اہور — صوبائی دارالحکومت لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس اے میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب مین بلیوارڈ روڈ پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی گاڑی کے عین سامنے نامعلوم موٹرسائیکل سوار ملزم نے ہوائی فائرنگ کر دی۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے متحرک ہو کر ملزم کو گرفتار کر لیا، جس سے ایک بڑا سکیورٹی خطرہ بروقت ٹل گیا۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ رات گئے تقریباً 3:25 بجے مین ڈیفنس روڈ سے مین بلیوارڈ کی سمت اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ اسی دوران عقب سے زگ زیگ انداز میں آتی ہوئی ایک سفید رنگ کی گاڑی (نمبر بی وی بی 880) ان کے قریب پہنچی اور اس میں سوار شخص نے مسلسل چار ہوائی فائر کیے۔ اچانک ہونے والی فائرنگ سے علاقے میں افراتفری پھیل گئی، تاہم وزیر اطلاعات کی سکیورٹی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔
اس دوران قریبی پولیس چوکی اور گشتی عملے کو فوری اطلاع دی گئی، جس کے بعد جائے وقوعہ کے آس پاس ناکہ بندی کر کے مشتبہ گاڑی کا سراغ لگانے کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔ چند ہی گھنٹوں میں پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا اور استعمال شدہ اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا۔
ڈیفنس اے، لاہور کا سب سے محفوظ تصور کیا جانے والا علاقہ
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) لاہور کا شمار شہر کے سب سے زیادہ محفوظ اور پرامن رہائشی علاقوں میں ہوتا ہے، جہاں سیاستدانوں، سرکاری افسران اور کاروباری شخصیات کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔ ایسے علاقے میں ایک وفاقی وزیر کی گاڑی کے سامنے کھلے عام ہوائی فائرنگ کا واقعہ عام شہریوں اور مبصرین دونوں کے لیے تشویش کا باعث بنا ہے، کیونکہ اس سے سکیورٹی انتظامات پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
قانون کیا کہتا ہے: ہوائی فائرنگ پر سزا
پاکستان میں ہوائی فائرنگ کوئی معمولی جرم نہیں بلکہ اسے پاکستان پینل کوڈ اور صوبائی قوانین کے تحت باقاعدہ جرم قرار دیا گیا ہے۔ پنجاب میں نافذ قانونِ امن عامہ (پبلک آرڈر) آرڈیننس کے تحت بلا وجہ ہوائی فائرنگ کرنے پر ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے، جس میں قید اور جرمانہ دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر فائرنگ سے کسی کی جان کو خطرہ لاحق ہو یا کوئی شخص زخمی ہو جائے تو دفعہ 324 (قتل کی کوشش) کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ خوشی کے موقع پر کی جانے والی روایتی ہوائی فائرنگ بھی اسی زمرے میں آتی ہے اور پولیس اکثر ایسے واقعات پر سخت کارروائی کرتی ہے، خصوصاً جب یہ کسی اہم شخصیت کے قریب پیش آئے
پولیس کی فوری کارروائی
اس واقعے کا مثبت پہلو پولیس کا فوری ردعمل رہا۔ اطلاع ملتے ہی متعلقہ تھانے کی نفری اور موبائل گشتی ٹیمیں حرکت میں آئیں، سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد لی گئی اور مشتبہ گاڑی کی نشاندہی کر کے تھوڑی ہی دیر میں ملزم کو دبوچ لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ فائرنگ اتفاقی تھی، نشے کی حالت میں کی گئی، یا اس کے پیچھے کوئی سوچی سمجھی سازش کارفرما تھی۔

شہریوں کے لیے سبق
یہ واقعہ ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ لاہور جیسے بڑے شہروں میں سڑکوں پر بلا سبب ہوائی فائرنگ کتنا سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق فضا میں چلائی گئی گولی واپس زمین پر گرتے ہوئے بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، اور کسی بھی راہگیر، ڈرائیور یا رہائشی کے لیے خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ شہریوں کی جانب سے بار بار یہ مطالبہ سامنے آتا رہا ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف نرمی نہ برتی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کی لاپروائی کا مرتکب نہ ہو۔