دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں امریکا ایران کشیدگی، آبنائے ہرمز، افغانستان، مقبوضہ کشمیر اور بلوچستان سمیت کئی اہم امور پر پاکستان کا مؤقف بیان کیا۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان طاہر حسین اندرابی نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کے مؤقف کو تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں اور پاکستان کسی بھی ملک کی جانب سے ہتھیاروں کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔
امریکا، ایران کشیدگی پر پاکستان کی تشویش
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے مابین بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش رکھتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ تنازعات کو مذاکرات کی میز پر ہی حل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان چاہتا ہے کہ کشیدگی کا خاتمہ ہو اور تکنیکی سطح پر بات چیت کا آغاز ہو، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد معمول پر آنے کی امید ظاہر کی گئی۔ آبنائے ہرمز کے راستے تجارت اور پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل ترسیل پاکستان کے لیے اہم قرار دی گئی، کیونکہ اس آبی گزرگاہ کی صورتحال کا اثر عالمی سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔
اندرابی نے کہا کہ پاکستان تمام فریقین سے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتا ہے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کی تلقین کرتا ہے جو کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بنے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو امن اور باہمی احترام کے حصول کے لیے ایک اہم دستاویز قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان امید رکھتا ہے کہ دونوں فریق مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کریں گے۔
سفارتی رابطے اور ثالثی کی کوششیں
ترجمان کے مطابق پاکستان خطے میں اہم ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 10 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف کی امیرِ قطر سے اہم گفتگو ہوئی، جبکہ ایرانی صدر کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے میں بھی وزیراعظم نے ضبط و تحمل پر زور دیا، جس پر ایرانی صدر نے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔ اسی طرح نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے بھی ٹیلیفونک بات چیت ہوئی۔
پاکستان نے سعودی عرب کی علاقائی خودمختاری اور سالمیت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دوطرفہ معاہدوں پر عملدرآمد کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
پاک، امریکا تجارتی مذاکرات میں پیش رفت
بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین دوطرفہ تجارت سے متعلق بات چیت کے کئی ادوار مکمل ہو چکے ہیں، جن میں خاصی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔
افغانستان: انسانی امداد میں رکاوٹ کا معاملہ
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان افغانستان میں جاری انسانی بحران سے نمٹنے میں مسلسل معاونت فراہم کر رہا ہے اور کبھی بھی امدادی قافلوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ ترجمان نے انکشاف کیا کہ پاکستان انسانی امداد کے 45 ٹرک روانہ کر چکا ہے، تاہم افغان حکام کی جانب سے انہیں اجازت دینے میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ جب تک افغانستان دہشت گردوں اور دہشت گردی کی پشت پناہی ختم نہیں کرتا، دوطرفہ تعلقات میں موجود سرد مہری ختم نہیں ہو سکتی۔ ساتھ ہی واضح کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی رکنیت کے لیے افغانستان کا رکن ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔
برطانیہ میں بچوں کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ
ترجمان نے برطانیہ میں پیش آنے والے ایک بچوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کے واقعے کی سختی سے مذمت کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ملزم برطانوی شہری ہے اور اس کی زندگی کا بیشتر حصہ برطانیہ میں ہی گزرا، لہٰذا محض جائے پیدائش کی بنیاد پر پاکستان کو اس واقعے سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ برطانوی حکومت کو اپنے ملکی قانون کے تقاضے خود پورے کرنے چاہئیں، اور پاکستان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
مقبوضہ کشمیر: حریت رہنماؤں کے خلاف چارج شیٹ کی مذمت
پاکستان نے بھارتی اداروں کی جانب سے حریت قیادت کے خلاف دہائیوں پرانے مقدمے میں دائر کی گئی چارج شیٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت سے محروم رکھنے کی ایک اور کوشش قرار دیا۔ ترجمان کے مطابق یہ اقدام بھارتی اداروں کے سیاسی ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔
پہلگام واقعہ: پاکستان پر الزام تراشی مسترد
اندرابی نے پاکستان کو پہلگام واقعے سے جوڑنے کی کوششوں کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ بھارت تاحال اس واقعے کے حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا۔ ان کے مطابق پاکستان کے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بار بار مطالبے کے باوجود بھارت اس سے گریزاں ہے اور حقائق سامنے لانے کے بجائے میڈیا پر سنسنی خیزی پھیلانے میں مصروف ہے۔
دیگر سفارتی سرگرمیاں
پریس بریفنگ میں دیگر سفارتی پیش رفتوں کا بھی ذکر کیا گیا:
- 13 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے سابق امیرِ قطر کے انتقال پر تعزیت کے لیے دوحا کا دورہ کیا۔
- صدر آصف علی زرداری نے 6 سے 9 جولائی تک کرغزستان کا دورہ کیا، جو 21 برس بعد کسی پاکستانی صدر کا اس ملک کا پہلا دورہ ہے۔
- 9 جولائی کو کروشیا کے وزیرِ خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا، جس میں کثیرالجہتی فورمز پر تعاون بڑھانے سمیت اہم امور زیرِ بحث آئے۔
- اسلام آباد میں پاکستان اور پرتگال کے مابین دوطرفہ مذاکرات کا دور بھی ہوا۔
اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1540 پر عملدرآمد
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد 1540 پر عملدرآمد سے متعلق اپنی رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ یہ قرارداد ایٹمی، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں سمیت وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام سے متعلق ہے۔ پاکستان گزشتہ 22 برسوں سے اس ضمن میں اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے اور اوسطاً ہر تین برس بعد اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔
بلوچستان: چینی شہریوں کی سیکیورٹی اور پولیس اہلکاروں کی ہلاکت
ترجمان نے پاکستان میں مقیم چینی شہریوں کو ہر ممکن سیکیورٹی فراہم کیے جانے کی یقین دہانی کرائی۔ ساتھ ہی بلوچستان میں مسلح حملے میں پولیس اہلکاروں کے قتل کو ایک انتہائی افسوسناک واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے تنقیدی انداز میں کہا کہ بھارت پاکستانی شہریوں کے قتل عام پر اپنے میڈیا میں کھلے عام خوشی کا اظہار کرتا ہے۔
خلاصہ
مجموعی طور پر دفتر خارجہ کی اس ہفتہ وار بریفنگ میں خطے کی کشیدگی، سفارتی رابطوں، انسانی امداد، اور کشمیر سے متعلق پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو دہرایا گیا۔ اندرابی کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام آباد ایک جانب امریکا ایران کشیدگی میں ثالثی کے کردار کو اہمیت دے رہا ہے، تو دوسری جانب علاقائی و عالمی فورمز پر اپنی سفارتی مصروفیات کو بھی وسعت دے رہا ہے۔