ملتان میں یتیم بچے وسیم عباس کا قتل: مرکزی ملزم کی "پولیس مقابلے” میں ہلاکت اور وہ سوال جو جواب مانگتے ہیں

ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پندرہ سالہ یتیم لڑکے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچل کر قتل کرنے کے مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم توقیر نذیر بدھ 21 اکتوبر کی صبح بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مطابق دو مشتبہ افراد موٹر سائیکل پر جا رہے تھے، روکنے پر انھوں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کی، اور فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص مارا گیا جس کی بعد میں شناخت توقیر نذیر کے طور پر ہوئی۔ دوسرا ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گیا۔ یہ خبر ایک ایسے مقدمے کا نیا موڑ ہے جس پر ملتان میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا، مگر اس کے ساتھ کئی سنجیدہ سوال بھی جڑ گئے ہیں، خاص طور پر ملزم کے حراست سے فرار اور پھر مقابلے میں ہلاکت کے بارے میں۔

پہلے اس واقعے کے حقائق دیکھیں جو ایف آئی آر اور رپورٹوں میں سامنے آئے ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 19 اکتوبر کی سہ پہر تقریباً ساڑھے چار بجے ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ میں پیش آیا اور مقدمہ اسی شام تقریباً سات بجے تھانہ ڈی ایچ اے میں درج ہوا۔ مدعی ایک سب انسپکٹر ہیں جو گشت پر تھے۔ مقتول وسیم عباس ایک یتیم خانے میں رہتا تھا اور رپورٹوں کے مطابق تقریباً سات دن پہلے اسے الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ملزم کے پاس بھیجا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ بچے کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ ملزم نے اسے مارا پیٹا اور جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ بچہ کام کی جگہ سے بھاگ نکلا تو، ایف آئی آر کے مطابق، دو افراد نے ہونڈا کار میں اس کا پیچھا کیا اور اسے قتل کے ارادے سے کچل دیا۔ اس کا سر گیٹ کے ایک ستون سے ٹکرایا اور وہ موقعے پر دم توڑ گیا۔ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 (قتل) اور دفعہ 34 (مشترکہ ارادہ) لگائی گئیں۔ گاڑی چلانے کے الزام میں توقیر نذیر کو موقعے پر ہی پکڑ لیا گیا، جبکہ دوسرا نامزد ملزم امجد علی فرار ہو گیا۔

اس واقعے کے مختلف پہلوؤں پر رپورٹوں میں اختلاف بھی ملتا ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق ملزم نے ابتدا میں اسے حادثہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی، تاہم ایک نجی سوسائٹی کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر تعاقب اور ٹکر کا منظر ریکارڈ ہوا۔ ایک اور رپورٹ نے لکھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں سفید کار تو دکھائی دیتی ہے مگر دستیاب فوٹیج سے ٹکر کی تفصیل واضح نہیں ہوتی، اور حقیقت فرانزک شواہد، سی سی ٹی وی اور گواہوں کے بیانات سے ہی طے ہوگی۔ ایک رپورٹ میں ملزم کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے ہجوم کو کہا کہ گاڑی اس کے قابو میں نہیں رہی، جبکہ یتیم خانے کے منتظم کے مطابق بچہ کام سے بھاگا تھا اور وہ اسے پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بچے کی عمر کے بارے میں بھی رپورٹوں میں 14 سے 16 سال کا فرق ہے، جبکہ زیادہ تر ذرائع پندرہ سال بتاتے ہیں۔ یہ سب تفصیلات ایک ہی بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں: مقدمے کی کئی کڑیاں عدالت میں شواہد سے ثابت ہونا باقی تھیں، اور ملزم کی ہلاکت کے بعد یہ عمل ادھورا رہ گیا ہے۔

مقدمے کے بعد پیش آنے والے واقعات بھی توجہ طلب ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 20 اکتوبر کو ملزم کو مقامی ایریا مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں موجود بعض وکلا نے اس پر تشدد کیا، اس کے کپڑے پھاڑے اور اسے گھسیٹتے ہوئے دیکھا گیا، پولیس کو کمک بھیجنا پڑی اور اہلکار اسے وہاں سے بچا کر تھانے لے گئے۔ عدالت نے اسے چار دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا۔ ایک متعلقہ لنک میں تین دن کے ریمانڈ کا ذکر تھا، اس لیے ریمانڈ کی مدت کے بارے میں رپورٹوں میں واضح فرق ہے۔ اسی ہجوم کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعے پر عوامی غصہ کتنا شدید تھا۔ وسیم عباس کو مظفر گڑھ میں سپردِ خاک کیا گیا اور ملتان میں اس کی نمازِ جنازہ کی خبریں بھی آئیں۔

اب اس تازہ واقعے پر آتے ہیں۔ سی سی ڈی کے مطابق ملزم گزشتہ رات سی سی ڈی ملتان کی حراست سے فرار ہو گیا تھا۔ ایک اور رپورٹ میں کہا گیا کہ وہ ملتان کے ڈی ایچ اے تھانے کی حراست سے فرار ہوا۔ یعنی کس ادارے کی حراست سے اور کس طرح فرار ہوا، اس بارے میں رپورٹوں میں فرق ہے اور کوئی تفصیلی سرکاری وضاحت دستیاب نہیں۔ بہاولپور کے بارے میں سی سی ڈی کا بیان یہ ہے کہ ایک ٹیم نے موٹر سائیکل پر سوار دو مشکوک افراد کو بائی پاس پر روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے براہِ راست فائرنگ شروع کر دی۔ اس مقام کو ایکسپریس نے ایسٹرن بائی پاس لکھا جبکہ دوسری رپورٹ میں ناردرن بائی پاس کا ذکر ہے، اور اسی طرح ہلاکت کی تفصیل میں بھی فرق ہے: ایک رپورٹ فائرنگ کے تبادلے کا ذکر کرتی ہے، جبکہ ڈبلیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق ملزم کو اس کے اپنے ساتھی کی گولی لگی اور وہ موقعے پر ہلاک ہو گیا، دوسرا ساتھی اندھیرے میں فرار ہوا۔ ان دونوں بیانات میں بڑا فرق ہے، کیونکہ پہلی صورت میں ملزم پولیس کی گولی سے مرتا ہے اور دوسری میں اپنے ساتھی کی گولی سے۔ اس فرق کو پوسٹ مارٹم، بیلسٹک رپورٹ اور آزادانہ تحقیقات ہی حل کر سکتی ہیں۔ سی سی ڈی کے ضلعی افسر عرفان اکبر نے مقابلے کی تفصیل بیان کی، جبکہ سی پی او ملتان اختر فاروق کے مطابق قتل کا مقدمہ فوراً درج کیا گیا تھا اور دوسرے ساتھی کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ "مبینہ پولیس مقابلہ” کا لفظ پولیس کا دعویٰ ہے، عدالتی ثبوت نہیں۔ پاکستان میں پولیس مقابلوں کے بارے میں انسانی حقوق کے اداروں کی تشویش پرانی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اکتوبر 2025 میں ایک بیان میں کہا تھا کہ جنوری 2025 کے بعد پنجاب میں 500 سے زائد مبینہ مقابلوں میں 670 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں، جو کسی بھی دوسرے صوبے سے زیادہ ہیں۔ کمیشن کے مطابق فروری 2025 میں بننے والا سی سی ڈی ایک "متوازی پولیس فورس” بن چکا ہے جسے مقدمات درج کرنے، گرفتاری اور مہلک کارروائی کے وسیع اختیارات ہیں، اور اس سے ماورائے عدالت قتل کو فوجداری نظام کے متبادل کے طور پر معمول بنایا جا رہا ہے۔ سی سی ڈی ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دیگر ادارے بھی مقدمات درج کرتے ہیں اور اس کے پاس ماورائے عدالت قتل کا کوئی ثبوت نہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن نے یہ بھی زور دیا کہ کوئی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں اور ہر ملزم کو آئین کے تحت منصفانہ سماعت کا حق ہے۔ یہ دونوں مؤقف سامنے رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اس مخصوص واقعے میں بھی ایک طرف پولیس کا دعویٰ ہے اور دوسری طرف عوامی اور قانونی حلقوں میں سوال۔

ان سوالات کو سمجھنے کے لیے چند نکات اہم ہیں۔ پہلا یہ کہ ملزم عدالتی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں تھا، اور حراست میں موجود شخص کا فرار ہونا بذاتِ خود ایک سنگین سوال ہے۔ اگر وہ فرار ہوا تو کیسے، کس کی ذمہ داری تھی، اور کیا کوئی اہلکار معطل یا زیرِ تفتیش ہوا؟ دوسرا یہ کہ فرار کے چند گھنٹوں کے اندر ایک اور ضلع میں مقابلے میں ہلاکت کا اتفاق کیا واضح تحقیقات کا مطالبہ نہیں کرتا؟ تیسرا یہ کہ اگر ملزم کو مبینہ طور پر اپنے ساتھی کی گولی لگی تو اس کی تصدیق پوسٹ مارٹم اور ہتھیاروں کے فرانزک ٹیسٹ سے کیسے ہوگی؟ چوتھا یہ کہ جب مقدمے کے اہم شواہد، یعنی ملزم کے بیانات اور اعترافات، اب کبھی عدالت کے سامنے نہیں آئیں گے تو متاثرہ خاندان کو انصاف کا کون سا راستہ باقی رہے گا؟ یہ سوالات کسی کو بری یا قصوروار قرار دینے کے لیے نہیں، بلکہ اس لیے ہیں کہ ایک سنگین قتل کے مقدمے کا فیصلہ شفاف عدالتی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے۔

دوسری جانب عوامی ردعمل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک یتیم بچے کا مبینہ طور پر اپنے استاد اور کام دینے والے کے ہاتھوں اس بے رحمی سے مارا جانا ہر شہری کو دکھی کرتا ہے، اور عدالت میں ملزم پر وکلا کا تشدد اس عوامی غصے کی ایک مثال ہے۔ مگر قانون کے ماہرین کی رائے عموماً یہ ہوتی ہے کہ فوری سزا کی خواہش قابلِ فہم ہے، لیکن عدالت کے بغیر سزا انصاف کی جگہ نہیں لے سکتی۔ اگر ملزم واقعی قصوروار تھا تو اسے عدالت میں سزا ملنی چاہیے تھی، تاکہ شواہد، گواہ اور سازش کے دیگر کردار سامنے آتے۔ اور اگر شواہد میں کوئی کمی یا غلطی ہو تو اسے جانچنے کا موقع بھی نہیں رہتا۔ اس مقدمے میں دوسرا نامزد ملزم امجد علی بھی فرار ہے، اس لیے اب پولیس پر ذمہ داری ہے کہ وہ اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرے، تاکہ مقدمہ آگے چل سکے۔

بچوں سے محنت لینے کا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ وسیم یتیم خانے میں رہتا تھا اور اسے ہنر سیکھنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ایسے بچوں کی نگرانی کی ذمہ داری کس پر ہے؟ جب کسی ادارے سے بچے کو کسی دوسرے شخص کے پاس بھیجا جاتا ہے تو اس کی حفاظت کی جانچ، رابطہ اور شکایت کا نظام کیا ہوتا ہے؟ یتیم خانوں اور فلاحی اداروں کے لیے یہ ایک انتباہ ہے کہ بچوں کو کام پر بھیجتے وقت قانونی عمر، حفاظتی نگرانی اور باقاعدہ رابطے کی شرائط پوری کی جائیں۔ بچوں سے مشقت کے خلاف قوانین موجود ہیں، اور ان کے نفاذ کا سوال اس مقدمے میں بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس مقدمے کی تحقیقات میں یہ پہلو بھی شامل ہونا چاہیے کہ بچہ کس انتظام کے تحت اور کن شرائط پر ملزم کے پاس بھیجا گیا تھا۔

آخر میں یہ دیکھنا ہوگا کہ مقدمہ کس سمت جاتا ہے۔ ملزم کی ہلاکت کے بعد اصل مقدمہ بدستور قتل کا ہے، اور دوسرے نامزد ملزم کی گرفتاری، شواہد کا جمع ہونا اور بچے کے ورثا کو انصاف ملنا اب بھی ضروری ہے۔ ساتھ ہی ہلاکت کے واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات بھی ضروری ہیں، تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ حراست سے فرار کیسے ہوا اور مقابلہ واقعی کیسے پیش آیا۔ معاشرے کو ایک یتیم بچے کے ساتھ ہونے والے ظلم پر جائز غم و غصہ ہے، مگر اس غصے کو قانون کے دائرے میں رکھنا ہی ایسے ہر مقدمے کی ساکھ کی ضمانت ہے۔ جب تک سرکاری تحقیقات اور عدالتی کارروائی سے مزید حقائق سامنے نہیں آتے، قارئین کو ان تفصیلات کو پولیس کے بیان اور مختلف رپورٹوں کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، حتمی فیصلہ سمجھ کر نہیں۔