آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ سے قبل ایران کا سخت مؤقف، کسی بھی حملے پر بھرپور ردعمل کا انتباہ

اگر نمازِ جنازہ یا تدفین کی تقریبات کے دوران کسی بھی قسم کی جارحیت یا حملے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔

ایرانی حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ عناصر کسی بھی اقدام سے قبل اس کے ممکنہ نتائج کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، کیونکہ ایران اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور مذہبی شخصیات کے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

بیان کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ملک کے لیے نہایت حساس مرحلہ ہیں، اسی لیے مسلح افواج، سیکیورٹی اداروں اور دیگر متعلقہ حکام کو مکمل طور پر ہائی الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ تقریبات کے دوران امن و امان برقرار رہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ نمازِ جنازہ کل تہران میں ادا کی جائے گی، جہاں مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ سرکاری شخصیات، مذہبی رہنما اور دنیا کے لگ بھگ 100 ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔

سرکاری منصوبے کے مطابق نمازِ جنازہ کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو پہلے قم، پھر نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جس کے بعد دوبارہ ایران واپس لا کر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق آخری رسومات اور جلوسِ جنازہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کا امکان ہے، جس کے پیش نظر تہران سمیت ملک بھر میں غیرمعمولی سیکیورٹی انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں اور حساس مقامات پر اضافی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

سیاسی و دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا تازہ بیان موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی تیاری کا عکاس ہے۔ ان کے مطابق حکام کی اولین ترجیح یہ ہے کہ نمازِ جنازہ اور تدفین کی تمام تقریبات پرامن ماحول میں مکمل ہوں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سک