وزیرِاعظم ٹاسک فورس کی بحری اصلاحات رنگ لے آئیں: کراچی پورٹ، کسٹمز اور کنٹینر ٹرمینلز کی کارکردگی میں نمایاں بہتری

ڈیڑھ سال میں 99 میں سے 85 اصلاحاتی اہداف مکمل، کراچی پورٹ ٹرسٹ عالمی درجہ بندی میں 30 درجے بہتر، کسٹمز کلیئرنس کا دورانیہ 53 گھنٹے سے کم ہو کر محض 18 گھنٹے تک محدود

پاکستان کے بحری شعبے میں گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران ہونے والی جامع اصلاحات نے ملکی تجارتی نظام کی کایا پلٹ دی ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم کی گئی "وزیرِاعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات” کی مسلسل نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کی کاوشوں سے کراچی پورٹ، پورٹ قاسم، کسٹمز کے نظام اور ملک کے بڑے کنٹینر ٹرمینلز کی استعداد میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جس سے درآمدی و برآمدی سرگرمیاں پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور شفاف ہو گئی ہیں۔

ٹاسک فورس کا قیام اور مقاصد

دسمبر 2024 میں قائم کی گئی "ریفارم امپلیمنٹیشن کمیٹی” وزیرِاعظم کی بحری ٹاسک فورس کے تحت کام کر رہی ہے اور اس میں وزارتِ دفاع، بحری و لاجسٹکس کے شعبوں کے ماہرین، نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) سمیت دیگر اہم اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔ اس کمیٹی نے پورٹ ماسٹر پلاننگ، شپنگ، جہاز سازی، جہازوں کی ری سائیکلنگ اور ماہی گیری کے شعبوں پر مشتمل 99 اصلاحاتی اقدامات پر مبنی جامع روڈ میپ تیار کیا تھا۔ حکام کے مطابق محض ڈیڑھ سال کے مختصر عرصے میں ان 99 میں سے 85 اقدامات کو کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ 11 اقدامات حتمی مراحل میں ہیں اور بقیہ تین طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت جاری ہیں۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کی کارکردگی میں انقلابی بہتری

بحری ٹاسک فورس کے شریک چیئرمین ایڈمرل (ریٹائرڈ) افتخار احمد راؤ کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے عالمی بندرگاہی درجہ بندی میں غیرمعمولی چھلانگ لگاتے ہوئے صرف ایک سال کے اندر 99ویں سے 69ویں نمبر پر پہنچ کر 30 درجے کی بہتری حاصل کی ہے۔ اسی طرح پورٹ قاسم نے بھی اپنی درجہ بندی میں 18 درجے کی بہتری لاتے ہوئے دنیا کی تیزی سے بہتر ہونے والی بندرگاہوں میں شمولیت حاصل کی ہے۔ کراچی پورٹ پر کارگو ہینڈلنگ گزشتہ ایک سال میں بڑھ کر 55.8 ملین ٹن جبکہ پورٹ قاسم پر 47 ملین ٹن تک جا پہنچی ہے، جو بحری تجارت میں بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔

اصلاحاتی عمل کے تحت کراچی پورٹ کی زمین سے غیر قانونی قبضے ختم کروائے گئے، بندرگاہی گنجائش میں توسیع کی گئی اور اقتصادی زونز کی نگرانی کے لیے جدید مانیٹرنگ نظام متعارف کرایا گیا، جس سے مستقبل میں مزید توسیع کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

کسٹمز نظام میں شفافیت: "فیس لیس” کلیئرنس کا انقلاب

ٹاسک فورس کی سب سے کامیاب اصلاحات میں سے ایک "فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم” کا نفاذ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت درآمد کنندگان اور کسٹمز افسران کے درمیان براہِ راست رابطہ ختم کر کے شفافیت میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبر کسٹمز شکیل شاہ کے مطابق اس اصلاحاتی اقدام سے گڈز ڈیکلریشن (جی ڈی) کے فی کیس اوسط ریونیو میں 6.8 ملین روپے سے بڑھ کر 7.7 ملین روپے تک، یعنی 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ درآمدات سے متعلق ٹیکس وصولی میں بھی 14 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

اس نظام کا سب سے نمایاں پہلو کسٹمز کلیئرنس کے دورانیے میں غیرمعمولی کمی ہے۔ ٹاسک فورس کے قیام سے قبل ایک کارگو کی کلیئرنس میں اوسطاً 53 گھنٹے لگتے تھے، جو اب کم ہو کر محض 18 گھنٹے رہ گئے ہیں، اور حکام کا ہدف ہے کہ آئندہ ایک سے دو سال میں اسے مزید کم کر کے 12 گھنٹے تک لایا جائے۔ اس کے علاوہ گرین چینل کلیئرنس، پوسٹ کلیئرنس آڈٹ اور دیگر کسٹمز اصلاحات نے تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے کارگو کی ترسیل کے عمل کو مزید تیز اور آسان بنا دیا ہے۔

کنٹینر ٹرمینلز کی جدید کاری

بندرگاہی اصلاحات کا ایک اہم حصہ کنٹینر ٹرمینلز کی استعداد بڑھانا بھی رہا ہے۔ کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ میں جدید آلات کی تنصیب سے کنٹینر ہینڈلنگ کی رفتار میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل، ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز اور پورٹ قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل کی آپریشنل صلاحیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ ان ٹرمینلز میں جدید مشینری اور خودکار نظام کی تنصیب سے کنٹینرز کی لوڈنگ و ان لوڈنگ کا عمل تیز تر ہوا ہے، جس سے بحری جہازوں کے بندرگاہ پر ٹھہراؤ کا دورانیہ (ڈویل ٹائم) نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔

ڈیجیٹلائزیشن اور 24 گھنٹے آپریشنز

وزارتِ بحری امور کے مطابق پورٹس کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن، پورٹ کمیونٹی سسٹم، ویب او سی (WeBOC) کی اپ گریڈیشن، جدید کارگو اسکینرز اور الیکٹرانک وی بریجز کے نفاذ سے کارگو کلیئرنس کا عمل مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن، خودکار نظام اور بہتر جگہ کے انتظام (اسپیس مینجمنٹ) کی بدولت بندرگاہوں پر کنٹینرز کے رش میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بندرگاہوں پر اب 24 گھنٹے آپریشنز کا سلسلہ رائج کیا گیا ہے، جس سے درآمدی و برآمدی سامان کی کلیئرنس میں تاخیر کا خاتمہ ہوا ہے اور تاجروں کو حقیقی معنوں میں سہولت میسر آئی ہے۔

قومی ڈریجنگ پلان اور پورٹ قاسم کی تکمیل

بندرگاہوں کی گہرائی بڑھانے اور بڑے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو ممکن بنانے کے لیے قومی ڈریجنگ پلان کے تحت اقدامات تیز کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پورٹ قاسم کی ڈریجنگ کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ بیرونِ ملک آپریٹرز پر انحصار کم کرنے کے لیے "نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز” (این ڈی ایم ایس) کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے، جسے ڈریجنگ کے شعبے میں خود انحصاری کے حصول کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

جہاز سازی اور دیگر اہم پیش رفت

ٹاسک فورس کے مطابق آٹھ سال کے وقفے کے بعد جہازوں کی ری سائیکلنگ کا عمل دوبارہ شروع کیا گیا ہے، جبکہ کراچی شپ یارڈ میں دفاعی بحری جہازوں، بشمول فریگیٹس اور میزائل کرافٹس کی تیاری جاری ہے۔ کئی دہائیوں میں پہلی بار پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے لیے تجارتی کنٹینر جہاز کی تعمیر کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے، جو بین الاقوامی منصوبوں کے مقابلے میں کم لاگت پر مکمل کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے تازہ ترین وفاقی بجٹ میں جہازوں اور جہاز سازی کے آلات پر سیلز ٹیکس بھی ختم کر دیا ہے تاکہ ملکی شپنگ صنعت میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

مزید برآں پاکستان شپنگ پالیسی 2026 کو وسیع مشاورت کے بعد حتمی شکل دے دی گئی ہے، جسے منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ایک علیحدہ ٹرانس شپمنٹ پالیسی بھی تیار کی گئی ہے تاکہ مقامی اور بین الاقوامی صارفین کو سہولت فراہم کی جا سکے، جبکہ ساحلی شپنگ کے شعبے میں غیر ملکی بحری جہازوں کو مشروط اجازت دینے کے لیے صوبائی و وفاقی سطح پر قانون سازی بھی زیرِ عمل ہے۔

معیشت پر ممکنہ اثرات

ماہرین کے مطابق پاکستان کی 80 فیصد سے زائد بین الاقوامی تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے بندرگاہی اصلاحات کا براہِ راست اثر ملکی معیشت پر مرتب ہوتا ہے۔ کلیئرنس کے دورانیے میں کمی، بندرگاہوں پر رش کا خاتمہ اور شفاف کسٹمز نظام نہ صرف درآمد و برآمد کنندگان کے اخراجات کم کرتا ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد تجارتی مرکز کے طور پر پیش کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا حتمی مقصد پاکستان کو خطے میں ایک اہم ٹرانس شپمنٹ ہب کے طور پر متعارف کرانا ہے، جس سے آئندہ برسوں میں ملکی معیشت کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔

گوادر پورٹ: چیلنجز بدستور برقرار

اگرچہ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، تاہم ٹاسک فورس کے چیئرمین نے تسلیم کیا کہ گوادر پورٹ تاحال سکیورٹی خدشات، سڑک و ریلوے رابطے کی کمی اور پانی و بجلی کی عدم فراہمی جیسے مسائل کے باعث مکمل طور پر ترقی نہیں پا سکا۔ ان کے مطابق گوادر ایک قدرتی طور پر گہرے پانی کی بندرگاہ ہے، تاہم اس کی مکمل صلاحیت کا حصول خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی سے ہی ممکن ہو سکے گا، جس پر مستقبل میں توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔

مجموعی طور پر وزیرِاعظم ٹاسک فورس کی یہ اصلاحات پاکستان کے بحری شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ملک کو علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر ابھارنے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔