تل ابیب/دمشق/انقرہ: شام کے صوبے ادلب میں واقع ابو الضہور فوجی ایئربیس پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ امریکا نے بھی اس اقدام کو ’’غیر ضروری کشیدگی‘‘ قرار دے کر اپنے قریبی اتحادی اسرائیل پر تنقید کی ہے۔
شامی سرکاری ٹی وی الاخباریہ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے حلب کے قریب واقع ابو الضہور ایئربیس کے رن وے اور گودام کی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے مجموعی طور پر آٹھ فضائی حملے کیے۔ فوجی ذرائع اور اڈے کے قریب رہائشی ایک شہری کے مطابق حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ بشار الاسد کی حکومت کے دسمبر 2024ء میں خاتمے کے بعد شامی حکومتی تنصیبات پر اسرائیل کا پہلا حملہ تھا۔
تقریباً بیس گھنٹے کی سرکاری خاموشی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور شام کے درمیان سیکیورٹی امور میں موجودہ صورتحال (اسٹیٹس کو) برقرار رکھنے پر مفاہمت طے پائی تھی، تاہم شام نے حلب کے قریب ایک ایئربیس پر ترک فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت دے کر اس مفاہمت کی خلاف ورزی کے قریب پہنچ کر اسے خطرے میں ڈال دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل نے شام کو بارہا خبردار کیا تھا کہ ایسی تعیناتی اس کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، لیکن دمشق نے ان انتباہات کو نظرانداز کیا۔ بیان میں براہِ راست حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا گیا۔
ترک وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ الزامات دراصل شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کی کوشش ہیں۔ ترکیہ نے حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو اس کے اقدامات کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل 6 اگست کو ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے شامی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ شام کے خلاف اسرائیلی حملے ملک کے استحکام کے لیے سب سے بڑے خطرات میں شامل ہیں۔
امریکی خصوصی ایلچی برائے شام و عراق ٹام بیراک نے تصدیق کی کہ حملے اسرائیل نے کیے، اور انہیں ’’غیر ضروری کشیدگی‘‘ قرار دیا جو علاقائی استحکام کو فروغ نہیں دیتی۔ انہوں نے تمام فریقین سے مزید فوجی واقعات کی بجائے مذاکرات کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملہ امریکا کی اس پالیسی سے واضح انحراف ہے جس کے تحت واشنگٹن شام کی نئی، ترک حمایت یافتہ حکومت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بشار الاسد کے زوال کے بعد سے اسرائیل شام میں سینکڑوں فضائی حملے کر چکا ہے اور اسرائیلی فوج مقبوضہ گولان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی نگرانی والے بفر زون میں بھی داخل ہو چکی ہے۔ دوسری جانب ترکیہ، جو شام کی نئی قیادت کا قریبی اتحادی ہے، وسطی شام میں واقع اہم ٹی-4 ایئربیس کو ڈرون کی تنصیبات میں تبدیل کرنے اور وہاں فضائی دفاعی نظام تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے، جسے اسرائیل اپنے فضائی آپریشنز کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے۔ اسی تناؤ کے پیشِ نظر گزشتہ برس دونوں ممالک نے شام میں کسی حادثاتی تصادم سے بچنے کے لیے براہِ راست رابطے کا ایک چینل بھی قائم کیا تھا۔