کراچی کے پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے رہائشی اور آئی بی اے کے گریجویٹ نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی پُراسرار موت کا کیس گزشتہ کئی ہفتوں سے پاکستان بھر میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ابتدائی طور پر اسے خودکشی سے تعبیر کرنے کی کوشش کی گئی، مگر خاندان کے شدید اعتراض، میڈیکل شواہد میں تضاد اور سوشل میڈیا پر اٹھنے والی مہم کے بعد یہ کیس اب ایک مکمل قتل کی تفتیش میں تبدیل ہو چکا ہے، جس میں سندھ حکومت کے ایک سینیئر وزیر کا نام بھی زیرِ بحث آ چکا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم کیس کا مکمل پس منظر، اب تک سامنے آنے والے شواہد، اور تازہ ترین پیش رفت کو یکجا کر کے پیش کر رہے ہیں۔
میر رضا علی کے والد میر حسین علی کے مطابق ان کا بیٹا گزشتہ پانچ برسوں سے اپنا کاروبار "وافلکس” کے نام سے چلا رہا تھا۔ 28 جولائی کی رات وہ اپنی دکان سے گھر واپس آیا اور والدہ سے یہ کہہ کر باہر نکلا کہ وہ صرف دس منٹ میں واپس آ جائے گا، تاہم اس کے بعد اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ اگلے روز، 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک ون کی جھاڑیوں سے ان کی لاش برآمد ہوئی۔
خاندان کے مطابق میر رضا کو 28 جولائی کی صبح فیروز آباد کے علاقے سے لاپتہ کروایا گیا تھا، جبکہ رپورٹس کے مطابق اسی روز صبح تقریباً چار بج کر نو منٹ پر پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی سے ایک ٹیکسی لی گئی تھی جس نے انہیں گلستانِ جوہر میں اتارا۔ پولیس ابتدائی طور پر اس واقعے کو خودکشی کا امکان قرار دیتی رہی، جسے خاندان اور ان کے وکیل جبران ناصر نے سختی سے مسترد کیا اور اسے سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل قرار دیا۔
کیس میں سب سے زیادہ تنازع پوسٹ مارٹم رپورٹس کے حوالے سے پیدا ہوا۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا کی موت سینے میں گولی لگنے اور شدید خون بہنے (ہیمرجک شاک) کے باعث ہوئی۔ ماہرین کے مطابق جسم کے پچھلے حصے پر گولی کا نشان چھوٹا اور اگلے حصے پر بڑا پایا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گولی پیچھے کی جانب سے چلائی گئی — یہ نکتہ خودکشی کے امکان کے برخلاف جاتا ہے۔ لاش پر تشدد کے نشانات ہونے کی بھی نشاندہی کی گئی۔
خاندان کے مسلسل اعتراضات کے بعد قبر کشائی کروا کر دوسرا پوسٹ مارٹم کروایا گیا، جس کے نتائج پہلی رپورٹ سے مختلف نکلے۔ دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے شناخت، کیمیائی تجزیے اور دیگر امور سے متعلق مزید تفصیلات فراہم کیں۔ میت کے گلنے سڑنے کی ایڈوانس اسٹیج میں ہونے کے باعث موت اور پوسٹ مارٹم کے درمیان تقریباً بارہ روز کا فاصلہ بتایا گیا، جبکہ حتمی نتائج کے لیے معدہ، جگر، گردے، تلی اور دیگر اعضا کے نمونے کیمیائی تجزیے کے لیے محفوظ کر لیے گئے۔ انہی نئے نتائج کی بنیاد پر پولیس نے مقدمے میں اغوا کی دفعات کے ساتھ باقاعدہ قتل کی دفعات بھی شامل کر دیں۔
کیس اس وقت مزید سنگین اور متنازع ہو گیا جب سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ سامنے آیا کہ جس گیسٹ ہاؤس کا ذکر تفتیش میں کیا جا رہا ہے وہ سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کی ملکیت ہے، اور الزام لگایا گیا کہ میر رضا کو وہاں تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ ان الزامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے شرجیل میمن اور ان کے بیٹے راول میمن نے اپنی اور خاندان کی کردار کشی کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں باقاعدہ شکایت درج کروائی۔
معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے سندھ حکومت نے ہائی کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری کروانے کا فیصلہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد ازاں تفتیش کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق میر رضا ممکنہ طور پر اس مخصوص گیسٹ ہاؤس تک گئے ہی نہیں تھے جس کا ذکر آن لائن ٹیکسی ڈرائیور نے کیا تھا، جس نے کیس میں ایک نیا اور غیر متوقع رخ پیدا کر دیا۔
گیسٹ ہاؤس سے وابستہ ایک 14 سالہ ملازم کا بیان بھی تفتیشی ٹیم نے ریکارڈ کیا اور بعد میں اسے رہا کر دیا گیا، جبکہ ذرائع کے مطابق چھ افراد تاحال پولیس کی حراست میں ہیں۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق اب تک مجموعی طور پر انیس سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں گیسٹ ہاؤس کے ملازمین، میر رضا کا موبائل فون استعمال کرنے والے افراد، ان کے کاروباری شراکت دار، آن لائن ٹیکسی ڈرائیور اور دیگر متعلقہ افراد شامل ہیں۔ پولیس نے کیس سے متعلق اکیس افراد کے بیانات بھی حاصل کیے، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ بیانات اب تک باضابطہ کیس فائل کا حصہ کیوں نہیں بنائے گئے۔
ایک اہم پیش رفت میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) سندھ نے میر رضا کی ایپل واچ کامیابی سے ان لاک کر لی، جس سے لین دین سمیت اہم ڈیٹا حاصل کیا گیا۔ اس سے قبل مقتول کا موبائل فون بھی برآمد ہوا تھا جس سے ڈیٹا ڈیلیٹ کیا جا چکا تھا۔ ایک نئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا کو اپنی جیب سے ایک چمکدار چیز — ممکنہ طور پر موبائل فون — نکال کر سڑک کنارے پھینکتے ہوئے دیکھا گیا، جس نے تحقیقات میں نیا زاویہ شامل کیا۔ ایک اور فوٹیج میں 29 جولائی کی صبح جائے وقوعہ پر ایک کچرا چننے والا شخص تقریباً آٹھ منٹ تک موجود دکھائی دیتا ہے، اور پولیس کو شبہ ہے کہ ممکنہ ہتھیار وہ شخص موقع سے اٹھا کر لے گیا ہو۔
تفتیشی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کاروبار میں نقصان کے باعث میر رضا کروڑوں روپے کے مقروض تھے، جس کے بعد پولیس نے ان کے قرض داروں سے بھی تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسرے پوسٹ مارٹم کے نتائج پہلی رپورٹ سے مختلف آنے کے بعد انسپکٹر جنرل سندھ پولیس کے دفتر سے نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکمنامہ جاری کیا گیا۔ نئی ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جائے وقوعہ، لواحقین اور دیگر متعلقہ افراد سے ازسرنو پوچھ گچھ کرے اور اب تک سامنے آنے والے تمام شواہد کا دوبارہ جائزہ لے۔
اسی دوران غفلت اور کوتاہی برتنے کے الزام میں ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے ایس ڈی پی او شاہراہِ فیصل ایسٹ زون محمد ارشد آفریدی کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کیے، جبکہ ایس ایچ او گلستانِ جوہر کو بھی معطل کرنے کے ساتھ ساتھ عہدے میں تنزلی کر دی گئی۔ کراچی پولیس کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں باضابطہ طور پر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دونوں افسران کو دراصل کن مخصوص وجوہات کی بنا پر ہٹایا گیا، تاہم ترجمان کے مطابق یہ کارروائی فرائض میں غفلت اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کی گئی۔
تازہ ترین پیش رفت میں میر رضا کے والد میر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر داخلہ سندھ اور میئر کراچی ان سے ملاقات کے لیے آئے تھے اور جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز دی، جس پر خاندان نے غور کر کے جواب دینے کا کہا۔ انہوں نے نئی تحقیقاتی کمیٹی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی ایک اچھی شہرت کے حامل افسر ہیں اور امید ہے کہ کمیٹی حقیقت سامنے لائے گی۔
سب سے تشویشناک انکشاف میں میر حسین نے بتایا کہ ان کے بیٹے کا کاروباری شراکت دار بھی پُراسرار طور پر غائب ہے، اور پولیس نے صرف ایک بار اس سے تفتیش کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گلستانِ جوہر میں قائم گیسٹ ہاؤس کے ملازمین سے کیا تحقیقات ہوئیں، اس بارے میں خاندان کو کچھ نہیں بتایا جا رہا، اور یہ کہ گیسٹ ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی تاحال سامنے نہیں آئی۔
میر رضا علی قتل کیس نے کئی وجوہات کی بنا پر ملک گیر توجہ حاصل کی ہے: پہلے پوسٹ مارٹم اور دوسرے پوسٹ مارٹم کے نتائج میں نمایاں فرق، ابتدائی طور پر خودکشی قرار دینے کی کوشش اور بعد میں قتل کی دفعات شامل کیا جانا، ایک سیاسی طور پر بااثر خاندان کا نام زیرِ بحث آنا، اور تفتیش میں شفافیت سے متعلق خود مقتول کے خاندان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات۔ کئی مبصرین اس کیس کا موازنہ ماضی کے ایک اور معروف کیس، مصطفیٰ عامر قتل کیس سے بھی کر رہے ہیں، جس میں بھی ابتدائی طور پر واقعے کو مختلف انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
اہم نکات — ایک نظر میں
میر رضا علی، آئی بی اے کے گریجویٹ اور "وافلکس” کے بانی، 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے
29 جولائی کو گلستانِ جوہر بلاک ون سے لاش برآمد
ابتدائی پوسٹ مارٹم میں گولی پیچھے سے لگنے اور تشدد کے شواہد
دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل
سوشل میڈیا پر گیسٹ ہاؤس کی ملکیت سے متعلق الزامات، وزیر شرجیل میمن اور بیٹے کی جانب سے تردید اور قانونی شکایت
ہائی کورٹ جج کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری کا فیصلہ
دو پولیس افسران غفلت کے الزام میں معطل
نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل، ازسرنو تفتیش جاری
مقتول کے کاروباری شراکت دار کی پُراسرار گمشدگی — خاندان کا تازہ ترین تشویشناک بیان