مکہ مکرمہ: خانہ کعبہ کی سالانہ غسلِ کعبہ کی مقدس اور روح پرور تقریب آج نمازِ فجر کے بعد منعقد کی جائے گی، جس میں سعودی عرب کی اعلیٰ شخصیات، حرمین شریفین کے ذمہ داران اور منتخب مہمان شرکت کریں گے۔ یہ بابرکت روایت صدیوں سے عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے غیرمعمولی روحانی اہمیت رکھتی ہے۔
غسلِ کعبہ کے دوران بیت اللہ کے اندرونی حصے کو آبِ زم زم، عرقِ گلاب اور اعلیٰ معیار کے عود و خوشبوؤں سے تیار کیے گئے خصوصی محلول سے صاف کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے بعد خانہ کعبہ کے اندرونی حصے کو معطر کیا جاتا ہے، جس سے روح پرور ماحول مزید دلکش بن جاتا ہے۔
اس مقدس تقریب میں مکہ مکرمہ کے گورنر کے نمائندے، سعودی حکام، ائمہ حرم، سفارتی شخصیات اور دیگر خصوصی مہمان شریک ہوتے ہیں۔ تقریب نہایت منظم انداز میں انجام دی جاتی ہے اور اس کے تمام مراحل سعودی حکام کی نگرانی میں مکمل کیے جاتے ہیں۔
اسلامی تاریخ کے مطابق غسلِ کعبہ کی روایت امتِ مسلمہ کے لیے احترامِ بیت اللہ، طہارت اور روحانی وابستگی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ اس تقریب میں شرکت صرف محدود افراد کو حاصل ہوتی ہے، تاہم دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان سرکاری نشریات اور میڈیا کے ذریعے اس بابرکت منظر کو دیکھتے ہیں اور اس موقع پر خصوصی دعاؤں کا اہتمام کرتے ہیں۔
ماہرینِ اسلامیات کا کہنا ہے کہ غسلِ کعبہ صرف ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے اتحاد، عقیدت اور اللہ تعالیٰ کے گھر سے محبت کے جذبات کو تازہ کرنے کا ایک اہم موقع بھی ہے۔ ہر سال اس تقریب کا دنیا بھر میں بے چینی سے انتظار کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ اسلامی روایات اور مقدس شعائر کے احترام کی خوبصورت مثال ہے۔