پنجاب میں مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ فعال، 5 اگست تک جاری رہنے کی پیشگوئی، صوبے بھر میں فلڈ الرٹ جاری

پنجاب بھر میں مون سون بارشوں کا ایک نیا اور طاقتور سلسلہ متحرک ہو چکا ہے، جس کے 5 اگست تک جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے کے متعدد اضلاع میں شہری سیلاب، دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آج صوبائی دارالحکومت لاہور میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم گزشتہ چند دنوں میں بارشوں کی شدت میں کچھ کمی کے باعث درجہ حرارت میں بھی بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ لاہور میں آج کم سے کم درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی دوران ممکنہ بارشوں کے پیشِ نظر واسا لاہور کے منیجنگ ڈائریکٹر نے آپریشنل عملے کو نکاسیِ آب کے انتظامات کے لیے مکمل الرٹ رہنے کی سخت ہدایات جاری کر دی ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ شہری سیلاب کی صورت میں فوری اقدامات کیے جا سکیں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون کا یہ چوتھا سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کی توقع ہے، جس کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں تیز بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ محکمے کے مطابق شدید بارشیں لاہور، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، خوشاب، میانوالی، لیہ، بھکر، نورپور تھل، سرگودھا، ساہیوال، اوکاڑہ اور پاکپتن میں متوقع ہیں۔ اسی طرح جنوبی پنجاب کے اضلاع بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان، خانیوال، ملتان، وہاڑی، لودھراں، مظفر گڑھ، کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں بھی 31 جولائی سے 3 اگست کے دوران بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

شمالی پنجاب کے علاقوں — راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیر آباد، سیالکوٹ اور نارووال — میں بھی تیز بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق شدید بارشوں کی صورت میں لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا سنگین خطرہ موجود ہے۔ دوسری جانب مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں مسلسل بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی برقرار ہے، جس کے پیشِ نظر ان علاقوں کے مکینوں اور سیاحوں کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے ترجمان کے مطابق صوبے کے بیشتر بڑے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ فی الحال معمول کے مطابق ہے۔ دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کی سطح نارمل رینج میں بہہ رہی ہے۔ تاہم دریائے سندھ میں کالاباگ اور چشمہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق کالاباگ کے مقام پر پانی کا بہاؤ تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار کیوسک جبکہ چشمہ کے مقام پر تقریباً 2 لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے۔ تاہم وزیر آباد کے نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں پانی کا بہاؤ تقریباً 3,500 کیوسک تک جا پہنچا ہے۔ اسی طرح نارووال کے نالہ بسنتر اور نالہ بئیں میں بھی نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ حکام کے مطابق بالائی علاقوں میں متوقع بارشوں کے باعث آئندہ دنوں میں مشرقی دریاؤں اور ان سے ملحقہ ندی نالوں کے بہاؤ میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
حکومتِ پنجاب نے ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر متاثرہ اور خطرے سے دوچار علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں، جہاں متاثرہ خاندانوں کو رہائش، خوراک، صاف پانی، طبی امداد اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہنگامی منصوبہ بندی کو فعال کریں، نکاسیِ آب کے نظام کو مکمل فعال رکھیں اور ریسکیو ٹیموں کو ہر وقت تیار رکھیں۔ صحت، آبپاشی، مواصلات و تعمیرات، مقامی حکومت اور لائیو اسٹاک کے محکموں کو بھی ہنگامی الرٹ جاری کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں فوری اور مربوط ردعمل دیا جا سکے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی صوبے بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ چوبیس گھنٹے مستعد اور چوکس رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
پی ڈی ایم اے حکام نے شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ موسمی و سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر مکمل احتیاط برتیں۔ حکام کی جانب سے دی گئی اہم ہدایات درج ذیل ہیں:

  • دریاؤں کے پاٹ اور نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر شہری فوری طور پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو جائیں۔
  • دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے اطراف سیر و تفریح کے لیے جانے سے مکمل گریز کریں۔
  • بچوں کا خصوصی خیال رکھا جائے اور انہیں ہرگز دریاؤں یا ندی نالوں میں نہانے کی اجازت نہ دی جائے۔
  • شکستہ یا کچی عمارتوں میں قیام سے گریز کریں اور طوفانی بارش، تیز ہواؤں یا بجلی کڑکنے کے دوران گھروں کے اندر ہی رہیں۔
  • غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، خصوصاً پہاڑی و خطرناک راستوں پر۔
  • بجلی کے کھمبوں اور کھلی تاروں سے بچوں کو دور رکھیں تاکہ کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے۔
  • کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد کے لیے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بھی ملک گیر سطح پر الرٹ جاری کیا ہے، جس میں آئندہ تین دنوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے، فلیش فلڈز اور اربن فلڈنگ کے خدشے سے خبردار کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق بڑے دریاؤں اور موسمی ندی نالوں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے مقامی سطح پر سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ صوبائی و ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے اثرات کم کرنے کے لیے احتیاطی تدابیر یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔