جنوبی جاپان کے جزیرے کیوشو کو 28 جولائی 2026 کی سہ پہر ایک بڑے قدرتی سانحے کا سامنا کرنا پڑا، جب کوماموتو صوبے میں 7.1 شدت کا زوردار زلزلہ آیا۔ اس زلزلے نے نہ صرف عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ ایک مصروف شاپنگ مال کی چھت گرنے اور اس کے بعد دھماکے سے درجنوں افراد کو ملبے تلے دبا دیا۔ اب تک 13 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ درجنوں لاپتہ ہیں، اور امدادی ٹیمیں وقت کے خلاف دوڑ لگا رہی ہیں۔
جاپان کے محکمہ موسمیات (JMA) کے مطابق یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تقریباً 4:27 بجے آیا۔ ابتدائی طور پر اس کی شدت 7.1 ریکارڈ کی گئی اور اس کی گہرائی زمین کی سطح سے محض چھ میل سے کچھ زیادہ بتائی گئی — یعنی یہ ایک نہایت "اتھلا” زلزلہ تھا، جو عام طور پر زیادہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ زلزلے کا مرکز کوماموتو شہر سے تقریباً 12 میل جنوب میں واقع تھا۔ امریکی ادارہ برائے ارضیاتی سروے (USGS) نے بعد ازاں شدت کو نظرثانی کر کے 6.8 مقرر کیا، تاہم جاپانی حکام کے مطابق مقامی زلزلہ پیمانے پر اس کی شدت "شندو 7” تک پہنچ گئی — جو جاپان کے پیمانے کی سب سے بلند ترین سطح ہے۔
خیال رہے کہ کوماموتو خطہ زلزلوں کے لیے کوئی نیا نام نہیں۔ یہ علاقہ بحرالکاہل کی "رنگ آف فائر” پر واقع ہے جہاں دنیا بھر کے زیادہ تر شدید زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں ریکارڈ ہوتی ہیں۔ سن 2016 میں بھی اسی خطے میں زلزلوں کے ایک سلسلے نے قریب 300 افراد کی جان لے لی تھی، اس لیے مقامی آبادی کے لیے یہ تازہ جھٹکے پرانے صدمات کی یاد تازہ کر گئے۔
اس آفت کا سب سے ہولناک پہلو کاشیما ٹاؤن میں واقع AEON شاپنگ سینٹر کا حادثہ رہا۔ زلزلے کے جھٹکوں کی شدت سے مال کی دوسری منزل کا ایک بڑا حصہ منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں عمارت کے اندر موجود نامعلوم تعداد میں افراد ملبے تلے دب گئے۔ مقامی گواہوں کے مطابق زلزلے کے فوراً بعد عمارت میں ایک زوردار دھماکہ ہوا، جس سے دھوئیں کا ایک بڑا بادل فضا میں بلند ہوا اور ہوا کے رخ کی وجہ سے قریبی علاقے راکھ جیسے مادّے سے ڈھک گئے۔
فائر ڈیپارٹمنٹ حکام کے مطابق مال کے 20 سے 30 کے قریب ملازمین ابتدائی طور پر لاپتہ قرار دیے گئے تھے، جن میں سے متعدد کو بعد میں ملبے سے نکال کر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ریسکیو ٹیمیں اب بھی عمارت کے باقی ماندہ حصوں میں پھنسے ممکنہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
نقصان صرف شاپنگ مال تک محدود نہیں رہا۔ یاتسوشیرو شہر میں نپون پیپر انڈسٹریز کی ایک فیکٹری کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ زلزلے کے جھٹکوں سے فیکٹری کی ایک بلند چمنی ٹوٹ کر گر گئی، اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وہاں نو افراد کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ مقامی حکام نے بتایا کہ فیکٹری کے احاطے سے دو افراد کو تشویشناک حالت میں نکالا گیا، جن کی صحت کی صورتحال کے بارے میں فوری تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ رات بھر جاری رہنے والی امدادی کارروائیوں میں فوجی دستے بھی شامل کر لیے گئے۔
زلزلے کے فوراً بعد جاپان کے محکمہ موسمیات نے کوماموتو، ناگاساکی، فوکوؤکا اور ساگا صوبوں کے مغربی ساحلی علاقوں — خصوصاً اریاکے اور یاتسوشیرو خلیجوں — کے لیے سونامی ایڈوائزری جاری کر دی تھی۔ ممکنہ لہروں کی بلندی ایک میٹر تک بتائی گئی تھی۔ وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پیغام جاری کر کے ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت دی۔
تاہم چونکہ یہ زلزلہ سمندر کے بجائے خشکی میں آیا تھا، اس لیے تقریباً دو گھنٹے بعد سمندری سطح میں کسی غیر معمولی تبدیلی کی عدم موجودگی پر یہ ایڈوائزری واپس لے لی گئی۔ محکمہ موسمیات کے ایک اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ خطے میں فعال زلزلہ سرگرمی جاری ہے اور اگلے دو سے تین دن کے دوران مزید بڑے جھٹکوں کا امکان موجود ہے، اس لیے رہائشیوں کو احتیاط برتنے کی تلقین کی گئی۔
خطے میں موجود جوہری تنصیبات کے حوالے سے اچھی خبر یہ رہی کہ جاپان کی نیوکلیئر ریگولیشن اتھارٹی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو باضابطہ طور پر مطلع کیا کہ سینڈائی نیوکلیئر پاور پلانٹ سمیت قریبی تینوں جوہری تنصیبات میں کسی قسم کی خرابی یا نقصان کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
تاہم عمومی بنیادی ڈھانچے کو کافی نقصان پہنچا:
- کیوشو ایکسپریس وے کا ایک بلند حصہ زلزلے سے متاثر ہوا۔
- شنکانسن بلٹ ٹرینوں سمیت مقامی ریل سروسز کو حفاظتی معائنے کی غرض سے معطل کر دیا گیا۔
- آسو کوماموتو ایئرپورٹ کا رن وے بند کر دیا گیا، اور فوری بحالی کا کوئی امکان نہیں بتایا گیا۔
- 36 ہزار سے زائد گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی۔
- متعدد مقامات پر سڑکیں اور پل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے۔
بدھ کے روز پریس کانفرنس میں وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے تصدیق کی کہ کوماموتو صوبے میں اب تک کم از کم 13 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا کیونکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا: "اب بھی لوگ ریسکیو کے منتظر ہیں، اور یہ وقت کے خلاف ایک دوڑ ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ جانیں بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں گے۔”
آفات کے انتظام سے متعلق سرکاری ادارے کے مطابق تقریباً 260,000 سے 300,000 کے درمیان رہائشیوں کو حفاظتی طور پر پناہ گاہوں کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی، جبکہ سینکڑوں فوجی جوانوں کو امدادی اور بچاؤ کارروائیوں میں تعینات کیا گیا ہے۔ آفٹر شاکس کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جس کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں میں مزید احتیاط برتی جا رہی ہے۔
وزیراعظم تاکائیچی کی حکومت نے زلزلے کے فوراً بعد ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی، جس کا مقصد نقصانات کا جائزہ لینا اور ریسکیو آپریشنز کو مربوط انداز میں آگے بڑھانا ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طبی امداد، خوراک اور عارضی رہائش کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
کوماموتو کا یہ زلزلہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ جاپان، دنیا کے زلزلہ زدہ ترین خطوں میں سے ایک ہونے کے باوجود، اپنے جدید وارننگ سسٹمز اور تعمیراتی معیارات کی بدولت بڑے پیمانے پر جانی نقصان کو محدود رکھنے میں کسی حد تک کامیاب رہا ہے — تاہم AEON مال اور پیپر فیکٹری جیسے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ہنگامی حالات میں انسانی جانوں کا تحفظ اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور صورتحال میں تبدیلی متوقع ہے۔