ایران کا 85 امریکی فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

ایران کا بڑا دعویٰ

ایرانی حکام کے مطابق ملک کی مسلح افواج نے ایک منظم عسکری کارروائی کے دوران مختلف مقامات پر موجود امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں بیلسٹک میزائلوں اور جدید ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 85 اہداف کو ہدف بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی حالیہ امریکی اقدامات کے جواب میں کی گئی، جنہیں تہران نے اپنی قومی سلامتی کے خلاف قرار دیا ہے۔

امریکی ردعمل

امریکی حکام نے ایرانی دعووں پر فوری طور پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم دفاعی ذرائع کے مطابق صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں تعینات افواج کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

واشنگٹن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں اور فوجی تنصیبات کے تحفظ کے لیے امریکہ مکمل طور پر تیار ہے۔

خطے میں سیکیورٹی خدشات

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پورے خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات خلیجی ممالک، عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سفارتی کوششوں کو مزید اہم بنا دیا ہے تاکہ تنازع مزید نہ بڑھے۔

عالمی برادری کی تشویش

بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے پر زور دیا ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کے نتیجے میں پورا مشرقِ وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور خطے کی مجموعی سلامتی پر بھی نمایاں اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

صورتحال پر گہری نظر

تازہ پیش رفت کے بعد عالمی میڈیا اور دفاعی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند روز میں دونوں ممالک کی جانب سے مزید بیانات اور ممکنہ اقدامات سامنے آسکتے ہیں، جو خطے کی مجموعی صورتحال پر اثر انداز ہوں گے۔