خاران میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، سیکیورٹی فورسز نے 7 دہشت گرد ہلاک کر دیے

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خاران کے علاقے لجے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات ملنے پر سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی۔ جھڑپ کے دوران فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 7 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے۔ آپریشن مکمل ہونے کے بعد فورسز نے علاقے میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے جدید اسلحہ، بھاری مقدار میں گولہ بارود اور دیگر جنگی سازوسامان کے علاوہ دو گاڑیاں اور ایک موٹرسائیکل بھی برآمد کی گئیں، جنہیں موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد خاران اور لجے کے علاقوں میں لوٹ مار، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ ذرائع کے مطابق یہ دہشت گرد بھارتی پراکسی ’’فتنہ الہندوستان‘‘ سے منسلک تھے۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال بلوچستان میں سرگرم عمل تمام دہشت گرد گروہوں کو باضابطہ طور پر ’’فتنہ الہندوستان‘‘ قرار دیا تھا، جس میں بھارت پر ان تنظیموں کی سرپرستی کے ذریعے پراکسی وار چلانے کا الزام عائد کیا گیا۔ فتنہ الخوارج دراصل کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کی جانے والی سرکاری اصطلاح ہے۔
یہ کارروائی آپریشن رَدُّالفتنہ 3 کے تحت کی جانے والی حالیہ سلسلہ وار خفیہ کارروائیوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد بلوچستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے۔ خاران آپریشن سے چند روز قبل ہی سیکیورٹی فورسز نے ضلع پنجگور کے علاقے سرکینی و چڈگی میں کارروائی کرتے ہوئے ایک اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا، جبکہ اس سے قبل خضدار کے شور پروڈ پہاڑی سلسلے میں بھی ایک آپریشن کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آخری دہشت گرد کے خاتمے تک تعاقب جاری رہے گا اور دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے خاران میں کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار بہادر سپوت پوری قوم کا فخر ہیں اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں قابلِ تحسین ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ 2021ء میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں یہی دونوں صوبے ملک میں تشدد کے سب سے متاثرہ علاقے رہے، جن میں خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ اس تناظر میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچستان میں کی جانے والی مسلسل کارروائیاں ریاست کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔