ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز میں بابر اعظم اور عبداللہ شفیق کا راج: پاکستان کی تاریخی کم بیک کہانی

پاکستان کرکٹ ٹیم نے کیریبین سرزمین پر ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ایک یادگار کم بیک کرتے ہوئے سیریز 1-1 سے برابر کر لی، اور اس شاندار کامیابی کے پیچھے کپتان بابر اعظم اور نوجوان بلے باز عبداللہ شفیق کی زبردست بیٹنگ کارکردگی کارفرما رہی۔ سیریز کے اختتام پر بابر اعظم کو جوائنٹ پلیئر آف دی سیریز جبکہ عبداللہ شفیق کو دوسرے ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی پر پلیئر آف دی میچ کے اعزاز سے نوازا گیا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم گزشتہ کچھ عرصے سے بیرونِ ملک ٹیسٹ کرکٹ میں سخت مشکلات کا شکار رہی تھی، اور ٹیم کو مسلسل آٹھ ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ویسٹ انڈیز، جس نے پاکستان کو آخری بار سن 2000 میں کسی ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی، اس سیریز میں پاکستان کو کلین سویپ کرنے کی مضبوط امیدوار سمجھی جا رہی تھی۔ تاہم دوسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میں پاکستان نے 8 وکٹوں کی زبردست فتح حاصل کر کے نہ صرف سیریز برابر کی بلکہ اپنی طویل ناکامیوں کے سلسلے کو بھی توڑ ڈالا۔ یہ کامیابی خاص طور پر اس لیے بھی اہم ہے کہ اس نے پاکستان کے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کیے، خصوصاً آئندہ ماہ انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی مشکل سیریز سے قبل۔
کپتان بابر اعظم نے دونوں ٹیسٹ میچوں میں مجموعی طور پر 193 رنز اسکور کیے، جن میں دو نصف سنچریاں شامل تھیں، اور ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انہوں نے عبداللہ شفیق کے ساتھ تیسری وکٹ کے لیے ناقابلِ شکست 168 رنز کی زبردست شراکت قائم کی، جس میں بابر نے 88 رنز بنائے — یہ دسمبر 2022 کے بعد ان کی پہلی سنچری بننے کے بہت قریب تھی، مگر بدقسمتی سے وہ رن آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔

سیریز کے اختتام پر بابر اعظم کو ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر جسٹن گریوز کے ساتھ مشترکہ طور پر پلیئر آف دی سیریز کا اعزاز دیا گیا۔ میچ کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ فتح ہمیشہ اطمینان بخش ہوتی ہے، مگر سب سے اہم بات یہ تھی کہ ٹیم نے اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کیا — چاہے وہ پہلی اننگز میں عبداللہ شفیق کی بیٹنگ ہو یا دوسری اننگز میں اسپنرز کی زبردست بولنگ۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیم نے اس سیریز کی تیاری کے لیے گزشتہ تین ماہ سے لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ایک خصوصی ریڈ بال کیمپ منعقد کیا تھا، اور جب پچ کا معائنہ کیا تو یہ پاکستانی کنڈیشنز سے ملتی جلتی محسوس ہوئی، جس کے باعث ٹیم نے ایک اضافی اسپنر کھلانے کا فیصلہ کیا۔
دوسرے ٹیسٹ کا سب سے نمایاں پہلو عبداللہ شفیق کی ناقابلِ یقین بیٹنگ کارکردگی رہی۔ وہ اصل میں شان مسعود کی انگلی کی چوٹ کے باعث ٹیم میں شامل کیے گئے تھے، اور پہلی بار اپنے ٹیسٹ کیریئر میں نمبر تین پر بیٹنگ کرنے کی ذمہ داری سنبھالی — جبکہ وہ عام طور پر اوپننگ بلے باز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ عمران الحق کی جلد آؤٹ ہونے کے بعد کریز پر آتے ہوئے شفیق نے ٹیم کی اننگز کو انتہائی مہارت سے سنبھالا۔

انہوں نے پہلی اننگز میں 323 گیندوں پر محیط ایک طویل اور صبر آزما اننگز کھیلتے ہوئے 160 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز مکمل کی، جس میں 15 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔ یہ ان کی ٹیسٹ کیریئر کی چھٹی سنچری اور 2024 کے بعد پہلی سنچری تھی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس اننگز سے قبل ان کے آخری 35 ٹیسٹ اننگز میں سے 25 مواقع پر وہ 20 رنز کا ہندسہ بھی عبور نہیں کر پائے تھے، جس کے باعث یہ کم بیک اننگز ان کے کیریئر کا ایک نہایت اہم موڑ ثابت ہوئی۔ مقابلے کے دوران انہوں نے تیز گیندبازوں اور اسپنرز، دونوں کے خلاف بھرپور تکنیکی مہارت کا مظاہرہ کیا۔

میچ کے بعد پلیئر آف دی میچ کا اعزاز حاصل کرنے پر عبداللہ شفیق نے کہا کہ یہ کم بیک میچ ان کے لیے کسی ڈیبیو سے کم نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے سخت محنت کر رہے تھے اور اپنے موقع کے منتظر تھے، اور جب یہ موقع غیر متوقع طور پر ملا تو انہوں نے اسے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔

عبداللہ شفیق نے دوسری اننگز میں بھی ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 24 رنز ناٹ آؤٹ بنائے اور پاکستان کو مطلوبہ ہدف تک پہنچا کر ٹیم کی 8 وکٹوں سے فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
پورٹ آف اسپین کے کوئنز پارک اوول میں کھیلے گئے اس فیصلہ کن ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور اپنی پہلی اننگز میں 344 رنز بنائے، جس میں جسٹن گریوز کے 73 اور کپتان روسٹن چیز کے 70 رنز شامل تھے، جبکہ ساجد خان نے شاندار 4 وکٹیں حاصل کیں۔ جواب میں پاکستان نے آزان اویس کی نصف سنچری، عبداللہ شفیق کی 160 اور بابر اعظم کی 88 رنز کی مدد سے 387 رنز بنا کر 43 رنز کی اہم برتری حاصل کی، اگرچہ جومیل وارکن نے پاکستانی اننگز میں چھ وکٹیں حاصل کیں۔

دوسری اننگز میں پاکستان کے اسپن جوڑی ساجد خان اور علی عثمان نے ویسٹ انڈیز کے مڈل آرڈر کو تہس نہس کر دیا، اور میزبان ٹیم کو 103 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ کی مشکل صورتحال میں لا کھڑا کیا۔ چوتھے دن پاکستان نے باقی ماندہ وکٹیں جلد سمیٹ کر ویسٹ انڈیز کو محدود ہدف پر آؤٹ کر دیا، جس کے بعد بابر اعظم اور عبداللہ شفیق نے بغیر کسی مشکل کے مطلوبہ رنز مکمل کر کے ٹیم کو 8 وکٹوں سے فتح دلوائی۔
خیال رہے کہ پاکستان کو سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں، جو 25 سے 29 جولائی کے دوران ٹیرووبا میں کھیلا گیا تھا، شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس نے ٹیم کی بیرونِ ملک مسلسل ناکامیوں کے سلسلے کو مزید طول دیا تھا۔ پاکستانی ٹاپ آرڈر پہلے ٹیسٹ میں مایوس کن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا تھا، جس کے باعث دوسرے ٹیسٹ میں بابر اعظم اور عبداللہ شفیق کی شراکت ٹیم کے لیے اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گئی۔
پاکستان کے اسسٹنٹ کوچ اسد شفیق نے دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبداللہ شفیق حال ہی میں ٹیم میں شامل ہوئے ہیں، مگر وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل رنز بنا رہے تھے اور جب موقع ملا تو انہوں نے اسے بھرپور انداز میں استعمال کیا۔ کوچ کے مطابق ان کی اننگز کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے ڈھیلی گیندوں کو سزا دی جبکہ اچھی گیندوں کا احترام کیا، اور یہی توازن ان کی اننگز کو ممتاز بناتا ہے۔