موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کیس: لاہور ہائیکورٹ کا سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ

اہور ہائیکورٹ نے 2020ء کے چرچے میں رہنے والے سیالکوٹ-لاہور موٹروے اجتماعی زیادتی کیس میں مجرمان عابد علی عرف ملہی اور شفقت علی عرف بگا کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔ عدالت نے انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت اور دیگر سزاؤں کو برقرار رکھتے ہوئے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

عدالتی بینچ اور فیصلے کی بنیاد

جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس طارق محمود باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے قرار دیا کہ استغاثہ نے ڈی این اے، میڈیکل اور فرانزک شواہد کے ذریعے ملزمان کا جرم شکوک و شبہات سے بالاتر ثابت کر دیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ متاثرہ خاتون کا بیان انتہائی معتبر اور اہم شہادت ہے، جس کی مکمل تائید سائنسی اور فرانزک شواہد سے بھی ہوتی ہے۔ عدالت کے مطابق ڈی این اے رپورٹ نے عابد علی کے جرم کو ثابت کیا، جبکہ گاڑی سے حاصل کیے گئے خون کے نمونے بھی ملزم سے مطابقت رکھتے تھے۔ شناخت پریڈ کے دوران بھی دونوں ملزمان کی درست شناخت ہوئی تھی۔

عدالت کے ریمارکس: ’’انسانی وقار اور خواتین کے تحفظ پر حملہ‘‘

اپنے تحریری فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ نے سخت الفاظ میں قرار دیا کہ ملزمان نے انسانی وقار، جسمانی خودمختاری اور عورت کے احترام کو یکسر پامال کیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کا جرم عدالتی ضمیر کو جھنجھوڑنے والے سنگین ترین جرائم میں شمار ہوتا ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ایسے واقعات کے اثرات صرف متاثرہ فرد تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پورے معاشرے بالخصوص خواتین میں شاہراہوں پر سفر کے دوران عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہیں اور عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد متزلزل کرتے ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ ٹرائل کورٹ نے شواہد کا بھرپور جائزہ لیا اور فیصلے میں کسی قسم کی قانونی خامی یا غلط تشریح ثابت نہیں ہو سکی، لہٰذا اپیل میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔

عمر قید کی سزا میں اضافے کی ریاستی اپیل بھی مسترد

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے دائر اس اپیل کو بھی مسترد کر دیا جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365-اے (تاوان کے لیے اغوا) کے تحت دی گئی عمر قید کی سزا میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے یہ سزا برقرار رکھتے ہوئے مجرمان کی رہائی کے خلاف بھی حتمی فیصلہ سنایا۔

واقعہ کیا تھا؟

یہ سنگین واقعہ 9 ستمبر 2020ء کی رات پیش آیا تھا، جب ایک خاتون کی گاڑی سیالکوٹ-لاہور موٹروے پر ایندھن ختم ہونے کے باعث گجرپورہ کے قریب رک گئی۔ مدد کے انتظار کے دوران دو مسلح افراد نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو زبردستی باہر نکالا اور اسلحے کے زور پر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے تفتیش کے دوران موبائل لوکیشن ڈیٹا اور ڈی این اے شواہد کی مدد سے پہلے ملزم شفقت اور بعدازاں دوسرے ملزم عابد کو گرفتار کیا تھا۔

انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 20 مارچ 2021ء کو دونوں مجرمان کو ریپ کے جرم میں سزائے موت، اغوا کے جرم میں عمر قید اور ڈکیتی کے جرم میں 14 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ مجرمان نے 25 مارچ 2021ء کو اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جسے عدالت نے مکمل شواہد کا جائزہ لینے کے بعد مسترد کر دیا۔

کیس کی اہمیت: انصاف کی فراہمی میں ایک اہم مثال

یہ کیس پاکستان میں خواتین کے تحفظ اور جنسی جرائم کے خلاف قانونی کارروائی کی ایک اہم مثال بن چکا ہے۔ عدالتی حلقوں اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سائنسی و فرانزک شواہد کی بنیاد پر سزا کو برقرار رکھنا مستقبل میں ایسے سنگین جرائم کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔