لاہور میں موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی وقفے وقفے سے جاری موسلادھار بارش نے شہر کے متعدد علاقوں کو اربن فلڈنگ کی لپیٹ میں لے لیا۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت کئی رہائشی علاقوں میں سڑکیں تالاب اور ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں، جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں بھی پانی داخل ہو گیا۔ سیوریج نظام کے مفلوج ہونے، ٹریفک جام اور آمدورفت میں شدید تعطل کے باعث شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا رہا۔

کن علاقوں میں صورتحال زیادہ خراب رہی؟

لاہور کینٹ میں بارش کے باعث سیوریج سسٹم مکمل طور پر جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک اور نادرا آباد سمیت متعدد علاقے کئی کئی فٹ پانی میں ڈوب گئے۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق سڑکیں دیکھنے میں چھوٹے دریاؤں کا منظر پیش کر رہی تھیں۔

<p”>ڈیفنس فیز تھری کے بلاکس اے، بی اور سی میں بارش کا پانی گھروں کے اندر تک داخل ہو گیا، جبکہ والٹن روڈ، کیولری گراؤنڈ اور مین ڈیفنس روڈ مکمل طور پر زیرِ آب آ گئے۔ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا، جس سے آمدورفت کئی گھنٹوں تک معطل رہی۔ اسی طرح لکشمی چوک، ایکسپو سینٹر روڈ، لارنس روڈ اور بدامی باغ جیسے مصروف مقامات بھی شدید متاثر ہوئے، جہاں گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں اور شہری گھنٹوں راستے میں ہی محصور رہے۔

نشتر ٹاؤن میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ

واسا کے اعداد و شمار کے مطابق نشتر ٹاؤن میں سب سے زیادہ 84 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ جوہر ٹاؤن، گلشن راوی، سمن آباد، اقبال ٹاؤن اور کہنہ سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں بھی خاصی بارش ہوئی۔ متعدد مقامات پر شدید بارش کے باعث سڑکوں پر گڑھے بھی بن گئے، جن میں سے کچھ ایس کے ایم ایچ کی جانب جانے والی سڑک پر بھی رپورٹ ہوئے۔

بجلی کے کھلے تاروں سے خطرہ، ایک شہری جاں بحق

موسلادھار بارش کے دوران نکاسیِ آب کے ناقص انتظامات کی وجہ سے ایک افسوسناک واقعے میں ایک موٹرسائیکل سوار جمع شدہ بارش کے پانی میں موجود کرنٹ زدہ تار سے ٹکرا کر جاں بحق ہو گیا، جس نے شہر کے کمزور برقی انفرااسٹرکچر اور نکاسیِ آب کے نظام پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے۔

محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے کی وارننگ

پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کے مطابق لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ کشمیر اور اسلام آباد، راولپنڈی کے علاقوں میں بھی اگلے 24 گھنٹوں کے دوران مزید موسلادھار بارش متوقع ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے پہلے ہی ملک بھر کے لیے سیلابی الرٹ جاری کر رکھا ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ مون سون اسپیل فلیش فلڈز، دریائی سیلاب، اربن فلڈنگ اور بعض پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مون سون بارشوں کے باعث شہر میں حبس اور گرمی کی شدت میں واضح کمی آئی ہے، اور لاہور کا کم سے کم درجہ حرارت 27 اور زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔

شہریوں کا مطالبہ: نکاسیِ آب کے پائیدار انتظامات کیے جائیں

مسلسل بارشوں کے باعث شہر کی بیشتر شاہراہیں زیرِ آب آ چکی ہیں اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں نے واسا اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نکاسیِ آب کے مؤثر اور پائیدار انتظامات کیے جائیں تاکہ ہر بارش کے بعد شہر سیلابی صورتحال سے دوچار نہ ہو۔ دوسری جانب متعلقہ ادارے ڈرینیج پمپس کی مدد سے پانی کے اخراج میں مصروف ہیں اور شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔