جنگِ ستمبر 1965ء کا آٹھواں دن: بھارتی ٹینک ناکارہ، دوارکا کا بحری اڈہ راکھ کا ڈھیر

6 ستمبر 1965ء کو بھارت کی جانب سے لاہور اور سیالکوٹ کے محاذوں پر اچانک حملے کے بعد شروع ہونے والی 17 روزہ جنگ کا آٹھواں دن، یعنی 8 ستمبر، پاک بحریہ، پاک فضائیہ اور پاک فوج کی بیک وقت شاندار کارروائیوں کی وجہ سے تاریخ میں یادگار حیثیت رکھتا ہے۔ اسی دن کی مناسبت سے پاک بحریہ ہر سال 8 ستمبر کو ’’یومِ فتح‘‘ کے طور پر مناتی ہے۔

جنگ کے آٹھویں روز بھارتی فضائیہ نے میدان میں پسپائی کے بعد مایوسی کے عالم میں شہری آبادیوں کا رخ کیا۔ وزیرآباد، چنیوٹ اور سرگودھا کی غیر فوجی آبادیوں کے علاوہ سیالکوٹ کے اسپتال اور ضلعی عدالتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے عام شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

پاک فوج نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی دستوں کو لاہور اور سیالکوٹ کے علاقوں سے پیچھے دھکیل دیا۔ سیالکوٹ سیکٹر میں دفاعی کارروائیوں کے دوران درجنوں بھارتی ٹینک ناکارہ بنائے گئے اور جنگی ساز و سامان بھی قبضے میں لیا گیا۔ اس دوران عام شہریوں کی بڑی تعداد اپنی افواج کے حوصلے بڑھانے کے لیے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئی، جو اس جنگ میں قومی یکجہتی کی ایک نمایاں مثال بنی۔ رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیرِ دفاع نے بعدازاں پارلیمنٹ میں اپنی مسلح افواج کو بھاری جانی و مادی نقصان اٹھانے کا اعتراف بھی کیا تھا۔

پاک بحریہ نے 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب اپنی تاریخ کی پہلی بڑی جنگی کارروائی، ’’آپریشن دوارکا‘‘، انجام دی۔ کموڈور ایس ایم انور کی قیادت میں لائٹ کروزر پی این ایس بابر اور چھ تباہ کن جہازوں پر مشتمل بحری بیڑے نے بھارتی ساحلی شہر دوارکا (گجرات) کے ریڈار اسٹیشن اور ساحلی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جسے بھارتی فضائیہ کراچی پر حملوں کے لیے استعمال کر رہی تھی۔ اس کامیاب کارروائی کے بعد بھارتی حکومت کو شدید سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں بعد ازاں بھارتی بحریہ کے دفاعی بجٹ میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا۔ آبدوز پی این ایس غازی نے اس دوران بمبئی کے قریب تعیناتی کے ذریعے بھارتی بحریہ کو کسی جوابی کارروائی سے روکے رکھا۔

پاک فضائیہ نے جنگ کے آغاز ہی سے پیش قدمی کرتے ہوئے پٹھان کوٹ، ادم پور اور ہلواڑہ سمیت بھارتی فضائی اڈوں پر پیشگی حملے کیے، جس سے بھارتی فضائیہ کو اپنے جدید اڈے خالی کرنا پڑے۔ ہلواڑہ ایئربیس پر کی گئی کارروائیوں میں بھارتی مِگ-21 طیاروں کے پورے بیڑے کو نشانہ بنایا گیا۔ جنگ کے دوران پاک فضائیہ کی مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں بھارتی فضائیہ کو کئی درجن جنگی طیاروں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس سے پاک فضائیہ کو فضائی برتری حاصل ہونے میں نمایاں مدد ملی۔ عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کارروائیاں عصرِ حاضر کی تاریخ کی چند کامیاب ترین فضائی مہمات میں شمار ہوتی ہیں۔

1965ء کی یہ جنگ دراصل پاکستان کے ’’آپریشن جبرالٹر‘‘ کی ناکامی کے بعد شروع ہوئی تھی، جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں مسلح دراندازی کے ذریعے بھارتی تسلط کے خلاف بغاوت کو ہوا دینا تھا۔ 17 روزہ اس جنگ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ قرار دیا جاتا ہے، جس میں ایک ہزار سے زائد ٹینک میدانِ جنگ میں مدِمقابل آئے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 211 کے تحت 22 ستمبر 1965ء کو جنگ بندی نافذ ہوئی، تاہم دونوں ممالک آج بھی اس جنگ کے نتائج پر اپنے اپنے نقطہ نظر سے کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں۔