گوجرانوالہ: معمولی جھگڑے پر ہم عمر بچوں کے تشدد سے 12 سالہ بچہ جاں بحق

گوجرانوالہ کے علاقے ڈیرہ شاہ جمال میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں 12 سالہ بچہ ہم عمر بچوں کے تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہو گیا۔ یہ واقعہ محلے کے بچوں کے درمیان معمولی نوعیت کے جھگڑے سے شروع ہوا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک جان لیوا سانحے میں تبدیل ہو گیا۔

پولیس کے مطابق مقتول بچے، لقمان اقبال، کا محلے میں مبینہ ملزمان سمیر اور ریحان سے کسی معمولی بات پر تکرار ہوئی تھی۔ جھگڑے کے دوران ملزمان نے شیشے کی بوتل توڑ کر اس کی نوک لقمان کے پیٹ میں مار دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ زخمی حالت میں اسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی شدت کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے ہی میں دم توڑ گیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لقمان کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈیڈ ہاؤس منتقل کر دیا۔ مقتول بچے کے اہلِ خانہ کے مطابق واقعے کو گھنٹوں گزر جانے کے باوجود دونوں ملزم بچے تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔ خاندان نے متعلقہ حکام سے ملزمان کی فوری گرفتاری اور بچے کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایسے واقعات میں جہاں ملزمان بھی کم سنی کی عمر میں ہوں، معاملہ خاص طور پر حساس اور پیچیدہ نوعیت اختیار کر جاتا ہے۔ پاکستان میں کم عمر مجرموں سے متعلق معاملات جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ کے تحت نمٹائے جاتے ہیں، جس میں عمر، ذہنی پختگی اور جرم کی نوعیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے کارروائی کی جاتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات میں تفتیش انتہائی احتیاط اور حساسیت کا تقاضا کرتی ہے، تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف بھی ملے اور کم عمر ملزمان کے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق بچوں کے درمیان معمولی جھگڑوں کا اس نوعیت کے سنگین اور جان لیوا نتائج تک پہنچنا ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جس کی جڑیں کئی بار گھریلو ماحول، سماجی دباؤ یا تشدد آمیز رویوں کی نقل میں پیوست ہوتی ہیں۔ ماہرین والدین اور اساتذہ پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کی نفسیاتی تربیت اور جذبات پر قابو پانے کی مہارت پر خصوصی توجہ دی جائے، تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کا سدِباب ممکن ہو سکے۔