شارجہ سے کراچی آنے والا ایک کارگو طیارہ دورانِ پرواز لاپتا ہونے کے بعد پاکستانی حکام نے سمندر میں بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔ طیارے میں سوار پانچ رکنی عملے سے تاحال رابطہ قائم نہیں ہو سکا۔
دورانِ پرواز اچانک رابطہ منقطع
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کارگو طیارہ متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے کراچی کے لیے روانہ ہوا تھا۔ پرواز کے دوران جہاز نے معمول کے مطابق فضائی نگرانی سے رابطہ رکھا، تاہم کراچی کے قریب پہنچنے سے قبل اچانک ریڈیو اور ریڈار سے اس کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ حکام کے مطابق طیارے نے رابطہ ختم ہونے سے چند لمحے قبل نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع بھی دی تھی۔
ریسکیو ٹیمیں فوری متحرک
واقعے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ اداروں نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا۔ پاکستان نیوی، پاکستان ایئر فورس اور دیگر متعلقہ ادارے بحیرہ عرب میں ممکنہ مقام پر طیارے اور عملے کی تلاش میں مصروف ہیں۔ سمندری جہازوں اور فضائی وسائل کو بھی آپریشن میں شامل کیا گیا ہے تاکہ کسی ممکنہ سراغ تک جلد از جلد پہنچا جا سکے۔
پانچ افراد طیارے میں سوار تھے
حکام کے مطابق کارگو طیارے میں مجموعی طور پر پانچ افراد موجود تھے، جن میں پائلٹ اور دیگر عملے کے ارکان شامل ہیں۔ تاحال کسی قسم کی جانی نقصان یا حادثے کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ متعلقہ ادارے مختلف امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات
ہوابازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع کے بعد طیارے کا اچانک ریڈار سے غائب ہونا غیر معمولی واقعہ ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں فلائٹ ڈیٹا، مواصلاتی ریکارڈ اور موسمی حالات سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ واقعے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
حکام کی اپیل
متعلقہ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اس واقعے سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر انحصار کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی سرچ آپریشن میں کوئی اہم پیش رفت سامنے آئے گی، عوام کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے گا۔