بھارتی فلم اور ٹیلی ویژن انڈسٹری کے سینئر اور منجھے ہوئے اداکار پردیپ راوت طویل علالت کے بعد 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اپنی گہری اور بھاری آواز، دبنگ شخصیت اور طاقتور منفی کرداروں کی بدولت وہ بھارتی سنیما میں ایک منفرد اور ناقابلِ فراموش مقام رکھتے تھے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پردیپ راوت گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے ممبئی کے کوکیلا بین دھیرو بھائی امبانی اسپتال میں کینسر کے علاج کے لیے زیرِ علاج تھے۔ ان کے منیجر سدھارتھ تیواری نے ہندوستان ٹائمز کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اداکار طویل عرصے سے بلڈ کینسر کا شکار تھے، اور حال ہی میں ان کی بیماری دوبارہ شدت اختیار کر گئی تھی، جس کے باعث وہ منگل کے روز شام کو دنیا سے رخصت ہو گئے۔ رپورٹس کے مطابق پردیپ راوت پہلے اس بیماری سے کسی حد تک صحت یاب ہو چکے تھے، مگر گزشتہ چند دنوں میں ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی تھی۔
مرحوم اپنے پسماندگان میں اہلیہ اور بیٹے وکرم آدتیہ کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی آخری رسومات بدھ کے روز ادا کیے جانے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی بالی وڈ اور جنوبی بھارتی فلم صنعت کی نمایاں شخصیات کے ساتھ ساتھ لاکھوں مداحوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
فلم ’لگان‘ میں پردیپ راوت کے ساتھ کام کرنے والے معروف اداکار یشپال شرما نے انسٹاگرام پر ان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے دلی خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا: "ہمارا گجنی، لگان کا دیوا، پردیپ راوت اب ہم میں نہیں رہے۔ اللہ ان کی روح کو سکون بخشے۔” یشپال شرما کے علاوہ بھی متعدد فنکاروں، ہدایت کاروں اور فلمی شخصیات نے سوشل میڈیا پر پیغامات کے ذریعے پردیپ راوت کی فنی خدمات کو یاد کیا اور ان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
پردیپ راوت نے اپنے اداکاری کے کیریئر کا باقاعدہ آغاز معروف پروڈیوسر بی آر چوپڑا کے شہرۂ آفاق تاریخی ٹی وی ڈرامے ’مہابھارت‘ میں اشوتھاما کا مرکزی کردار ادا کر کے کیا، جس نے انہیں راتوں رات ملک بھر کے گھر گھر میں پہچان دلوائی۔ یہ کردار آج بھی ان کی سب سے یادگار پرفارمنسز میں شمار ہوتا ہے، اور اسی کی بدولت انہیں فلمی دنیا میں قدم رکھنے کا موقع ملا۔
انہوں نے 1985 میں فلم ’میری جنگ‘ سے اپنے ہندی فلمی کیریئر کا آغاز کیا، اور بتدریج ایک ایسے اداکار کے طور پر اپنی شناخت بنائی جو طاقتور اور یادگار منفی کردار نبھانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
اگرچہ ٹیلی ویژن نے پردیپ راوت کو ابتدائی شہرت دلائی، مگر سنیما بینوں کے دلوں میں انہوں نے اپنی جگہ عامر خان کی سپرہٹ فلم ’لگان‘ (2001) میں دیوا سنگھ سودھی کے کردار سے بنائی، جسے آج بھی شائقین محبت سے یاد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ 1999 کی فلم ’سرفروش‘ میں سلطان کے کردار نے بھی انہیں بھرپور پذیرائی دلوائی۔
تاہم پردیپ راوت کو سب سے زیادہ شہرت 2008 کی سپرہٹ فلم ’گجنی‘ میں ملی، جس میں انہوں نے خوفناک اور بے رحم ولن ’گجنی دھرماتما‘ کا کردار ادا کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ کردار سب سے پہلے 2005 کی تامل فلم ’گجنی‘ میں دوہرے کردار کی صورت میں نبھایا تھا، اور بعد ازاں اسی کردار کو ہندی ری میک میں بھی دہرایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’دیوار‘ (2004)، ’راؤڈی راٹھور‘، ’شبری‘ (2011)، ’گرینڈ مستی‘ (2013) اور ’سنگھ اِز بلنگ‘ (2015) جیسی فلموں میں بھی یادگار کردار ادا کیے۔ ان کی حالیہ فلموں میں 2025 کی فلم ’چھاوا‘ میں یساجی کانک کا کردار بھی شامل ہے۔
اگرچہ ہندی سنیما نے پردیپ راوت کو ابتدائی پہچان دی، مگر جنوبی بھارتی فلم انڈسٹری میں ان کی اداکاری نے انہیں ایک ہمہ جہت اور ورسٹائل فنکار کے طور پر منوایا۔ انہوں نے معروف ہدایت کار ایس ایس راجا مولی کی تیلگو فلم ’سائے‘ سے جنوبی سنیما میں قدم رکھا، جس پر انہیں تیلگو فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین ولن سے نوازا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے ’چترپتی‘، ’اسٹالن‘، ’1-Nenokkadine‘ سمیت متعدد تیلگو فلموں میں کام کیا۔ تامل سنیما میں بھی وہ ’راجا پٹئی‘، ’ویرم‘، ’جلا‘ اور ’مارکیٹ راجا ایم بی بی ایس‘ جیسی متعدد فلموں کا حصہ رہے۔ انہوں نے کنڑ سنیما میں فلم ’پیروڈی‘ اور ملیالم سنیما میں ’چائنا ٹاؤن‘ سے بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، جبکہ بنگالی فلم ’ہیرو 420‘ اور بھوجپوری فلم ’کریک فائٹر‘ میں بھی وہ نظر آئے۔
اس طرح پردیپ راوت ہندی، تیلگو، تامل، کنڑ، ملیالم، بنگالی اور بھوجپوری — سات مختلف زبانوں کی فلمی صنعتوں میں کام کرنے والے ایک نہایت کم یاب اور ہمہ گیر اداکار تھے، جنہوں نے شاہ رخ خان، سلمان خان، عامر خان اور وکی کوشل جیسے بڑے ناموں کے ساتھ بھی کام کیا۔
پردیپ راوت کے انتقال سے بھارتی فلم انڈسٹری ایک ایسے منفرد فنکار سے محروم ہو گئی ہے، جس نے ٹیلی ویژن اور سنیما دونوں میدانوں میں، اور سات مختلف زبانوں میں، اپنی جاندار اداکاری سے دیرپا نقوش چھوڑے۔ ان کی گہری آواز اور دبنگ شخصیت نے انہیں بھارتی سنیما کی تاریخ کے یادگار ترین ولنز میں شمار کروایا، اور آنے والی نسلیں بھی انہیں ’مہابھارت‘ کے اشوتھاما، ’لگان‘ کے دیوا اور ’گجنی‘ کے خوفناک کردار کے ذریعے یاد رکھیں گی۔