دبئی: یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے تین جنوبی شہروں خمیس مشیط، ابہا اور طائف کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہو گئے جبکہ سات رہائشی مکانات اور دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ پیر کے روز حوثیوں نے شہری آبادیوں کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق حملوں میں زخمی ہونے والے تمام 13 افراد کو معمولی سے درمیانے درجے کی چوٹیں آئیں۔ سعودی سول ڈیفنس نے حملوں کے بعد ابہا، جدہ، جازان، طائف، ینبع اور العُلا سمیت متعدد شہروں کے لیے الرٹ جاری کیا اور حوثی کارروائیوں کو ’’شہری علاقوں پر گھناؤنے اور دانستہ حملے‘‘ قرار دیا۔
دوسری جانب حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے خمیس مشیط میں واقع شاہ خالد ایئربیس پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جس کا ہدف طیاروں کے ہینگرز، ریڈار سسٹمز، رن وے اور اسلحہ خانے تھے۔ حوثیوں کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی یمن پر سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی فضائیہ نے یمن کے پانچ صوبوں پر 54 حملے کیے تھے۔
ترکی المالکی نے کہا کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری، شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے مؤثر اور سخت ردعمل دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ممکنہ جوابی کارروائی اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے عین مطابق ہوگی۔ ان کے بقول اتحاد مزید حملوں کی روک تھام کے لیے تمام ضروری فوجی اقدامات کرے گا۔
یہ تازہ حملے ایسے وقت سامنے آئے جب حوثی باغی گزشتہ ہفتے کے اختتام پر موکا اور جزیرہ میون (پیریم) پر قبضہ کر کے یمن کے پورے بحیرہ احمر کے ساحل پر مکمل کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ جولائی کے اواخر میں حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا تھا، جبکہ حالیہ ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کو اپنی مشرق-مغرب پائپ لائن عارضی طور پر بند کرنا پڑی تھی۔ کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کے روز باب المندب آبنائے سے صرف 21 کموڈٹی بحری جہاز گزرے، جو گزشتہ روز کے 28 جہازوں کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔
خیال رہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی ایران، اسرائیل اور امریکا کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز، جو عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی روزانہ سپلائی کا تقریباً 20 فیصد لے جاتا ہے، میں بھی تجارتی جہاز رانی شدید متاثر ہو چکی ہے۔ ایران کی جنگ شروع ہونے سے قبل اس آبنائے سے یومیہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز گزرتے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حوثیوں کی حالیہ کارروائیاں خطے کی پہلے سے کشیدہ سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں، اور بحیرہ احمر و خلیجی خطے میں تجارتی و توانائی کی نقل و حرکت پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔