ریاض: یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر یکے بعد دیگرے حملے کرتے ہوئے 73 افراد کو زخمی کر دیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج نے ان حملوں کو ’’خطرناک اضافہ‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
سعودی اتحادی فورس کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے منگل کی صبح جاری بیان میں بتایا کہ حوثی باغیوں نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کے شہری اور اقتصادی مقامات کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ حملے بین الاقوامی انسانی و بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کا سلسلہ ہیں۔ حملوں کے نتیجے میں سعودی توانائی کی وزارت کے مطابق جنوبی خطے کی متعدد تنصیبات میں آگ بھی بھڑک اٹھی، جس سے کچھ عرصے کے لیے آپریشنز روکنا پڑے۔ رپورٹس کے مطابق سعودی ریاستی تیل کمپنی آرامکو کی جازان ریفائنری کمپلیکس میں بھی آگ لگنے کے باعث فیول پروسیسنگ یونٹس عارضی طور پر بند کرنا پڑے۔
سعودی حکام کے مطابق یہ حملے اس وقت کیے گئے جب حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر یمن کے شمالی صوبے الجوف میں واقع ایک جیل پر فضائی حملے کا الزام عائد کیا تھا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب گزشتہ کئی ہفتوں سے حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آ چکی ہے، جس نے 2022ء سے قائم نسبتاً پرامن جنگ بندی کو تقریباً بکھیر کر رکھ دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ حملہ گزشتہ چار سال کے دوران سعودی سرزمین پر کی جانے والی سب سے مہلک اور بڑی سرحد پار کارروائی ہے۔ خیال رہے کہ اس سے محض چند ہفتے قبل نجران کے جنوبی صوبے میں ایک حوثی حملے میں 11 شہری زخمی ہوئے تھے، جبکہ رواں سال جولائی میں بھی حوثی باغیوں نے سعودی تیل تنصیبات اور بحری جہازوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا تھا، جس سے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ مزید وسعت اختیار کر گئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جازان جیسے علاقوں کو نشانہ بنانا خاص طور پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اربوں ڈالر مالیت کے اقتصادی جدید کاری منصوبوں پر براہِ راست ضرب ہے، کیونکہ یہی علاقہ ایک بڑے اقتصادی شہر اور 4 لاکھ بیرل یومیہ صلاحیت کی ریفائنری کا مرکز ہے۔
جنرل المالکی نے واضح کیا کہ یہ حملے سعودی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور شہریوں کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں، اور کہا کہ اتحادی افواج دہشت گرد حوثی ملیشیا کو روکنے کے لیے ہر ممکن آپریشنل اقدام کریں گی۔ حوثی گروپ کی جانب سے تاحال زخمیوں کی تعداد سے متعلق سعودی دعووں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
عرب میڈیا کے مطابق یمن کے صوبے البیضا اور الجوف میں بھی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے مابین لڑائی میں تیزی آ گئی ہے۔ یمنی نائب وزیرِ دفاع میجر جنرل سمیر الصبری نے کہا ہے کہ حوثیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور حکومتی فورسز کا مقصد دارالحکومت صنعا کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔ واضح رہے کہ حوثی باغی 2014ء کے آخر سے صنعا اور ملک کے بیشتر حصوں پر قابض ہیں، جبکہ سعودی زیرِ قیادت اتحاد مارچ 2015ء سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں برسرِپیکار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطہ پہلے ہی ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی سے شدید متاثر ہے۔ حوثی، جنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے، خطے میں ایران نواز مسلح گروہوں کے وسیع تر اتحاد کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، اور ان کے حملوں میں اضافہ خطے کی پہلے سے غیر مستحکم سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔