کیا واقعی لاکھوں انسان خلا میں رہیں گے؟ جیف بیزوس کی پیش گوئی، دوسرے ارب پتیوں کے دعوے اور حقیقت کا جائزہ

ایمازون کے بانی اور خلائی کمپنی بلیو اوریجن کے مالک جیف بیزوس کی ایک پیش گوئی ایک بار پھر خبروں میں ہے: ان کے مطابق آئندہ دو دہائیوں میں لاکھوں افراد زمین سے باہر خلا میں رہ رہے ہوں گے۔ اس خبر کو پڑھتے ہوئے سب سے پہلے ایک اہم بات جان لینی چاہیے۔ یہ بیان نیا نہیں۔ بیزوس نے یہ بات اکتوبر 2025 میں اٹلی کے شہر ٹیورن میں منعقدہ اٹالین ٹیک ویک کے دوران، اٹلی کے ایگنیلی خاندان کے رکن جان ایلکان کے ساتھ گفتگو میں کہی تھی۔ ٹیک کرنچ نے اسے 3 اکتوبر 2025 کو رپورٹ کیا اور فارچون کی ایک رپورٹ بھی اکتوبر 2025 کی ہے۔ اب 2026 میں یہی بات بعض مضامین میں دوبارہ شائع ہو رہی ہے، اس لیے اسے "تازہ بیان” سمجھنا درست نہیں۔ اردو کی زیرِ نظر خبر میں بھی ٹیک ویک 2025 کا حوالہ موجود ہے، مگر ڈیٹ لائن اکتوبر 2026 کی ہے، جس سے قاری کو یہ تاثر مل سکتا ہے کہ بیزوس نے ابھی یہ بات کہی ہے۔

بیزوس نے دراصل کیا کہا تھا؟ رپورٹوں کے مطابق ان کے الفاظ کا مفہوم یہ تھا کہ "آئندہ چند دہائیوں میں میرا خیال ہے کہ خلا میں لاکھوں لوگ رہ رہے ہوں گے۔” انھوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ وہاں زیادہ تر اپنی مرضی سے جائیں گے، یعنی "ہمیں خلا میں لوگوں کی ضرورت نہیں”، بلکہ وہ اس لیے جائیں گے کہ وہ جانا چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں جو کام مشکل یا خطرناک ہوگا، مثلاً چاند کی سطح پر، وہ روبوٹس کے ذریعے کرانا انسانوں کو بھیجنے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور کم خرچ ہوگا۔ انھوں نے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کو خلا میں منتقل کرنے کا ذکر بھی کیا، جسے ٹیک کرنچ کی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ ایک اور اہم وضاحت یہ ہے کہ "2045” کا سال بعض اشاعتوں میں ہیڈلائن یا تشریح کی شکل میں آیا، جبکہ بیزوس کے نقل شدہ الفاظ میں "اگلی دو دہائیاں” یا "چند دہائیاں” کا لفظ ہے، کوئی خاص سال نہیں۔ دو دہائیوں کو 2025 سے جوڑنے پر 2045 نکلتا ہے، مگر یہ حساب لگانے والے کا اخذ کردہ نتیجہ ہے۔

اسی گفتگو میں بیزوس نے ٹیکنالوجی کے بارے میں ایک وسیع تر مؤقف بھی پیش کیا۔ رپورٹوں کے مطابق انھوں نے کہا کہ آج زندہ کسی شخص کے لیے مایوس ہونے کی وجہ ان کی سمجھ میں نہیں آتی، اور یہ کہ تہذیب کی خوشحالی ایجادات سے آتی ہے، جیسے ہزاروں سال پہلے ہل کی ایجاد نے انسانی زندگی بدل دی۔ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ ایک "اچھا بلبلہ” ہے کیونکہ یہ مالیاتی نہیں بلکہ صنعتی نوعیت کا ہے۔ ان بیانات کا مقصد ملازمتوں کے خاتمے اور مصنوعی ذہانت سے متعلق خدشات کے جواب میں امید کا پیغام دینا تھا۔ ٹیک کرنچ نے لکھا کہ بیزوس کی خلائی پیش گوئی کو ایلون مسک کے مریخ پر بستیاں بسانے کے تصور کے جواب کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، جو ایک تجزیاتی رائے ہے، بیزوس کا اپنا بیان نہیں۔

بیزوس اس سوچ میں اکیلے نہیں۔ رپورٹوں کے مطابق اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے پیش گوئی کی ہے کہ دس سال سے کم عرصے میں یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے نوجوان خلا میں نئی اور اچھے معاوضے والی ملازمتیں حاصل کر سکیں گے۔ ایلون مسک کئی برسوں سے کہتے آئے ہیں کہ انسان 2028 تک مریخ پر پہنچ سکتے ہیں۔ فارچون نے اپنی اگست 2026 کی رپورٹ میں اس پر یہ تبصرہ بھی کیا کہ مسک پہلے مریخ پر پہنچنے کی تاریخ 2024 بتا چکے تھے جو پوری نہیں ہوئی۔ اسی رپورٹ میں وائجر ٹیکنالوجیز کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈیلن ٹیلر کا بیان بھی ہے کہ انسان خلا میں رہیں گے اور کام کریں گے، اور چاند پر اڈا 2030 کی دہائی میں، غالباً ابتدائی برسوں میں، قائم ہو سکتا ہے، اور ایک دہائی کے اندر لوگ وہاں آنا جانا شروع کر سکتے ہیں۔ ٹیلر کے مطابق مستقبل کے خلائی کاموں میں وسائل کی کان کنی، مداری ڈیٹا سینٹرز اور بجلی کے نظام کی تعمیر شامل ہو سکتی ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ انسان نما روبوٹ ان تمام کاموں میں انسانوں کی مکمل جگہ نہیں لے سکتے۔ یعنی اس معاملے میں ان کی رائے بیزوس سے کچھ مختلف ہے، جو روبوٹس کو زیادہ کردار دیتے ہیں۔ ٹیلر کا مریخ کے بارے میں خیال یہ ہے کہ فاصلے اور تابکاری کی وجہ سے وہ زیادہ تر لوگوں کے گھر کے بجائے کسی تباہی کے خلاف بیک اپ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

اب ایک سنجیدہ سوال: یہ پیش گوئیاں کتنی قابلِ اعتبار ہیں؟ سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ بیانات ایسی شخصیات کے ہیں جن کے خلائی اور مصنوعی ذہانت کی صنعت میں تجارتی مفادات ہیں۔ بیزوس بلیو اوریجن کے مالک ہیں، مسک اسپیس ایکس کے، آلٹمین اوپن اے آئی کے اور ٹیلر وائجر ٹیکنالوجیز کے۔ فارچون کی رپورٹ کے مطابق وائجر نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی مالیت پر درج ہوئی اور وہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا متبادل بنا رہی ہے اور اس کے ناسا کے ساتھ کئی معاہدے ہیں۔ جب خلائی صنعت کے لوگ خلا میں مستقبل کی بات کرتے ہیں تو یہ ان کی کاروباری دلچسپی سے الگ نہیں ہوتی، اگرچہ اس سے ان کی بات کا غلط ہونا لازم نہیں آتا۔ پیش گوئیاں اپنی جگہ ایک سوچنے کا زاویہ دیتی ہیں، مگر انھیں شواہد کے بغیر حقیقت نہیں مانا جا سکتا۔

دوسرا نکتہ تکنیکی اور عملی چیلنجوں کا ہے۔ خود زیرِ نظر خبر کے آخر میں بھی یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ خلا میں بڑے پیمانے پر مستقل آبادکاری کے لیے درکار ٹیکنالوجی، اخراجات اور عملی انتظامات اب بھی بڑے چیلنج ہیں۔ عمومی سائنسی فہم کے مطابق خلا میں رہنے کے لیے تابکاری سے تحفظ، کم کشش ثقل کے صحت پر اثرات، خوراک اور پانی کی فراہمی، ہوا کی تیاری، توانائی، طبی سہولیات اور ہنگامی حالات میں واپسی جیسے مسائل حل کرنے ہوں گے۔ چاند یا مریخ پر کسی بستی کو زمین سے سامان اور افراد پہنچانے کے لیے بھاری اخراجات برداشت کرنے ہوں گے۔ "لاکھوں” افراد کا ہدف مدار میں رہنے والی بستیوں سے بھی جڑا ہو سکتا ہے، جن کا تصور بیزوس برسوں سے پیش کرتے رہے ہیں، مگر اس طرح کی تعمیرات کی موجودہ صلاحیت محدود ہے۔ اس وقت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ایک وقت میں صرف چند افراد رہتے ہیں، اور لاکھوں کا عدد اس سے بے حد زیادہ ہے۔ یہ موازنہ تجزیاتی سیاق ہے اور کسی رپورٹ کا دعویٰ نہیں، مگر اس سے ہدف کا حجم سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

تیسرا نکتہ پیش گوئیوں کا ریکارڈ ہے۔ خلائی صنعت کی تاریخ میں وقت کے اندازے اکثر آگے سرکتے رہے ہیں۔ فارچون نے خود ذکر کیا کہ مسک کا مریخ پر پہنچنے کا پہلا اعلان شدہ سال گزر چکا ہے اور وہ ہدف پورا نہیں ہوا۔ اس لیے 2028 کے مریخ مشن، یا اسپیس ایکس کے بغیر انسان کے راکٹوں کی آزمائشی پروازوں کے منصوبوں، کو بھی اسی احتیاط کے ساتھ لینا چاہیے۔ زیرِ نظر خبر میں ان آزمائشی پروازوں کو "زیرِ بحث” کہا گیا ہے، یعنی یہ حتمی اعلان نہیں بلکہ ایک تجویز ہے، اور اس منصوبے کی کوئی مزید تفصیل مستند ذرائع میں نہیں ملتی۔

بیزوس کے اس موقف میں ایک دلچسپ فلسفیانہ نکتہ بھی ہے: انھوں نے کہا کہ انسان کو خلا میں رہنے کی "ضرورت” نہیں، بلکہ وہ اپنی خواہش اور شوق سے وہاں جائیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک جواب ہے جو کہتے ہیں کہ زمین کے مسائل پہلے حل ہونے چاہئیں۔ فارچون کی رپورٹ میں بل گیٹس کا ایک پرانا انٹرویو بھی حوالے کے طور پر آیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ خلا کے بجائے زمین پر ابھی بہت کام ہے۔ یہ دونوں نقطۂ نظر ایک اہم بحث کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ خلائی تحقیق اور رہائش ٹیکنالوجی اور معیشت میں نئے مواقع پیدا کرتی ہے اور انسانیت کے لیے طویل مدتی تحفظ کا ذریعہ ہے۔ دوسری طرف وہ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وسائل پہلے غربت، صحت، تعلیم اور ماحولیاتی مسائل پر لگنے چاہییں۔ حقیقت میں دونوں بیک وقت ممکن ہو سکتے ہیں، اور عملی طور پر اصل بحث ترجیحات اور توازن کی ہوتی ہے۔

اس سب کا ایک پہلو عام قاری، خصوصاً پاکستان جیسے ملک کے نوجوان کے لیے بھی ہے۔ آلٹمین کی پیش گوئی یہ ہے کہ آئندہ برسوں میں نوجوانوں کے لیے خلا سے متعلق نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ اگر ایسا ہوا تو ان شعبوں میں انجینئرنگ، سافٹ ویئر، روبوٹکس، مواد کی سائنس، توانائی اور طب کی مہارتوں کی طلب بڑھ سکتی ہے۔ تاہم یہ ایک اندازہ ہے، یقین نہیں، اور فوری طور پر کسی کو اپنا کیریئر انھی پیش گوئیوں کی بنیاد پر طے نہیں کرنا چاہیے۔ زیادہ عملی نصیحت یہ ہے کہ بنیادی سائنسی اور تکنیکی مہارتیں مضبوط کی جائیں، کیونکہ وہ خلائی ہی نہیں، دوسرے شعبوں میں بھی کام آتی ہیں۔ پاکستان کا اپنا خلائی ادارہ سپارکو بھی موجود ہے، اور اس شعبے کی تعلیم اور تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لیے مقامی مواقع کی تلاش بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔

آخر میں، یہ خبر ایک دعویٰ اور ایک امکان کا اعلان ہے، نتیجہ نہیں۔ بیزوس، مسک، آلٹمین اور ٹیلر کے بیانات خلائی صنعت کے جوش و خروش اور امید کی نمائندگی کرتے ہیں، مگر ان میں سے کوئی بھی سائنسی طور پر ثابت شدہ منصوبہ نہیں۔ قاری کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ تین باتیں ذہن میں رکھے: بیانات پرانے ہو سکتے ہیں، پیش گوئی کرنے والوں کے کاروباری مفادات ہوتے ہیں، اور خلا میں بڑے پیمانے پر رہائش کے لیے ٹیکنالوجی، لاگت اور حفاظت کے بڑے مسائل ابھی حل ہونے ہیں۔ آنے والے برسوں میں چاند پر مشن، خلائی اسٹیشنوں کے متبادل اور راکٹوں کی آزمائشی پروازیں اس بات کا اصل پیمانہ ہوں گی کہ یہ خواب کتنا حقیقت بنتا ہے۔ تب تک "2045 تک لاکھوں انسان خلا میں” کو ایک پرجوش پیش گوئی کے طور پر پڑھنا ہی دانشمندی ہے۔