پنجاب میں گرین ٹرانسپورٹ انقلاب: مریم نواز شریف نے پانچ اضلاع کے لیے الیکٹرک بس سروس کا افتتاح کر دیا

صوبہ پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تبدیلی کا سفر مزید آگے بڑھ گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے حالیہ دنوں پانچ اہم اضلاع — لیہ، اوکاڑہ، سیالکوٹ، چنیوٹ اور مری — کے شہریوں کے لیے جدید الیکٹرک بس سروس کا آن لائن افتتاح کیا۔ یہ تقریب ڈیجیٹل ذرائع سے منعقد کی گئی، جس سے صوبائی حکومت کی ٹیکنالوجی دوست طرزِ حکمرانی کا ایک اور پہلو بھی سامنے آیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبے میں سفری بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے، تاکہ عام شہریوں کو کم قیمت، محفوظ اور باوقار طرزِ سفر میسر آ سکے۔

پانچ نئے اضلاع، ایک مشترکہ مقصد

ان پانچوں اضلاع میں الیکٹرک بسوں کی شمولیت کا بنیادی مقصد دیہی اور نیم شہری آبادی کو بھی جدید ٹرانسپورٹ کی سہولت سے مستفید کرنا ہے۔ اب تک زیادہ تر توجہ بڑے شہری مراکز پر مرکوز رہی تھی، مگر حالیہ فیصلوں سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اب چھوٹے اور درمیانے درجے کے اضلاع کو بھی اس نیٹ ورک میں شامل کر رہی ہے۔ مری جیسے سیاحتی مقام میں بس سروس کی شمولیت سیاحوں اور مقامی آبادی دونوں کے لیے یکساں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

پانچ سالہ منصوبہ: پانچ ہزار الیکٹرک بسوں کا ہدف

حکومتی حکام کے مطابق آئندہ پانچ برسوں کے دوران پنجاب بھر میں مجموعی طور پر پانچ ہزار الیکٹرک بسیں سڑکوں پر لائی جائیں گی، جو اسے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک بنا دے گا۔ اس وسیع منصوبے کے تحت بتدریج تمام تحصیلوں تک بسیں پہنچائی جائیں گی تاکہ نقل و حمل کی سہولت صرف ضلعی ہیڈکوارٹرز تک محدود نہ رہے۔

اس اقدام کے پیچھے دو بنیادی مقاصد کارفرما دکھائی دیتے ہیں:

  • ماحولیاتی تحفظ: روایتی ڈیزل بسوں کے مقابلے میں الیکٹرک بسیں کاربن اخراج کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
  • اقتصادی سہولت: کم کرایوں کی بدولت متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے روزمرہ سفر سستا ہو جاتا ہے۔

مقامی مینوفیکچرنگ کی طرف پیش قدمی

اس منصوبے کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ پنجاب اب صرف درآمد شدہ الیکٹرک بسیں چلانے تک محدود نہیں رہا بلکہ صوبے کے اندر ہی بسوں کی اسمبلنگ اور تیاری کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس سے مقامی سطح پر ایک نئی صنعت کو فروغ مل رہا ہے، جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ درآمدات پر انحصار بھی کم کرے گی۔

جدید سہولیات سے آراستہ بسیں

ان نئی بسوں میں جدید ٹیکنالوجی کا خاص خیال رکھا گیا ہے، جن میں درج ذیل سہولیات شامل ہیں:

  1. جی پی ایس ٹریکنگ کے ذریعے بس کی لائیو لوکیشن معلوم کی جا سکے گی۔
  2. مسافروں کے لیے مفت وائی فائی اور موبائل چارجنگ پورٹس۔
  3. ڈیجیٹل کرایہ ادائیگی کا نظام، جس سے نقد لین دین کی ضرورت کم ہو جائے گی۔
  4. سیف سٹی کیمروں کی تنصیب، خصوصاً خواتین مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر۔

آگے کیا ہوگا؟

حکام کے مطابق آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں مزید اضلاع کو اس نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا اور بس ڈپو، چارجنگ سٹیشنز جیسے بنیادی ڈھانچے کو بھی وسعت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ای-ٹیکسی اور ای-بائیک سکیموں پر بھی کام جاری ہے، جو مجموعی طور پر پنجاب کو ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے میدان میں ملک کا سرکردہ صوبہ بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔