ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل کسی بھی رکن ملک پر حملے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ باہمی مشاورت کے بعد مشترکہ ردعمل کا فیصلہ کریں گے۔ ان کا یہ بیان عرب ٹی وی کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو کے دوران سامنے آیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق معاہدے میں شامل کسی ایک ملک پر جارحیت کی صورت میں تمام تینوں ممالک حالات کا مشترکہ جائزہ لینے کے بعد ردعمل کا لائحہ عمل طے کریں گے، اور اسی فیصلے کی روشنی میں عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے پر عمل درآمد کا حتمی طریقہ کار عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا، کیونکہ فوجی و سکیورٹی نوعیت کی حساس معلومات خفیہ رکھنا لازمی امر ہے۔ خیال رہے کہ مکہ معاہدہ دراصل ستمبر 2025ء میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان الیمامہ محل ریاض میں طے پانے والے دو طرفہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کی جگہ لے چکا ہے، جس میں اب ترکیہ کی شمولیت سے وسعت پیدا کی گئی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے زور دے کر کہا کہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا انتظام ہے، جس میں کوئی جارحانہ پہلو شامل نہیں۔ ان کے مطابق تینوں ممالک دنیا میں موجود دیگر دفاعی معاہدوں کی طرح ایک دوسرے کو باہمی تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں، اور یہ معاہدہ ان ممالک کے دیگر آزادانہ بین الاقوامی تعلقات یا اتحادوں کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون انتظام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے پر کسی بھی جانب سے تاحال کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔
بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت اپنی عسکری صلاحیت میں اضافے کے لیے وسیع وسائل خرچ کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا بنیادی مقصد صرف ملکی دفاع ہے، نہ کہ اسلحے کی دوڑ میں شمولیت۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا، تاہم اسے اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل بھروسا ہے، اور وہ نہ صرف مؤثر دفاع بلکہ جارحیت کی صورت میں مؤثر جوابی کارروائی اور سزا دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
قومی سیاسی اور عسکری اہداف کے تعین سے متعلق سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ملکی سیاسی مقاصد کا تعین سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اور فوج و ریاست کے مقاصد الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی سمت میں کارفرما ہیں۔
افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں افغان سرزمین پر درجنوں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان حکومت ایسے عناصر کی سرپرستی کر رہی ہے جو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں، اور پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ افغان سرزمین کسی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ ماضی میں بھی پاکستانی حکام یہ مؤقف دہراتے رہے ہیں کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پورا افغانستان کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے لیے ’’ایک بڑی محفوظ پناہ گاہ‘‘ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا دونوں ہی غیر معمولی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران خلیجی ممالک کو اسرائیلی و ایرانی کارروائیوں کا سامنا رہا، جبکہ پاکستان کو مشرقی سرحد پر بھارت اور مغربی سرحد پر افغانستان سے جڑے سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔ اسی تناظر میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان یہ سہ فریقی دفاعی اتحاد خطے میں اجتماعی سلامتی کے ایک نئے نظام کی بنیاد رکھنے کی کوشش تصور کیا جا رہا ہے۔