پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ظلم ہے، حکومت مہنگائی کا بم برسا رہی ہے: چودھری ضمیر الحسن بھٹی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ظلم ہے، حکومت مہنگائی کا بم برسا رہی ہے: چودھری ضمیر الحسن بھٹی

مون سون بارشوں کے باوجود نالوں کی صفائی نہ ہونا تشویشناک ہے، حکومتی نمائندے فوٹو سیشن کے بجائے عملی اقدامات کریں، رکن پنجاب اسمبلی PP-38

حلقہ PP-38 سے رکن پنجاب اسمبلی چودھری ضمیر الحسن بھٹی نے کہا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب، مزدور اور محنت کش طبقے کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث عام شہری مہنگائی کی چکی میں مزید پستا جا رہا ہے، جبکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔

ANH News سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چودھری ضمیر الحسن بھٹی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ اشیائے ضروریہ، سبزیوں، پھلوں اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے ان پر مسلسل مہنگائی کے بم گرا رہی ہے۔

انہوں نے مون سون کی بارشوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بارشوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، لیکن حلقہ PP-38 میں برساتی نالوں اور نکاسیٔ آب کے راستوں کی مناسب صفائی تاحال مکمل نہیں کی گئی۔ گزشتہ سال بھی سیلاب اور شدید بارشوں کے باعث شہریوں، کسانوں اور تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا، مگر اس کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر اور مستقل منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔

چودھری ضمیر الحسن بھٹی نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب کے بعد حکومتی وفود متاثرہ علاقوں کے دورے تو کرتے ہیں، لیکن اکثر یہ دورے صرف فوٹو سیشن اور بیانات تک محدود رہتے ہیں۔ عوام کو نمائشی اقدامات کی نہیں بلکہ نکاسیٔ آب، نالوں کی صفائی، سیلاب سے بچاؤ اور متاثرین کی بحالی کے لیے حقیقی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ حلقہ PP-38 کے عوام کی مشکلات پر فوری توجہ دی جائے، تمام برساتی نالوں کی ہنگامی بنیادوں پر صفائی کروائی جائے اور ممکنہ سیلاب سے بچاؤ کے لیے مؤثر انتظامات کیے جائیں۔

چودھری ضمیر الحسن بھٹی نے کہا، “خدارا PP-38 کے عوام پر رحم کیا جائے اور انہیں مہنگائی، بارشوں اور سیلاب کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔”