دورانِ ڈکیتی 2 شہریوں کا قتل: سزائے موت کا مجرم لاہور ہائیکورٹ سے بری

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ڈکیتی کی واردات کے دوران دو شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم نواز عرف بھالی کو شواہد میں پائے جانے والے تضادات کی بنیاد پر بری کر دیا۔

استغاثہ کے مطابق یہ واقعہ 2018ء میں تھانہ ننکانہ صاحب کی حدود میں پیش آیا تھا، جب ملزم نواز عرف بھالی نے ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر ظفراللہ اور عمر حیات نامی دو شہریوں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ پولیس نے واقعے کے فوری بعد مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے طویل سماعتوں کے بعد 2023ء میں ملزم کو دونوں قتل کے جرم میں سزائے موت کا حکم سنایا تھا، جس کے خلاف مجرم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔

جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے اس اپیل پر سماعت کی۔ مجرم کی جانب سے وکیل عثمان نسیم ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے

مجرم کے وکیل نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ٹرائل کے دوران استغاثہ نے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کو بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا، جس سے میڈیکل شہادت کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ وکیل نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ دونوں مقتولین کا پوسٹ مارٹم غیر معمولی تاخیر سے کیا گیا، جس سے تفتیشی عمل کی شفافیت پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی خامیوں کے باعث استغاثہ شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ملزم کا جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کیس میں پائے جانے والے تضادات اور تفتیشی خامیوں کے پیشِ نظر ملزم کے خلاف الزام شکوک و شبہات سے بالاتر ہو کر ثابت نہیں ہو سکا۔ پاکستانی قانونی نظام کے مسلمہ اصول کے مطابق کسی بھی فوجداری مقدمے میں اگر شہادتوں میں معقول شک پیدا ہو جائے تو اس کا فائدہ ملزم کو ملتا ہے، چاہے یہ شک محض ایک اہم پہلو تک ہی محدود کیوں نہ ہو۔ اسی اصول کی روشنی میں عدالت نے نواز عرف بھالی کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے فوری رہائی کا حکم دیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق قتل کے مقدمات میں پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کی گواہی ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ یہی گواہی موت کی وجہ، وقت اور طریقہ کار سے متعلق سائنسی شہادت فراہم کرتی ہے۔ اگر استغاثہ ٹرائل کے دوران اس اہم گواہ کو عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہے، تو اکثر اعلیٰ عدالتیں اسے تفتیش میں سنگین خامی تصور کرتے ہوئے ملزم کو شکِ کا فائدہ دیتی ہیں، جیسا کہ اس مقدمے میں بھی ہوا۔