن 1915 پر رابطہ کر کے بھی ابتدائی تصدیق کروا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق اپیلوں پر عموماً 7 سے 10 کارکردگی دنوں کے اندر فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور اگر شواہد سے یہ ثابت ہو جائے کہ چالان غلطی سے یا تکنیکی خرابی کے باعث جاری ہوا تھا تو اسے منسوخ کر دیا جاتا ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ٹریفک امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خودکار کیمرہ بیسڈ نظام سڑکوں پر ڈسپلن قائم رکھنے اور رشوت ستانی جیسے مسائل کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاہم اس کی درستگی اور شفافیت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عام شہریوں کا نظام پر اعتماد برقرار رہے۔ صنم جنگ جیسی معروف شخصیات کی جانب سے اس مسئلے کو منظرِ عام پر لانا اس بحث کو مزید تقویت دے رہا ہے کہ متعلقہ ادارے شناخت اور تصدیق کے عمل میں مزید بہتری لائیں تاکہ درست خلاف ورزیوں پر سختی برقرار رہے جبکہ بے قصور شہریوں کو غلط جرمانوں سے تحفظ مل سکے۔