تہران: ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری فوجی تصادم میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایرانی جوابی حملوں میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور اس سے کہیں زیادہ تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی حکام نے تاحال ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے ایرانی خبر ایجنسی تسنیم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 8 جولائی سے 21 جولائی کے درمیان ایرانی افواج نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ’’نصر 2‘‘ نامی کارروائی کے دوران ہی 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ جنرل محبی نے واشنگٹن کی جانب سے جاری کردہ ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے انہیں حقیقت سے دور قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ آزاد صحافیوں کو متاثرہ امریکی فوجی مراکز کے دورے کی اجازت دی جائے تاکہ اصل نقصان کا آزادانہ جائزہ لیا جا سکے۔
آئی آر جی سی ترجمان کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایرانی حملوں میں امریکی فوج کے 11 جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر تباہ کیے گئے، جن میں ایک ایف-15 لڑاکا طیارہ، ایک پی-8 بحری نگرانی طیارہ، ایک سی-17 ٹرانسپورٹ طیارہ اور آٹھ فضائی ری فیولنگ طیارے شامل ہیں۔ ایک مقام پر 20 حفاظتی ہینگرز (شیلٹرز) بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی اڈوں پر ڈرون ذخیرہ گاہوں، کمانڈ سینٹرز، پیٹریاٹ دفاعی نظام اور ایندھن ڈپوؤں کو نشانہ بنانے کے بھی دعوے کیے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) اور دیگر مغربی ذرائع نے ایرانی دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ امریکی حکام کے مطابق حالیہ جنگ میں امریکی فوج کی ہلاکتیں محدود تعداد میں رہی ہیں، جبکہ درجنوں فوجی زخمی ہونے کی اطلاعات موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے تنازعات میں فریقین اکثر اپنی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، اس لیے اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہوتی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری یہ تنازع رواں سال کے اوائل میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوا تھا، جس کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بارہا نشانہ بنانے کے دعوے کیے۔ درمیان میں ایک عارضی جنگ بندی بھی طے پائی تھی، تاہم حالیہ ہفتوں میں دونوں جانب سے حملوں میں دوبارہ شدت آئی ہے، جس سے خطے میں امن کی کوششیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
چونکہ میدانِ جنگ تک صحافیوں اور آزاد مبصرین کی رسائی محدود ہے، اس لیے دونوں فریقین کے دعووں کی حتمی تصدیق فی الحال ممکن نہیں۔ عالمی میڈیا اور تجزیہ کار ان دعووں کو احتیاط کے ساتھ رپورٹ کر رہے ہیں، جبکہ خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ حقیقی نقصان اور جانی ہلاکتوں کا درست تخمینہ سامنے آ سکے۔