حنا جاوید قتل کیس: اہلخانہ کا مریم نواز کو کھلا خط، جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ اور متضاد دعوؤں کی پوری تصویر

راولپنڈی میں پینتالیس سالہ حنا جاوید کے قتل کے مقدمے میں مقتولہ کے اہلخانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے نام کھلا خط لکھ کر فوری طور پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں خاندان نے پولیس کی انویسٹی گیشن کمیٹی کے نتائج مسترد کر دیے ہیں اور الزام لگایا ہے کہ فرانزک رپورٹس اور فنگر پرنٹس کے نتائج آنے سے پہلے ہی تفتیش کا رخ گھریلو ملازم کی طرف موڑ دیا گیا، جبکہ دیگر نامزد افراد سے متعلق شواہد نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی حساس مقدمہ ہے، جس میں متضاد دعوے، ڈی این اے کی رپورٹیں، سرکاری کمیٹی کے نتائج اور خاندان کے اعتراضات ایک ساتھ چل رہے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد کسی کو قصوروار یا بے گناہ قرار دینا نہیں، کیونکہ یہ فیصلہ عدالت کا ہے، بلکہ دستیاب رپورٹوں کی روشنی میں یہ سمجھانا ہے کہ اب تک کیا کہا گیا ہے اور کس نے کہا ہے۔

واقعے کے بنیادی حقائق یہ ہیں کہ رپورٹوں کے مطابق حنا جاوید کی لاش 20 اگست 2026 کو راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں عسکری اپارٹمنٹس کے ایک فلیٹ کے غسل خانے سے ملی۔ ایک رپورٹ کے مطابق وہ نومبر 2025 میں فیصل اصغر امام سے رشتۂ ازدواج میں بندھی تھیں۔ ان کے بھائی فہد جاوید ملک نے مقدمہ درج کرایا اور بتایا کہ سسر کی صبح سویرے ایک ہنگامی کال کے بعد خاندان وہاں پہنچا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ لاش کے ہاتھ پیچھے بندھے تھے، منہ بندھا ہوا تھا اور گلے میں تار لپٹی ہوئی تھی۔ مقدمہ تھانہ سول لائنز میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 اور 34 کے تحت درج ہوا، جس میں شوہر فیصل اصغر، اس کے والد اصغر علی فیاض اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد کو نامزد کیا گیا۔ خاندان کے مطابق سسرال والوں نے ابتدا میں چوری کی واردات بتائی تھی، جبکہ عسکری ولاز کے محافظوں نے بتایا کہ زبردستی داخلے کے کوئی نشان نہیں تھے، اور بعد میں گھر والوں نے کہا کہ ملازم نے چوری کی کوشش میں قتل کیا۔ خاندان کے مطابق کوئی چیز چوری نہیں ہوئی تھی اور حنا نے سونے کی چوڑیاں پہن رکھی تھیں۔ یہ سب خاندان اور ایف آئی آر کا بیان ہے، اور آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوا۔

تحقیقات کی ابتدائی پیش رفت کے دوران 28 اگست کو راولپنڈی پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملازم نے اعتراف کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے حوالے سے اس کے تین مختلف بیان بتائے گئے: پہلے اس نے کہا کہ قتل کا منصوبہ فیصل کے ساتھ مل کر بنایا گیا، پھر خود ذمہ داری قبول کی، اور باقاعدہ تفتیش میں کہا کہ جھگڑے کے دوران اسے بلایا گیا۔ عدالت میں تفتیشی افسر نے کہا کہ شوہر تفتیش میں مکمل تعاون نہیں کر رہا۔ ڈی این اے اور پولی گراف ٹیسٹ کروائے گئے اور موت کی حتمی وجہ مکمل پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹوں کے بعد بتانے کی بات کہی گئی۔ ستمبر کے آخر میں پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر تین رکنی کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کر رہے ہیں اور اس میں ڈی آئی جی لاہور شعیب خرم جنباز اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن راولپنڈی سیف اللہ شامل ہیں۔ اس وقت شوہر اور ملازم دونوں اڈیالہ جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔

اکتوبر کے وسط میں اس کمیٹی کے نتائج سامنے آئے، اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر خاندان نے شدید اعتراض کیا۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے نتیجہ نکالا کہ حنا کو ملازم ذیشان ارشد نے قتل کیا اور شوہر اس میں ملوث نہیں تھا۔ چٹھہ کے مطابق ملازم کا ڈی این اے 15 اشیا سے جوڑا گیا، جن میں ناخنوں کے نیچے سے ملنے والے نمونے بھی شامل ہیں، اور فرانزک شواہد سے ایک اور سنگین الزام بھی سامنے آیا ہے، جس کی تفصیل کا یہاں ذکر مناسب نہیں۔ کمیٹی کے سربراہ نے شوہر کو "اس کیس میں متاثرہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف کوئی قابلِ الزام شواہد نہیں ملے، اور یہ بھی کہا کہ اسے برین کینسر ہے جس کی وجہ سے جرم کرنا جسمانی طور پر مشکل ہوتا۔ ان کے مطابق شوہر کا ڈی این اے دروازے کے ہینڈل اور کنڈی پر پہلے کے رابطے کی وجہ سے ہو سکتا ہے، اور پولی گراف ٹیسٹ نے یہ نتیجہ مضبوط کیا کہ ملازم اکیلا ملوث تھا جبکہ شوہر اور اس کے والد سچے پائے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کوئی ثابت شدہ محرک، میاں بیوی میں کسی سابقہ تنازع یا فلیٹ میں شوہر کی موجودگی کی کوئی علامت نہیں ملی۔ ملازم کے بیانات بھی مسلسل بدلتے رہے: پہلے دو ڈاکوؤں کا ذکر، پھر شوہر کی طرف سے ایک لاکھ روپے کی پیشکش، پھر اکیلے قتل کا اعتراف، اور بعد میں جوڈیشل کسٹڈی میں شوہر کی طرف سے بندوق کے زور پر مجبور کرنے کا الزام۔

اس کے مقابل خاندان کا موقف مختلف ہے۔ فہد جاوید نے کہا کہ ان کے مطابق ڈی این اے نے شوہر فیصل کو چار مقامات سے جوڑا ہے، جن میں حنا کا گلا، بستر کی چادر اور دروازے کا تالا شامل ہیں، اور سسر کا ڈی این اے بھی گلے پر ملا۔ ان کا جملہ تھا کہ "قاتل جھوٹ بول سکتا ہے، ڈی این اے جھوٹ نہیں بولتا۔” وہ پوچھتے ہیں کہ پھر پولیس نے شوہر کو بری کیوں کیا اور چالان میں اس کا نام کیوں نہیں رکھا۔ ڈی این اے میں مماثلت کا مطلب کیا ہے، یہ ایک فنی سوال ہے: شوہر کے لیے اس کا اپنے گھر کے دروازے یا بستر سے ڈی این اے ملنا فطری بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ کمیٹی کے سربراہ نے کہا، جبکہ گلے پر ملنے والا ڈی این اے زیادہ سنگین سوال ہے۔ ان دونوں باتوں کے بارے میں فیصلہ عدالت میں فرانزک ماہرین کے بیانات اور جرح کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ دونوں دعوے سرکاری یا خاندان کے ہیں، اور فرانزک رپورٹوں کا مکمل متن عوامی طور پر دستیاب نہیں۔

اہلخانہ کے کھلے خط میں اور ان کے دوسرے بیانات میں کچھ اور اعتراضات بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حنا اور ملزمان کے موبائل فونز کی فرانزک رپورٹس ابھی زیر التوا ہیں، اور حنا کے فون سے اہم پیغامات ڈیلیٹ کیے گئے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق حنا کی بہن نادیہ کے پاس ازدواجی مشکلات سے متعلق ٹیکسٹ اور صوتی پیغامات تھے جو مبینہ طور پر تفتیش میں ریکارڈ نہیں ہوئے، اور ایک گواہ سے حنا کے اس خوف کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں کی گئی کہ فیصل اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ خاندان کے مطابق فیصل کے ایک رشتہ دار نے فرانزک نتائج آنے سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ نتیجہ ذیشان کے خلاف آئے گا۔ فہد جاوید کے مطابق حنا کی گردن، جبڑے اور کہنیوں پر چوٹوں کے نشانات تھے۔ خاندان نے طلاق کی درخواست اور شوہر کے تشدد کے الزامات کی بات بھی کی ہے۔ ایک رپورٹ میں حنا کی کزن نے یہ تسلیم کیا کہ قتل سے پہلے جسمانی تشدد کا کوئی ثبوت خاندان کے پاس نہیں تھا، مگر انھوں نے شوہر کو تند مزاج قرار دیا۔ یعنی خاندان کے الزامات میں بعض قطعی دعوے ہیں اور بعض ایسے ہیں جن کے ثبوت خود انھوں نے تسلیم کیے کہ دستیاب نہیں۔ یہ فرق اہم ہے۔

دوسری طرف ملزم ملازم کے والدین نے بھی اپنا موقف دیا ہے۔ ان کے والد نے کہا کہ ان کا بیٹا بے قصور ہے اور اسے پھنسایا جا رہا ہے، جبکہ ماں نے الزام لگایا کہ تھانے کے ایس ایچ او نے اس پر تشدد کیا اور لالچ سے دباؤ ڈالا گیا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق والدین نے کہا کہ بیٹے نے حملہ تو کیا مگر اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا، جس سے دوسرے ملوث افراد کا امکان نکلتا ہے۔ یہ بھی غیر مصدقہ دعوے ہیں۔ ان کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ مقدمے کا ہر فریق اپنی کہانی بیان کر رہا ہے، اور کسی ایک فریق کے الزامات کو دوسرے کی تردید کے بغیر دہرانا صحافتی توازن کے خلاف ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کے ایک ٹویٹ کا بھی ذکر ملتا ہے، جس کے مطابق ڈی این اے اور پولی گراف کے نتائج ملازم کی طرف اشارہ کرتے ہیں مگر تحقیقات جاری ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہ بیان پولیس کے اس ابتدائی بیانیے کی تصحیح کے طور پر دیکھا گیا جس میں چالان سے پہلے ہی شوہر کو بے گناہ قرار دیا گیا تھا۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ چالان سے پہلے کسی کو بری قرار دینا تفتیشی مرحلے میں غیر معمولی بات ہے، اور فیصلہ عدالت کا اختیار ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے 29 اکتوبر کو خصوصی اجلاس بلایا ہے جس میں ایڈیشنل آئی جی، آر پی او راولپنڈی، ایس ایس پی انویسٹی گیشن اور مقتولہ کے اہلخانہ کو طلب کیا گیا ہے تاکہ تفتیش، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ، پولی گراف اور جائے وقوعہ کا جائزہ لیا جائے۔ خاندان نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور فیلڈ مارشل سے بھی آزاد انکوائری کی اپیل کی ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ ڈی این اے، فنگر پرنٹس، فون اور لیپ ٹاپ کی مکمل فرانزک رپورٹیں انھیں فراہم کی جائیں اور ایف آئی آر کے تینوں نامزد افراد چالان میں شامل ہوں۔

جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کیا معنی رکھتا ہے؟ جوڈیشل کمیشن عام طور پر کسی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں بنتا ہے اور اسے شواہد طلب کرنے، گواہوں کے بیانات لینے اور آزادانہ نتائج پیش کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ یہ فوجداری مقدمے کی عدالتی کارروائی کا متبادل نہیں، بلکہ اس تفتیشی عمل کے معیار اور غیر جانبداری کا جائزہ لینے کا ذریعہ ہے۔ خاندان کی دلیل یہ ہے کہ پولیس اور اس کی بنائی ہوئی کمیٹی دونوں ایک ہی نظام کا حصہ ہیں، اس لیے آزادانہ جانچ ضروری ہے۔ حکومت اور پولیس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ چالان اور عدالت کا فورم موجود ہے، جہاں فرانزک شواہد پر جرح ہوگی۔ دونوں نقطۂ نظر قابلِ فہم ہیں، اور اسی لیے آنے والے دنوں میں اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا کوئی آزاد فرانزک جائزہ ممکن ہو سکتا ہے جس پر دونوں فریق اعتماد کر سکیں۔

عوامی سطح پر یہ مقدمہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا کہ #JusticeForHinaJaved کے عنوان سے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل آیا اور شفاف تحقیقات کے مطالبے اٹھے۔ ایسے ماحول میں افواہیں بھی پھیلتی ہیں۔ ایک وائرل پوسٹ میں شوہر پر ایک یونیورسٹی کی طالبات کو برسوں ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، مگر رپورٹ میں اسے غیر مصدقہ قرار دیا گیا۔ قارئین کو چاہیے کہ ایسے دعوؤں کو بغیر ثبوت آگے نہ بڑھائیں، کیونکہ اس سے نہ صرف مقدمہ متاثر ہو سکتا ہے بلکہ ملزمان یا ان کے اہلخانہ پر ناحق دباؤ بھی بڑھتا ہے۔

آخر میں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ فی الوقت دونوں نامزد افراد، شوہر فیصل اصغر امام اور ملازم ذیشان ارشد، قانونی طور پر ملزم ہیں، مجرم نہیں۔ قانون کا بنیادی اصول ہے کہ جرم ثابت ہونے تک ہر شخص بے گناہ ہے۔ دوسری طرف مقتولہ کے اہلخانہ کا حق ہے کہ انھیں شفاف تحقیقات اور مکمل فرانزک رپورٹوں تک رسائی ملے۔ ان دونوں حقوق کے درمیان توازن اسی صورت قائم ہو سکتا ہے جب تفتیش آزاد، شواہد محفوظ اور مقدمہ کھلی عدالت میں چلے۔ اگلے ہفتے کی پارلیمانی کمیٹی کی سماعت، چالان کی تفصیل اور ممکنہ جوڈیشل کمیشن کے فیصلے سے یہ واضح ہوگا کہ مقدمہ کس سمت جا رہا ہے۔ تب تک رپورٹوں کو حتمی فیصلہ سمجھنے کے بجائے ہر فریق کے دعوے کے طور پر پڑھنا چاہیے۔