مکہ دفاعی اتحاد کا ہنگامی اجلاس: پاکستان اور ترکیہ کے فوجی دستے فوری سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ

ریاض: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تینوں رکن ممالک، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے پیر کے روز ریاض میں ایک ہنگامی اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ وہ اجتماعی تحفظ کے اقدامات فعال کرتے ہوئے سعودی عرب میں اپنی افواج اور دفاعی وسائل فوری طور پر تعینات کریں گے۔ یہ فیصلہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے حملوں کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔

اجلاس میں کن رہنماؤں نے شرکت کی؟

دفترِ خارجہ سے جاری اعلامیے کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم تزویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی کا یہ ہنگامی اجلاس ریاض میں منعقد ہوا، جس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ پاکستانی وفد کی قیادت نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کی، جبکہ وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ خیال رہے کہ یہ ہنگامی اجلاس تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی 24 ستمبر کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے تقریباً دو ہفتے بعد طلب کیا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود پہلے سیکرٹری جنرل مقرر

ادارہ جاتی تشکیل کے سلسلے میں کمیٹی نے مکہ الائنس فار ڈیفنس کے پہلے سیکرٹری جنرل کے طور پر پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود ہلالِ امتیاز (ملٹری) کی تین سالہ مدت کے لیے نامزدگی کی توثیق کی۔ اتحاد کا مستقل سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔ تمام فریقین نے نئے سیکرٹری جنرل کو خوش آمدید کہتے ہوئے اتحاد کے مقاصد کے حصول میں ان کی خدمات پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

مقدس شہروں پر حملوں کی شدید مذمت

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اجلاس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس شہروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں اور برادر ملک سعودی عرب کے خلاف جاری حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ تینوں ممالک نے خطے کی تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق مکہ دفاعی اتحاد اجتماعی دفاع کے عزم اور خطرات کے خلاف متحدہ مؤقف کی علامت ہے۔

فوری فوجی تعیناتی کا فیصلہ

رپورٹس کے مطابق اجلاس میں پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے سعودی عرب میں فوری طور پر فوجی دستے اور دفاعی وسائل تعینات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ مشترکہ بیان کے مطابق یہ تعیناتی طے شدہ طریقہ کار کے مطابق اور سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے قومی قوانین کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے عمل میں لائی جائے گی۔ تینوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ معاملے کو ممکنہ حد تک پرامن طریقے اور مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں گی۔

پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ

اجلاس کے دوران پاکستان نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

پس منظر: پاکستان کا نازک توازن

قابلِ ذکر ہے کہ یہ ہنگامی اجلاس ایسے وقت طلب کیا گیا جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اپنے نئے دفاعی وعدوں اور ایران کے ساتھ دیرینہ مذاکراتی پالیسی کے مابین ایک حساس توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خیال رہے کہ مکہ معاہدہ دراصل ستمبر 2025ء میں طے پانے والے سعودی-پاکستان دو طرفہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کی جگہ لے چکا ہے، جس کے تحت رپورٹس کے مطابق ضرورت پڑنے پر 80 ہزار تک پاکستانی فوجی سعودی سرحدوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ رواں سال فروری میں شروع ہونے والی امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے باضابطہ غیر جانبداری کی پالیسی اپناتے ہوئے ایران کو یقین دہانی کرائی تھی کہ سعودی سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، جس کے نتیجے میں اس وقت سعودی عرب یا عمان پر کوئی ایرانی حملہ نہیں ہوا تھا۔