تہران: ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ جامع معاہدے سے متعلق زیر گردش خبروں پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ابھی تک کسی حتمی معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز نہیں کیا گیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے مختلف سطحوں پر جاری ہیں، تاہم ابھی ایسا کوئی مرحلہ نہیں آیا جہاں جامع یا حتمی معاہدے پر باقاعدہ بات چیت ہو رہی ہو۔
ترجمان کے مطابق حالیہ سفارتی روابط کو مکمل مذاکراتی عمل قرار دینا درست تاثر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جاری رابطوں کا مقصد مختلف امور پر تبادلہ خیال ہے، جبکہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے باقاعدہ مذاکرات ابھی شروع نہیں ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں مذاکرات کی سمت کا تعین دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے آئندہ سفارتی رابطوں، باہمی اعتماد اور مشترکہ فیصلوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی سرگرمیوں، تکنیکی سطح پر ملاقاتوں اور ممکنہ مفاہمت سے متعلق مختلف خبریں سامنے آ رہی تھیں۔ ان اطلاعات کے بعد ایران نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ خاص طور پر جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر کسی جامع معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات کا عمل تاحال شروع نہیں ہوا۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران کا حالیہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے ضرور برقرار ہیں، لیکن کسی بڑے معاہدے تک پہنچنے سے قبل اعتماد سازی، مزید مشاورت اور کئی سفارتی مراحل ابھی باقی ہیں۔
ایران اور امریکا مذاکرات: آگے کیا ہو سکتا ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت جاری رہی تو جامع مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں کسی حتمی معاہدے یا اس کی ٹائم لائن کے بارے میں حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔