امریکا نے ایک مبینہ دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے انکشاف کے بعد برطانیہ کے رائل ایئر فورس (آر اے ایف) فیئر فورڈ اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے فوری طور پر واپس امریکا منتقل کر دیے ہیں، جہاں ایران کے خلاف جاری جنگ کے لیے امریکی بی-52 اور بی-1 بمبار طیارے تعینات تھے۔
پینٹاگون کی تصدیق
پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’’اگرچہ آپریشنل سیکیورٹی کے پیشِ نظر ہم اپنے اثاثوں اور افواج کی نقل و حرکت کو حقیقی وقت میں ظاہر نہیں کر سکتے تھے، لیکن اب ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ آر اے ایف فیئر فورڈ پر تعینات تمام امریکی بمبار طیارے امریکا میں اپنے متعلقہ ہوم بیسز پر واپس جا چکے ہیں۔‘‘ ایوی ایشن مانیٹرنگ ادارے ’’ملٹری ایئر ٹریکنگ الائنس‘‘ کے مطابق ایران جنگ کے آغاز، یعنی 28 فروری سے، درجنوں بی-52 اور بی-1 بمبار طیارے فیئر فورڈ سے آپریٹ کر رہے تھے، تاہم اتوار کو تمام 12 بی-1 بمبار طیاروں کو اڈے سے روانہ ہوتے دیکھا گیا۔
دہشت گرد منصوبہ بندی کی تحقیقات
برطانوی حکام کے مطابق فیئر فورڈ اڈے کے قریب تین مشکوک وینیں دیکھے جانے کے بعد اس مبینہ سازش سے متعلق تحقیقات کا آغاز ہوا، جس میں کئی افراد کو گرفتار کیا گیا۔ کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کی قومی کوآرڈینیٹر وکی ایونز کے مطابق یہ تحقیقات ’’انتہائی پیچیدہ‘‘ نوعیت کی ہیں، اور خصوصی تفتیشی ٹیمیں متعدد شواہد کی چھان بین کر رہی ہیں۔ واقعے میں گرفتار چھٹے شخص کو بعد ازاں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کو دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے اس مبینہ سازش سے متعلق خفیہ معلومات برطانیہ کے حوالے کی تھیں، اور تنقیدی انداز میں کہا کہ ’’ہم تحقیقات میں شامل تھے، لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں، آپ کے ہم وطنوں نے انہیں چھوڑ دیا۔‘‘
فیئر فورڈ: ایران جنگ کا اہم مرکز
رائل ایئر فورس فیئر فورڈ گزشتہ کئی ماہ سے امریکی بمبار طیاروں کے لیے اہم مرکز رہا ہے، جب سابق برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران تہران کے خلاف ’’دفاعی‘‘ نوعیت کی کارروائیوں کے لیے امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ مارچ میں امریکا کو فیئر فورڈ کے علاوہ آر اے ایف ڈیاگو گارشیا تک بھی رسائی دی گئی تھی۔ اسی اڈے سے مارچ میں برطانوی سرزمین سے لانچ کی جانے والی ایران کے خلاف پہلی امریکی حملہ مہم بھی پرواز کر چکی ہے، جب بنکر شکن بموں سے لیس بی-1 بی لانسر بمبار طیارے ایرانی میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔
ٹرمپ کا ردعمل: ’’ہم پہلے ہی انہیں زیرِ نگرانی رکھے ہوئے تھے‘‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشتبہ افراد کے بارے میں کہا کہ انہیں پہلے ہی تحقیقات کے دائرے میں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے ہفتے کے روز یہ بھی کہا کہ ایران کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے، اور اب فیصلہ ہونا ہے کہ معاملہ آسان طریقے سے حل ہوتا ہے یا مشکل طریقے سے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ایران کے خلاف جنگ میں آئندہ اقدامات، جن میں مزید حملے بھی شامل ہو سکتے ہیں، پر غور کر رہے ہیں۔
جنگ کا تسلسل: سات ماہ سے زائد عرصے سے جاری کشیدگی
خیال رہے کہ یہ جنگ 28 فروری 2026ء کو شروع ہوئی تھی اور اب سات ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بمبار طیارے واپس بلا لیے گئے ہیں، تاہم تحقیقات بدستور جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر اسٹریٹجک اثاثوں کو اچانک واپس بلانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی و برطانوی حکام اس مبینہ سازش کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں، جو خطے میں جاری کشیدگی کے ایک نئے اور حساس پہلو کو بھی اجاگر کرتا ہے۔