ریاض: سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سیکیورٹی منظرنامے میں ایک نیا موڑ متعارف کرا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاہدے کو سراہتے ہوئے اسے ’’جراتمندانہ اور اہم پہلا قدم‘‘ قرار دیا ہے جو تینوں ممالک کو اپنی حفاظت زیادہ مؤثر انداز میں کرنے کے قابل بنائے گا۔
یہ تاریخی معاہدہ 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے دستخطوں سے طے پایا۔ وزیراعظم شہباز شریف 6 اگست کو جدہ پہنچے تھے اور اگلے روز مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کرنے کے بعد اس اہم دستاویز پر دستخط کیے۔ اس موقع پر تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور دفاع بھی موجود تھے۔
معاہدے کی بنیادی شق یہ ہے کہ اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ ہوتا ہے، تو اسے تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اجتماعی طور پر اس کا جواب دیا جائے گا۔ ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے اس شق کا موازنہ نیٹو کے آرٹیکل 5 سے کیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ ایران یا کسی اور مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ ماہرین کے مطابق معاہدے کا باضابطہ متن ابھی تک سرکاری طور پر جاری نہیں کیا گیا، اور اس کی عملی نوعیت واضح ہونا ابھی باقی ہے۔
اس اتحاد میں شامل تینوں ممالک الگ الگ طاقتور خصوصیات رکھتے ہیں۔ پاکستان دنیا کی واحد مسلم ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع فوجی تجربہ اور دفاعی پیداواری صلاحیت رکھتا ہے۔ ترکیہ نیٹو کی دوسری بڑی فوج اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مقامی دفاعی صنعت کا حامل ہے۔ جبکہ سعودی عرب خطے میں بھاری مالی وسائل اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے۔ سعودی عرب کو اس دوران ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بھی بننا پڑا، جس سے واشنگٹن کی سیکیورٹی ضمانتوں پر خلیجی ممالک کا اعتماد کمزور ہوا۔ اسی پس منظر میں گزشتہ سال ستمبر 2025ء میں سعودی عرب اور پاکستان نے الیمامہ محل ریاض میں دو طرفہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے اب ترکیہ کی شمولیت سے ایک وسیع تر سہ فریقی فریم ورک میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2026ء کے وسط تک پاکستان پہلے ہی سعودی عرب میں ہزاروں فوجی، لڑاکا طیارے، ڈرونز اور فضائی دفاعی نظام تعینات کر چکا تھا۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور پہلے سے موجود دو طرفہ یا کثیرملکی معاہدوں کی جگہ نہیں لے گا، اور اس میں شمولیت کے خواہشمند دیگر ممالک کے لیے بھی گنجائش موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق مارچ 2026ء کے ریاض اجلاس کے دوران مصر کو بھی اس معاہدے میں شامل کرنے پر غور کیا گیا تھا، تاہم بوجوہ وہ اس میں شامل نہیں ہو سکا۔ ترک حکام کے مطابق مستقبل میں اتحاد کو وسعت دینے کی خواہش موجود ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے حمایت کے باوجود تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دراصل خطے کے ممالک کی جانب سے اپنی سیکیورٹی کو زیادہ خودمختار بنانے کی کوشش ہے، نہ کہ امریکا سے مکمل علیحدگی۔ دوسری جانب بھارت نے بھی اس معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ نئی دہلی معاہدے کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔