وزیراعظم شہباز شریف جمعرات 22 اکتوبر کو پشاور پہنچ رہے ہیں، اور اس موقع پر شہر میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق دورے کی حفاظت کے لیے 462 افسران اور اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ دو پلاٹون پر مشتمل ریزرو نفری بھی ہنگامی ضرورت کے لیے الرٹ رہے گی۔ سکیورٹی پلان کی نگرانی براہِ راست کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر کریں گے، اور ایس ایس پی آپریشنز اور ایس پی کینٹ بھی انتظامات کا جائزہ لیں گے۔ ڈیوٹی پر ایلیٹ فورس، لیڈیز پولیس، ابابیل اسکواڈ اور سٹی پٹرولنگ کے اہلکار بھی شامل ہوں گے۔ خبر میں اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کا ذکر بھی ہے، مگر اس کی نوعیت، تعداد یا استعمال کا طریقہ پولیس نے بیان نہیں کیا، اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایسی تفصیل عموماً ظاہر بھی نہیں کی جاتی۔
یہ دورہ عام سرکاری مصروفیت نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعظم کا پہلا دورۂ پشاور ہے۔ رپورٹوں کے مطابق وہ گورنر فیصل کریم کنڈی کی دعوت پر آ رہے ہیں اور گورنر ہاؤس میں امن و امان پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے۔ جمعرات کو 24 نیوز کی ابتدائی خبر کے مطابق اجلاس میں گورنر، وفاقی وزرا اور سینیئر عسکری حکام شریک ہوئے اور شرکا کو صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس رپورٹ میں نہ کسی فیصلے کا ذکر تھا نہ کسی اہل کار کا بیان، اور خبر کے آخر میں "مزید تفصیل آئے گی” لکھا تھا، اس لیے اجلاس کے نتائج کے بارے میں فی الحال کوئی دعویٰ مناسب نہیں۔
دورے کی تاریخ کے بارے میں کچھ ابہام رہا، جو قاری کو معلوم ہونا چاہیے۔ ابتدائی رپورٹوں میں 17 اکتوبر کو بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اگلے ہفتے پشاور جائیں گے۔ پھر منگل 20 اکتوبر کو دورے کی خبریں آئیں، مگر اسی روز جیو اردو کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ وزیراعظم کی سرکاری مصروفیات کی وجہ سے دورہ ملتوی کر دیا گیا ہے اور اجلاس بھی مؤخر ہو گیا۔ نئی تاریخ اس وقت نہیں بتائی گئی تھی۔ بعد میں 22 اکتوبر کی تاریخ سامنے آئی، اور سماء ٹی وی کی رپورٹ میں اسے "متوقع” کہا گیا تھا، یعنی حتمی نہیں۔ اب ایکسپریس کی خبر کے مطابق وزیراعظم آج پہنچ رہے ہیں۔ یہ تبدیلیاں سکیورٹی کے وی وی آئی پی دوروں میں عام ہوتی ہیں، جہاں شیڈول جان بوجھ کر آخری وقت تک خفیہ رکھا جاتا ہے۔ ان رپورٹوں میں یہ بھی واضح نہیں کہ فیلڈ مارشل بھی ساتھ آ رہے ہیں یا نہیں، اس لیے مضمون میں اس بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔
اس دورے کی اہمیت سمجھنے کے لیے پس منظر دیکھنا ضروری ہے۔ 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج نافذ کیا گیا۔ رپورٹوں کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت یہ فیصلہ منظور کیا۔ بیان کردہ وجوہات میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ، سرکاری تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے، صوبائی حکومت کی مبینہ ناکامیاں اور گورنر کی رپورٹ شامل بتائی گئی۔ 12 اکتوبر کو وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے بتایا کہ گورنر راج "جب تک ضروری ہوا” رہے گا اور ضرورت پڑی تو انتخابات تک جا سکتا ہے، اور یہ بھی کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں۔ 18 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا اور خاموش رہنا مجرمانہ غفلت ہوتی۔ انھوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ تقریباً 48 گھنٹے مذاکرات ہوئے اور ایک مسودہ بھی تیار ہوا مگر بات چیت ناکام رہی، اور دو ماہ کا گورنر راج صوبے کے عوام کے لیے ضروری تھا۔ یہ حکومت کا مؤقف ہے، اور اس پر سیاسی اختلاف موجود ہے، اس لیے اسے ایک فریق کے بیان کے طور پر پڑھنا چاہیے۔
اسی سلسلے میں وزیراعظم نے ایک مشاورتی کونسل کا ذکر کیا جو زیادہ تر غیر سیاسی اور معزز ارکان پر مشتمل ہوگی اور جس کے اجلاسوں میں وہ ضرورت پڑنے پر خود شرکت کریں گے۔ دورے کے لیے ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ وہ مشاورتی کونسل اور مشران سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ڈیلی پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملاقات ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کے ارکان سے ہوگی، جس میں ضم شدہ اضلاع اور جنوبی اضلاع کے نمائندے شامل ہیں۔ سماء کے مطابق یہ کونسل آٹھ ضم شدہ اور چار جنوبی اضلاع، یعنی کل بارہ اضلاع کی نمائندگی کرتی ہے، اور وزیراعظم سے ان بارہ اضلاع کے لیے اپنا وژن پیش کرنے کی توقع ہے۔ اس رپورٹ میں کسی مالی یا ترقیاتی "پیکیج” کا ذکر نہیں، اس لیے ایسے اعلان کی توقع کو قیاس ہی سمجھنا چاہیے، اگرچہ ایک اور خبر میں پیکیج کی بات آئی تھی جس کی تفصیل میں نہیں مل سکی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی سے بریفنگ میں صوبے کے وہ مسائل بھی شامل رہنے کی توقع ہے جو عام شہری کی زندگی سے جڑے ہیں، یعنی گندم اور آٹے کی قلت، گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ، امن و امان اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوریاں۔ یہ فہرست اس لیے اہم ہے کہ سکیورٹی کی بحث میں اکثر روزمرہ مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں، حالانکہ عوام کے لیے آٹے کی قیمت اور بجلی کی فراہمی اتنی ہی اہم ہے جتنی امن و امان۔ وزیراعظم نے 18 اکتوبر کو یہ بھی کہا کہ مرکز صوبے کی ترقی کے لیے مدد دینے کو تیار ہے۔ دورے کا ایک امتحان یہ ہوگا کہ کیا یہ وعدے ٹھوس اعلانات میں بدلتے ہیں۔
سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے 462 اہلکار اور دو پلاٹون ریزرو نفری ایک بڑا انتظام ہے۔ ایلیٹ فورس عموماً حساس راستوں اور مقامات کی حفاظت میں استعمال ہوتی ہے، ابابیل اسکواڈ صوبائی پولیس کا ایک خصوصی گشتی دستہ ہے، اور خواتین پولیس کی موجودگی عموماً تلاشی اور ہجوم کے انتظام کے لیے رکھی جاتی ہے۔ سٹی پٹرولنگ کے ذریعے شہر میں مجموعی نگرانی بڑھائی جاتی ہے۔ اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کا ذکر خصوصاً اس لیے اہم ہے کہ حالیہ برسوں میں ڈرونز کا استعمال خطے میں سکیورٹی خطرے کے طور پر سامنے آیا ہے، اور وی وی آئی پی مقامات کی فضائی حفاظت اب معمول کا حصہ بن رہی ہے۔ یہ عمومی سکیورٹی مشاہدہ ہے، اور پشاور کے اس خاص دورے کے بارے میں کسی مخصوص خطرے کا ذکر خبر میں نہیں۔
شہریوں پر ایسے انتظامات کا اثر بھی ہوتا ہے۔ وی وی آئی پی دوروں کے دوران عام طور پر سڑکوں کی عارضی بندش، ٹریفک کا رخ موڑنا اور مخصوص علاقوں میں داخلے پر پابندی دیکھی جاتی ہے، جس سے اسپتال جانے والے مریضوں، دفاتر جانے والے ملازمین اور تاجروں کو مشکل ہو سکتی ہے۔ پولیس کی طرف سے ٹریفک کے متبادل راستوں کی پیشگی اطلاع دینا بہتر روایت ہے، اور شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ سرکاری اعلانات اور ٹریفک پولیس کی ہدایات دیکھ کر سفر کا منصوبہ بنائیں۔ اس خبر میں ٹریفک کے منصوبے کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے کسی خاص بندش کا دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔
دہشت گردی کے خطرے کا ذکر وزیراعظم کی حالیہ گفتگو میں بھی نمایاں تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ 2018 کے بعد سے دہشت گردی کی نئی لہر اور افغانستان سے در اندازی دیکھی گئی، اور اس میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار، فوجی افسر اور عام شہری جان سے گئے۔ اسی تناظر میں اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور "فتنۃ الخوارج” کے خلاف اقدامات پر بریفنگ متوقع بتائی گئی تھی، جیسا کہ ڈیلی پاکستان اور سماء کی رپورٹوں میں آیا۔ یہاں "فتنۃ الخوارج” وہ اصطلاح ہے جو سرکاری سطح پر بعض کالعدم عسکریت پسند گروہوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ان کارروائیوں کے اعداد و شمار یا کامیابیوں کی تفصیل اس خبر میں موجود نہیں، اس لیے ان کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔
ایک اور متعلقہ خبر میں یہ بھی سامنے آیا کہ گورنر فیصل کریم کنڈی نے ڈپٹی کمشنروں کو گرفتاری اور حراست کے اختیارات دیے ہیں۔ یہ بات ایک مختلف خبر کی سرخی کے طور پر نظر آئی، اور اس کے قانونی دائرے، مدت اور نفاذ کی تفصیل دستیاب رپورٹوں میں نہیں، اس لیے یہ صرف ایک اضافی پس منظر ہے۔ تاہم اس سے اتنا ضرور اندازہ ہوتا ہے کہ ہنگامی حالت کے دوران انتظامی اختیارات میں تبدیلیاں بھی زیرِ بحث ہیں، اور یہ وہ شعبہ ہے جس کی نگرانی اور شفافیت شہریوں کے بنیادی حقوق کے لحاظ سے اہم رہے گی۔
آخر میں اصل سوالات سکیورٹی انتظامات سے آگے کے ہیں۔ کیا وزیراعظم کے دورے کے بعد صوبے کے لیے کسی واضح پالیسی یا ترقیاتی اعلان کی توقع پوری ہوگی؟ مشاورتی کونسل کا عملی کردار کیا ہوگا اور اس کی ساخت میں مقامی رہنماؤں کی نمائندگی کتنی ہوگی؟ گورنر راج کی مدت اور اس کے بعد کا سیاسی راستہ کیا ہوگا؟ اور سکیورٹی آپریشنز اور امن کی بحالی کے لیے مقامی آبادی کا اعتماد کیسے حاصل کیا جائے گا؟ ان سوالات کے جواب اجلاس کے بعد کے سرکاری اعلانات اور آنے والے ہفتوں کے اقدامات سے سامنے آئیں گے۔ تب تک اس دورے کو ایک اہم مصروفیت کے طور پر دیکھنا چاہیے، جس کے نتائج کا فیصلہ بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہوگا۔