ملائیشیا کے وزیرِاعظم انور ابراہیم نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ ان کا ملک ریاستِ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور اگر کوئی اسرائیلی شہری ملائیشیا کی سرزمین پر پایا گیا تو اسے کسی تاخیر کے بغیر ملک بدر کر دیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی ریاست جوہر کے علاقے فاریسٹ سٹی میں قائم ایک نجی "ٹیک کمیونٹی” پر یہ الزام لگا ہے کہ اس میں دوہری شہریت رکھنے والے اسرائیلی باشندے دوسرے ممالک کے پاسپورٹ استعمال کرکے داخل ہوئے۔
معاملہ شروع کیسے ہوا؟
یہ تنازع "نیٹ ورک اسکول” نامی ایک نجی رہائشی و کوورکنگ کمیونٹی سے جڑا ہے جسے سابق امریکی کرپٹو کرنسی کمپنی کوائن بیس کے سابق چیف ٹیکنالوجی آفیسر بالاجی سری نواسن نے 2024 میں فاریسٹ سٹی، جوہر میں قائم کیا تھا۔ یہ کمیونٹی خود کو "ٹیکنو آپٹیمسٹس” یعنی ٹیکنالوجی کے دلدادہ افراد کے لیے ایک "فرنٹیئر کمیونٹی” کے طور پر پیش کرتی ہے، جہاں انٹرپرینیورز، سافٹ ویئر انجینئرز اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین رہائش، خوراک، جم اور کوورکنگ سہولیات کے بدلے تقریباً 1500 امریکی ڈالر ماہانہ ادا کرتے ہیں۔
حالیہ جوہر ریاستی انتخابات سے قبل سوشل میڈیا پر یہ الزامات گردش کرنے لگے کہ اس کمیونٹی میں مقیم کچھ افراد دراصل دوہری شہریت کے حامل اسرائیلی باشندے ہیں جنہوں نے غیر اسرائیلی پاسپورٹس کے ذریعے ملائیشیا میں داخلہ حاصل کیا۔ کارکن گروپ "ملائیشین پروٹیسٹ 4 فلسطین” نے الزام عائد کیا کہ نیٹ ورک اسکول جوہر میں ایک طرح کی "بستی” قائم کرنے کے لیے کاروباری افراد کو بھرتی کر رہا ہے، جبکہ بعض حلقوں نے اس منصوبے کو "ٹیک صہیونیت” یعنی نجی، خود مختار ٹیکنالوجی برادریوں کے قیام کے نظریے سے جوڑا۔
جوہر حکومت کا وفاقی تحقیقات کا مطالبہ
جوہر کے وزیرِاعلیٰ اونّ حافظ غازی نے ان الزامات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے وزارتِ داخلہ، امیگریشن، پولیس اور کسٹمز سمیت تمام متعلقہ وفاقی اداروں سے نیٹ ورک اسکول میں مقیم افراد کی جانچ پڑتال کا باقاعدہ مطالبہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت کسی بھی ایسے فریق کو جوہر کی سرزمین کو ایسی سوچ یا تحریک پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی جو قانون، خودمختاری یا جوہر و ملائیشیا کے مفادات کے خلاف ہو۔
اس کے نتیجے میں ملائیشیا کی وزارتِ داخلہ نے باضابطہ انکوائری کا آغاز کر دیا، جبکہ 14 جولائی کو حکام نے کیمپس کا معائنہ کیا اور 40 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مکینوں کے پاسپورٹس چیک کیے، جن میں دوہری شہریت کے حامل افراد بھی شامل تھے۔
انور ابراہیم: "ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے”
وزیرِاعظم انور ابراہیم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کی مکمل چھان بین کر رہے ہیں اور اگر کوئی بے ضابطگی سامنے آئی تو کارروائی یقینی ہے۔ ان کے بقول، "اگر اسرائیلی شہری ملوث پائے گئے تو انہیں فوری طور پر ملک بدر کر دیا جائے گا، کیونکہ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ملائیشیا قومی سلامتی اور اپنی خارجہ پالیسی کے معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
وزیرِاعظم نے یہ بھی بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ تعلیم زمبری عبدالقادر جلد اس معاملے پر تفصیلی بیان جاری کریں گے، کیونکہ نیٹ ورک اسکول کی سرگرمیوں کی نوعیت اور اس کے قانونی اندراج سے متعلق سوالات بھی وزارتِ اعلیٰ تعلیم اور ڈیجیٹل امور کی وزارت کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔
واضح رہے کہ ملائیشیا کا اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلق نہیں اور اصولی طور پر اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں کو ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی، سوائے خصوصی اجازت کی صورت میں۔ ملائیشیا طویل عرصے سے فلسطینی کاز کی حمایت اور اسرائیل کی مذمت کے حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم رہا ہے۔
نیٹ ورک اسکول کا ردِعمل: 50 کروڑ رنگٹ کی سرمایہ کاری روک دی
تنازع کے بعد نیٹ ورک اسکول کے بانی بالاجی سری نواسن نے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی نے ملائیشیا میں تقریباً 500 ملین رنگٹ (تقریباً 100 ملین امریکی ڈالر سے زائد) مالیت کی مجوزہ توسیعی سرمایہ کاری فی الحال روک دی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ جب تک انہیں یہ یقین دہانی نہیں مل جاتی کہ ایسا تنازع دوبارہ جنم نہیں لے گا، وہ مزید سرمایہ کاری نہیں کریں گے۔
سری نواسن نے وزیرِاعظم انور ابراہیم کے دفتر سے ملاقات کی درخواست بھی کی تاکہ حکومت کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر بات چیت کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 18 ماہ میں، بغیر کسی سرکاری فنڈنگ کے، نیٹ ورک اسکول نے 70 سے زائد ممالک کے ہزاروں انجینئرز، سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کو اپنی جانب متوجہ کیا اور 100 ملین رنگٹ سے زائد کیمپس میں لگائے۔ انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر ملائیشیا ان کی سرمایہ کاری نہیں چاہتا تو وہ اپنا سرمایہ دیگر ممالک منتقل کر لیں گے۔ ناقدین نے اس بیان کو "دباؤ کی سیاست” یا ایک طرح کی مالی بلیک میلنگ قرار دیا ہے۔
بالاجی سری نواسن اور "ٹیک صہیونیت” کی بحث
بالاجی سری نواسن ایک امریکی کاروباری شخصیت، سرمایہ کار اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے چار ڈگریاں رکھنے والے محقق ہیں جو کرپٹو کرنسی، بائیوٹیکنالوجی اور وینچر کیپیٹل کے شعبوں میں طویل کیریئر رکھتے ہیں۔ وہ "نیٹ ورک اسٹیٹ” کے نظریے کے حامی ہیں، جس کے تحت نجی، خود مختار اور ڈیجیٹل کرنسی سے چلنے والی برادریوں کے قیام کی وکالت کی جاتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سری نواسن کے اسرائیل نواز خیالات اور "ٹیک صہیونیت” سے وابستگی نے اس منصوبے کو مزید متنازع بنا دیا ہے، جس کے باعث مقامی سطح پر شدید تحفظات جنم لے رہے ہیں۔
فلسطین کے حق میں ملائیشیا کا مستقل مؤقف
انور ابراہیم کی حکومت آغاز سے ہی فلسطینی کاز کی پرجوش حمایت کے لیے جانی جاتی ہے۔ ماضی میں بھی انہوں نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی اور فلسطینی رہنماؤں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ موجودہ بیان کو اسی مستقل پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت ملائیشیا نہ صرف اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہیں کرتا بلکہ اپنی سرزمین پر اسرائیلی شہریوں کی موجودگی کو بھی سختی سے مسترد کرتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
فی الحال وزارتِ داخلہ، امیگریشن اور دیگر متعلقہ ادارے نیٹ ورک اسکول میں مقیم افراد کی شناخت اور دستاویزات کی جانچ میں مصروف ہیں۔ اگر تحقیقات میں اسرائیلی شہریوں کی موجودگی ثابت ہو جاتی ہے، تو حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ فوری ملک بدری کا عمل شروع کیا جائے گا۔ دوسری جانب نیٹ ورک اسکول کے مستقبل اور جوہر میں اس کی سرمایہ کاری کا انحصار بھی اس بات پر ہوگا کہ وزیرِاعظم کا دفتر بالاجی سری نواسن کی ملاقات کی درخواست پر کیا ردِعمل دیتا ہے۔
یہ معاملہ ملائیشیا میں غیر ملکی سرمایہ کاری، قومی خودمختاری اور فلسطین کے حق میں اصولی مؤقف کے درمیان توازن قائم رکھنے کی ایک نئی آزمائش بن چکا ہے۔