بغداد سے موصولہ رپورٹس کے مطابق عراق کے سب سے بااثر شیعہ سیاسی و مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر نے ایک سخت اور بروقت بیان جاری کرتے ہوئے ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC) اور اس سے وابستہ عراقی مسلح گروہوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ عراقی سرزمین کو کسی بھی نوعیت کی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے سے مکمل طور پر گریز کریں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطہ گزشتہ کئی ماہ سے ایران اور امریکہ-اسرائیل اتحاد کے درمیان جاری کشیدہ جنگ کے زیرِ اثر ہے، اور عراق کی سرزمین بار بار اس تنازعے کی زد میں آ چکی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں مقتدیٰ الصدر نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کو عراقی سرزمین سے مکمل طور پر دور رہنا چاہیے اور ایسی کسی بھی سرگرمی سے اجتناب کرنا چاہیے جو ملک کے لیے نئے خطرات جنم دے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ بے قابو اور غیر ریاستی ملیشیاؤں کی کارروائیاں خلیجی ممالک کو یہ جواز فراہم کر رہی ہیں کہ وہ جوابی کارروائی کے طور پر عراقی سرزمین کو نشانہ بنائیں — ایک ایسا منظرنامہ جو براہِ راست عام عراقی شہریوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
عراقی رہنما نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ ایسے اقدامات سے مکمل گریز کریں جو خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی گروہ یا ادارے کو نام نہاد "صہیونی اور امریکی منصوبوں” کا آلہ کار بن کر برادر اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اس طرح کی لڑائی کا حتمی نقصان صرف مسلمان اقوام کو ہی پہنچے گا۔
اپنے بیان میں مقتدیٰ الصدر نے عراق کی خودمختاری کی بار بار ہونے والی خلاف ورزیوں کی کھلے الفاظ میں مذمت کی۔ ان کے مطابق بعض مسلح گروہ، جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایران سے وابستہ ہیں، عراق کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے ملک کو کوئی سیاسی، اقتصادی یا سکیورٹی فائدہ حاصل نہیں ہوگا، بلکہ الٹا نقصان کا اندیشہ ہے۔
انہوں نے عراقی حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ ریاست کی عملداری (state writ) کو مضبوط بنائے اور ملک میں موجود تمام مسلح سرگرمیوں کو قانون کے دائرہ کار میں لے آئے، تاکہ کوئی بھی غیر ریاستی عنصر ملکی سلامتی کے فیصلوں پر اثرانداز نہ ہو سکے۔ یہ بیان اس تناظر میں اہم ہے کہ رواں سال مئی میں مقتدیٰ الصدر پہلے ہی اپنی مسلح شاخ "سرایا السلام” کو تحلیل کر کے اسے باقاعدہ عراقی ریاستی ڈھانچے میں ضم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں — ایک ایسا اقدام جسے عراقی وزیراعظم اور مسلح افواج کے سربراہ نے بھی سراہا تھا۔
مقتدیٰ الصدر نے اپنے بیان میں ایک اور اہم خطرے کی نشاندہی کی — ان کا کہنا تھا کہ عراق کے اندر اور باہر موجود غیر فعال (dormant) دہشت گرد عناصر موجودہ فرقہ وارانہ کشیدگی سے فائدہ اٹھا کر دوبارہ متحرک ہو سکتے ہیں اور ملک کو عدم استحکام کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔ یہ انتباہ خاص طور پر اس پس منظر میں اہم ہے کہ عراق کو ماضی میں داعش جیسی تنظیموں کے ہاتھوں شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے، اور کوئی بھی نیا سکیورٹی خلا ایسے عناصر کے لیے دوبارہ منظم ہونے کا موقع بن سکتا ہے۔
اپنے بیان کے ایک نمایاں حصے میں مقتدیٰ الصدر نے واضح کیا کہ عراق اور اس کے عوام کو مزید جنگوں کی نہیں بلکہ پائیدار امن کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے مسلسل تنازعات — چاہے وہ 2003 کے بعد کی خانہ جنگی ہو، داعش کے خلاف جنگ ہو یا ایران-امریکہ کشیدگی کا اثر — نے عراق کے قدرتی وسائل، معیشت اور بین الاقوامی وقار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایک اور جنگ ملک کی پہلے سے کمزور معیشت کو مکمل طور پر تباہ کر سکتی ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر مقتدیٰ الصدر نے خطے کے تمام ممالک سے امن، باہمی مفاہمت اور تعاون کی اپیل کی۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کو غیر ملکی فوجی اڈوں، جبری تعلقاتی تبدیلیوں اور بیرونی مداخلت سے مکمل طور پر پاک ہونا چاہیے، تاکہ خطے کے ممالک اپنے داخلی معاملات میں خودمختار فیصلے کر سکیں۔
مقتدیٰ الصدر کا یہ بیان کسی خلا میں سامنے نہیں آیا، بلکہ یہ فروری 2026 سے جاری امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست جنگ کے پس منظر میں دیا گیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں عراقی سرزمین بار بار اس تنازعے کا میدان بنی ہے:
- سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حملے: امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایران نواز ملیشیاؤں نے عراقی سرزمین سے 30 سے زائد ڈرون حملے کیے، جن کا نشانہ مشرقی سعودی عرب میں واقع تیل تنصیبات تھیں۔
- امریکی-سعودی جوابی کارروائی: ان حملوں کے جواب میں امریکی اور سعودی جنگی طیاروں نے مشرقی عراق میں ایران نواز عسکری ٹھکانوں اور اسلحہ ذخائر کو نشانہ بنایا — یہ پہلا موقع ہے جب سعودی عرب نے عراقی سرزمین کے اندر براہِ راست حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
- اردن اور اسرائیل پر بھی حملے: اسی دوران اردن اور اسرائیل کی سرحدوں کے قریب بھی ڈرون حملے رپورٹ ہوئے، جن میں سے اکثر کا منبع تاحال غیر واضح ہے۔
- آبنائے ہرمز کی بندش: ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے اعلان نے عالمی توانائی منڈی میں مزید غیریقینی پیدا کر دی ہے۔
اس پیچیدہ اور تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال میں عراق خود کو ایک ایسے محلِ وقوع میں پاتا ہے جہاں اسے نہ چاہتے ہوئے بھی بڑی طاقتوں کی جنگ کا میدان بننے کا خطرہ لاحق ہے — اور یہی وہ خدشہ ہے جسے مقتدیٰ الصدر نے اپنے بیان میں کھل کر بیان کیا۔
مقتدیٰ الصدر عراقی سیاست میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک بااثر شیعہ مذہبی رہنما ہیں بلکہ عراقی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی سیاسی قوت کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ حالیہ برسوں میں انہوں نے بارہا اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ عراق کو کسی بھی بیرونی طاقت — چاہے وہ ایران ہو یا امریکہ — کے زیرِ اثر جنگی میدان نہیں بننا چاہیے۔ اسی مؤقف کے تحت رواں سال انہوں نے اپنی مسلح تنظیم سرایا السلام کو باضابطہ طور پر تحلیل کر کے ریاستی کنٹرول میں دینے کا تاریخی فیصلہ بھی کیا تھا، جسے عراق میں غیر ریاستی مسلح گروہوں کے خاتمے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔
مقتدیٰ الصدر کا تازہ بیان دراصل عراق کی اس نازک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جہاں ملک ایک طرف ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور سیاسی روابط رکھتا ہے، تو دوسری طرف خلیجی ممالک اور مغرب کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھنے پر مجبور ہے۔ ایسے میں غیر ریاستی مسلح گروہوں کی کارروائیاں نہ صرف عراق کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ملک کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل سکتی ہیں جس کا کوئی فاتح نہیں ہوگا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا عراقی حکومت اور ایران نواز گروہ مقتدیٰ الصدر کی اس تنبیہ پر عملدرآمد کرتے ہیں یا خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔