راولپنڈی اسلام آباد میں موسلادھار بارش کے بعد نالہ لئی خطرناک حد تک بلند، آبادی کو نکلنے کی ہدایت

اسلام آباد/راولپنڈی: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں مسلسل تیز بارش کے باعث ایک بار پھر شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ شہر کے وسط سے گزرنے والا مشہور نالہ لئی خطرے کی سطح عبور کر گیا ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے اطراف کی آبادی کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

محکمہ آبپاشی اور ریسکیو ذرائع کے مطابق نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 22 فٹ سے بھی اوپر جا چکی ہے، جو کہ نالے کی معمول کی گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔ صورتحال کے پیش نظر نالے کے اطراف رہائشی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں تاکہ رہائشی بروقت خبردار ہو کر گھر خالی کر سکیں۔ ریسکیو ادارے کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور تمام متعلقہ عملہ فیلڈ میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

نالہ لئی سے متصل نشیبی بستیوں میں صورتحال سب سے زیادہ سنگین بتائی جا رہی ہے۔ صادق آباد اور ڈھوک الٰہی بخش جیسے گنجان آباد علاقوں میں سیلابی پانی رہائشی گھروں کے اندر تک پہنچ گیا، جس سے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ:

  • مری روڈ پر جگہ جگہ پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی
  • راول روڈ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس سے آمد و رفت محدود ہو گئی
  • گولڑہ کے علاقے میں بارش کی شرح سب سے زیادہ رہی، جہاں 113 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی

مقامی انتظامیہ اور واسا کا عملہ نکاسیِ آب کے لیے بھاری مشینری کے ساتھ فیلڈ میں سرگرم ہے تاکہ متاثرہ علاقوں سے جلد از جلد پانی نکالا جا سکے۔

صرف جڑواں شہر ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصے بھی حالیہ بارشوں کی زد میں ہیں۔ مقبوضہ جموں اور بالائی پہاڑی علاقوں میں ہونے والی موسلادھار بارشوں کے باعث شکر گڑھ کے نالہ بئیں میں پانی کا بہاؤ بڑھنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں درجن بھر سے زائد دیہات کی کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب گئیں، جس سے کاشتکاروں کو مالی نقصان کا اندیشہ ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ لاہور کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ اور گڈو بیراج کے مقامات پر فی الحال صرف نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ملک کے دیگر بڑے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق بتایا جا رہا ہے۔ تاہم محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر متعلقہ ادارے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں مون سون سیزن میں نالہ لئی میں پانی کی سطح ایک سے زائد بار بلند ہو چکی ہے۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران بھی کٹاریاں اور گوالمنڈی کے مقامات پر پانی 7 سے 9 فٹ کے درمیان ریکارڈ کیا گیا تھا، جسے انتظامیہ نے اس وقت "نچلے درجے کا سیلاب” قرار دیا تھا۔ تازہ بارش کے بعد پانی کی سطح میں ہونے والا یہ اضافہ رواں سیزن کی اب تک کی بلند ترین سطح ہے، جو شہریوں اور انتظامیہ دونوں کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) پہلے ہی راولپنڈی، اسلام آباد سمیت پنجاب کے متعدد اضلاع کے لیے شہری سیلاب اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا الرٹ جاری کر چکی ہے، جس میں شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

موجودہ صورتحال کے پیش نظر ماہرین اور امدادی ادارے شہریوں کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اپنانے کا مشورہ دے رہے ہیں:

  • نالہ لئی اور دیگر ندی نالوں کے قریب رہائشی افراد فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوں
  • سیلابی پانی یا تیز بہاؤ کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے عبور کرنے سے مکمل گریز کریں
  • زیرِ آب انڈرپاسز اور نشیبی سڑکوں کا استعمال نہ کریں
  • ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو یا واسا ہیلپ لائن سے رابطہ کریں
  • گھر میں ٹارچ، خشک خوراک، پینے کا پانی اور ابتدائی طبی امداد کا سامان تیار رکھیں

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال پر ہر لمحہ نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی اقدام کے لیے تمام ادارے تیار ہیں۔