ملک بھر میں بجلی صارفین کے لیے بڑا ریلیف ختم ہونے کو، اگلے ماہ سے بلوں میں اضافے کا امکان

پاکستان بھر کے بجلی صارفین کو گزشتہ کچھ عرصے سے ملنے والی معمولی راحت اب اپنے اختتام کو پہنچنے والی ہے۔ رواں ماہ اگست میں سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی جانے والی رعایت ختم ہو جائے گی، جس کے بعد ستمبر سے بجلی کے بلوں میں دوبارہ اضافہ متوقع ہے۔ بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے اس ضمن میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں باقاعدہ درخواست بھی جمع کروا دی ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم اس ریلیف کے خاتمے کی مکمل وجوہات، اس کے پس منظر، اور صارفین پر اس کے متوقع اثرات کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ریلیف، جس کے تحت بجلی کے نرخوں میں فی یونٹ ایک روپے 99 پیسے کی کمی دی جا رہی تھی، جون 2026 سے نافذ العمل تھا اور اگست میں اپنی مقررہ مدت مکمل کر لے گا۔ اس دوران صارفین کو مجموعی طور پر 67 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد کا فائدہ پہنچایا جا چکا ہے۔ ریلیف کی مدت ختم ہونے کے بعد اپریل تا جون 2026 کی نئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ اگلے ماہ سے لاگو ہونے کا امکان ہے، جو موجودہ رعایت کی جگہ لے کر بلوں میں اضافے کا سبب بنے گی۔

بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے اس تناظر میں نیپرا میں ایک الگ درخواست بھی جمع کروائی ہے جس میں کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں صارفین سے 23 ارب روپے سے زائد کی اضافی وصولی کی اجازت مانگی گئی ہے۔ یہ رقم فی یونٹ تقریباً ایک روپے کے اضافے کے مساوی بنتی ہے۔ نیپرا نے اس درخواست پر 12 اگست کو سماعت مقرر کی ہے، جس میں حتمی فیصلہ سنایا جائے گا کہ آیا یہ اضافہ منظور کیا جاتا ہے یا نہیں، اور اگر ہوتا ہے تو کس حد تک۔
عام صارفین کے لیے بجلی کے بل میں شامل مختلف اضافی چارجز کو سمجھنا اکثر مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے یہاں دونوں اہم اقسام کی وضاحت ضروری ہے:

ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (FCA): یہ ہر مہینے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی جانب سے پیش کی جاتی ہے اور بجلی پیدا کرنے میں استعمال ہونے والے ایندھن کی عالمی و مقامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ رواں سال مئی کی ایڈجسٹمنٹ میں 34 پیسے فی یونٹ اور جون کی ایڈجسٹمنٹ میں 75 پیسے فی یونٹ اضافہ ہو چکا ہے، جو بالترتیب جولائی اور اگست کے بلوں میں وصول کیا جا رہا ہے۔

سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (QTA): یہ ہر تین ماہ بعد نیپرا کی جانب سے مقرر کی جاتی ہے اور اس میں بجلی کی پیداواری لاگت، ترسیل و تقسیم کے نقصانات، اور کیپیسٹی چارجز جیسے وسیع تر عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ موجودہ ریلیف بھی دراصل اسی سہ ماہی میکانزم کے تحت دی جا رہی رعایت تھی، جو اب ختم ہونے کو ہے۔

یہ دونوں چارجز بجلی کے بنیادی ٹیرف سے الگ ہوتے ہیں اور ہر ماہ یا سہ ماہی بنیاد پر بلوں میں کمی یا اضافے کا باعث بنتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے صارفین کو یکساں ماہانہ بل کی توقع رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
کیپیسٹی پیمنٹس دراصل وہ رقم ہے جو حکومت پاکستان میں قائم بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس (آئی پی پیز) کو ان کی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے کے عوض ادا کرتی ہے — چاہے وہ پلانٹس بجلی پیدا کریں یا نہ کریں۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین طویل عرصے سے نشاندہی کرتے آئے ہیں کہ یہی مستقل ادائیگیاں پاکستان میں بجلی کی قیمتوں کو بلند رکھنے کی ایک بڑی وجہ ہیں، کیونکہ ملک میں نصب پیداواری صلاحیت طلب کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس کے باعث بغیر استعمال کے بھی کیپیسٹی چارجز کی مد میں بھاری رقم صارفین سے وصول کی جاتی ہے۔ موجودہ درخواست میں مانگے گئے 23 ارب روپے بھی اسی کیپیسٹی پیمنٹس کے زمرے میں آتے ہیں۔
اگر پچھلے کچھ عرصے کا جائزہ لیا جائے تو بجلی کے نرخوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے:

مارچ 2026 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں 26 سے 28 پیسے فی یونٹ تک اضافہ
مئی 2026 کی ایڈجسٹمنٹ میں 34 پیسے فی یونٹ اضافہ، جو جولائی کے بلوں میں شامل ہوا
جون 2026 کی ایڈجسٹمنٹ میں 75 پیسے فی یونٹ اضافہ، جو اگست کے بلوں میں وصول کیا جا رہا ہے
جون 2026 سے نافذ سہ ماہی ریلیف کے تحت فی یونٹ ایک روپے 99 پیسے کی کمی، جو اب ختم ہونے کے قریب ہے

اس رجحان سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ سہ ماہی ریلیف نے وقتی طور پر صارفین کو ریلیف پہنچایا، مگر ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹس کی صورت میں اضافہ بدستور جاری رہا، اور اب سہ ماہی ریلیف کے خاتمے سے مجموعی بوجھ میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
اگر نیپرا 12 اگست کی سماعت میں تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست کو منظور کرتا ہے، تو اس کے نتیجے میں:

گھریلو صارفین کے ماہانہ بلوں میں اوسطاً ایک روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے
درمیانے اور بڑے کاروباری صارفین پر زیادہ یونٹس استعمال کی بنیاد پر نسبتاً بڑا بوجھ پڑے گا
صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جو بالآخر مصنوعات کی قیمتوں پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے
سہ ماہی ریلیف اور ماہانہ اضافے کا مجموعی اثر ملا کر دیکھا جائے تو اگلے چند ماہ میں بجلی کے بل نمایاں طور پر بڑھ سکتے ہیں

تاہم یہ امر بھی اہم ہے کہ نیپرا کو ماضی میں تقسیم کار کمپنیوں کی درخواستوں کو مکمل طور پر منظور کرنے کے بجائے جزوی منظوری دینے کی روایت رہی ہے — جیسا کہ مئی کی ایڈجسٹمنٹ میں 82 پیسے کی درخواست کے مقابلے میں صرف 34 پیسے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس لیے حتمی اضافہ درخواست کردہ رقم سے کم بھی ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں بجلی کے بل پہلے ہی گھریلو بجٹ پر ایک بڑا دباؤ تصور کیے جاتے ہیں، خاص طور پر جب یہ بنیادی ٹیرف کے علاوہ ٹیکسز، فیول ایڈجسٹمنٹس اور دیگر چارجز کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ ایک کے بعد ایک آنے والی ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کی وجہ سے صارفین کے لیے اپنے مستقبل کے اخراجات کا درست تخمینہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک ملک میں کیپیسٹی پیمنٹس کے موجودہ ڈھانچے اور بجلی کی گردشی قرضے (سرکلر ڈیبٹ) کے بنیادی مسئلے کو حل نہیں کیا جاتا، ایسی عارضی رعایتیں طویل مدتی ریلیف فراہم کرنے کے بجائے صرف وقتی سہارا ثابت ہوں گی۔
12 اگست کو نیپرا کی سماعت اس معاملے میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگی۔ سماعت کے دوران تقسیم کار کمپنیوں کے موقف کے ساتھ ساتھ صارفین کی نمائندہ تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات بھی زیرِ غور آنے کا امکان ہے، جیسا کہ ماضی کی سماعتوں میں دیکھا جا چکا ہے جہاں مختلف جماعتوں کے نمائندے صارفین کو فائدہ منتقل کرنے کی ٹائم لائن اور فیول چارجز میں شفافیت جیسے سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ حتمی نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ ستمبر کے بلوں میں اضافے کی صحیح مقدار کیا ہوگی۔