براڈ پیک پر ہولناک برفانی تودہ: دنیا کے مشہور ترین کوہ پیما نرمل پرجا سمیت 10 افراد لاپتہ

پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں واقع قراقرم کے پہاڑی سلسلے نے ایک بار پھر کوہ پیمائی کی دنیا کو ایک سنگین سانحے سے دوچار کر دیا ہے۔ دنیا کے 12ویں بلند ترین پہاڑ براڈ پیک (8,047 میٹر) پر جمعرات کے روز دن کے وقت ایک زوردار برفانی تودہ گرنے سے دس کوہ پیماؤں پر مشتمل ایک بین الاقوامی مہم جوئی ٹیم لاپتہ ہو گئی، جس کی قیادت دنیا کے مشہور ترین کوہ پیما نیپالی نژاد نرمل "نمز” پرجا کر رہے تھے۔
الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) نے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا کہ اسے قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں براڈ پیک پر دوپہر کے وقت برفانی تودہ گرنے سے ٹیم کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ کلب کے مطابق واقعے کے بعد سے پوری ٹیم رابطے سے باہر ہے اور کسی بھی کوہ پیما تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ کلب نے واضح کیا کہ اس مہم میں شامل تمام ارکان — چاہے وہ نیپالی گائیڈز ہوں، غیر ملکی کلائنٹس ہوں یا مقامی پاکستانی رہنما — واقعے کے وقت چوٹی کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے۔

اے سی پی کے مطابق اس مہم میں شامل دس کوہ پیماؤں کی قومیت اور شناخت کچھ یوں ہے:

  • نرمل پرجا (نمز پرجا): مہم کے سربراہ، نیپالی نژاد دنیا کے مشہور ترین جدید کوہ پیما، جو "ایلیٹ ایکسپیڈ” نامی مہم جوئی کمپنی کی قیادت کر رہے تھے۔
  • پانچ نیپالی کوہ پیما و گائیڈز — جن میں سے کچھ کی شناخت گیلو شیرپا اور ناوانگ تھنڈو شیرپا کے نام سے سامنے آئی ہے۔
  • سہیل ساخی — ہنزہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی پہاڑی گائیڈ۔
  • میلوری گیس (Mallory Geis) — امریکی کوہ پیما، جو سہیل ساخی کی کلائنٹ کے طور پر مہم میں شریک تھیں۔
  • نتھیرا الحارثی — عمان سے تعلق رکھنے والی خاتون کوہ پیما۔
  • وانگ نامی چینی کوہ پیما۔
  • ایک اضافی غیر ملکی کوہ پیما، جن کی قومیت اور شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔

نیپالی مہم جوئی کمپنی "سیون سمٹ ٹریکس” نے بھی تصدیق کی کہ نتھیرا الحارثی، گیلو شیرپا اور ناوانگ تھنڈو شیرپا لاپتہ کوہ پیماؤں میں شامل ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق زمینی امدادی ٹیموں نے موقع سے چار لاشیں برآمد کر لی ہیں، تاہم ابھی تک ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ الپائن کلب آف پاکستان کے صدر عرفان ارشد خان کے مطابق ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ کلب کی جنرل سیکرٹری ایاز احمد شگری کے مطابق چار کوہ پیماؤں کی مقام کی نشاندہی جی پی ایس ٹریکرز کے ذریعے ہو رہی ہے، جس سے امدادی ٹیموں کو تلاش میں کچھ مدد مل رہی ہے۔

الپائن کلب کے مطابق ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ ہیلی کاپٹر کی مدد اور تمام دستیاب ریسکیو وسائل کو موسم اور آپریشنل حالات کی اجازت کے مطابق جلد از جلد موقع پر متحرک کیا جائے۔ تاہم قراقرم کا یہ خطہ انتہائی دشوار گزار اور دور دراز ہے، جہاں مواصلاتی رابطے اور ہیلی کاپٹر امداد کی سہولیات نہایت محدود ہیں، جس کے باعث ریسکیو کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اس سانحے سے متعلق ایک نہایت تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق برفانی تودہ جمعرات کی صبح تقریباً 9:20 بجے گرا تھا، مگر الپائن کلب آف پاکستان کو اس واقعے کی اطلاع رات تقریباً 10 بجے، یعنی تقریباً 13 گھنٹے کی تاخیر سے موصول ہوئی۔ کلب کی رہنما نائلہ کیانی نے اس تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں اس بارے میں رات 10 بجے ہی معلوم ہوا،” اور اس تاخیر کے باعث وہ قیمتی وقت ضائع ہو گیا جس میں دن کی روشنی کا فائدہ اٹھا کر ہیلی کاپٹر امداد جائے وقوعہ تک پہنچ سکتی تھی۔ کلب کے مطابق تمام لوگ اس تاخیر پر "حیران و ششدر” ہیں، کیونکہ ہر ٹیم کا بیس کیمپ پر عملہ موجود ہوتا ہے اور عموماً دیگر کوہ پیما بھی وہاں موجود ہوتے ہیں۔